Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 110 of 134
جب امام باقرص نے حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہماسے محبت کا اظہار کیا تو کسی نے کہا، لوگوں کا خیال ہے کہ آپ یہ بات تقیہ کے طور پر کہہ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا، زندوں سے ڈرا جاتا ہے نہ کہ مُردوں سے۔ اللہ تعالیٰ ہشام بن عبدالملک کے ساتھ اس طرح سلوک کرے۔
پھر امام ابن حجررحمہ اللہ لکھتے ہیں، اس جلیل القدر امام نے ہشام کے لیے بددعا کر کے منحوس تقیہ کا باطل ہونا واضح کیاکیونکہ ہشام آپ کے زمانے کا طاقت وشوکت والا بادشاہ تھا۔ جب آپ اس سے نہیں ڈرے جس کی حکومت وشوکت اور قوت وقہر سے لوگ ڈرتے تھے تو آپ ان سے کیسے ڈر وخوف رکھتے جو وصال پا چکے تھے اور جنہیں ظاہری طور پرحکومت و اقتدار بھی حاصل نہیں تھا۔
جب امام باقرص کا یہ حال ہے تو حضرت علی صکے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جبکہ ان کے اور امام باقرص کے درمیان قوت وشجاعت، کثرتِ تعداد وتیاری اور سخت جنگ کرنے میں کوئی نسبت ہی نہیں۔ وہ اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے تھے۔
حق یہی ہے کہ سیدنا علی صسے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ آپ نے حضرات شیخین رضی اللہ عنہما کی مدح وثناء فرمائی ہے اور انہیں امت میں افضل ترین قرار دیا ہے۔()
سبائی فتنہ کی ابتدا:
ابن عساکر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ عبداللہ بن سبا ایک یمنی سیاہ فام لونڈی کا بیٹاہے۔ یہ یہودی تھا،اس نے اپنا اسلام ظاہر کر کے مسلمانوں میں شر وفساد پھیلانے کے لیے کئی شہروں کے دورے کیے۔
علماء کہتے ہیں،یہ اپنی یہودیت کے زمانے میں یوشع بن نون ںکے بارے میں غلو کرتے ہوئے کہا کرتا تھا کہ وہ حضرت موسیٰ ںکے وصی ہیں۔ اسلام ظاہر کر کے اسی قسم کی بات یہ حضرت علیص کے بارے میں کہنے لگا کہ وہ حضور ﷺ کے وصی ہیں۔ یہ پہلا شخص ہے جس نے یہ مشہور کیا کہ حضرت علیص کی امامت کا عقیدہ رکھنا فرض ہے ۔ اس نے حضرت علیصکے مخالفین پر اعلانیہ تبرا کیا اور ان کو کافر کہا۔
حافظ ابن حجر مکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علیص سے عرض کیا گیا کہ بعض لوگوں نے سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو اس لیے برا کہنے کی جرأت کی ہے کہ وہ اس معاملے میں آپ کو اپنا ہم خیال سمجھتے ہیں۔یہ نظریہ رکھنے والوں میں عبداللہ بن سبا بھی ہے جس نے سب سے پہلے اس خیال کا اظہار کیا تو حضرت علیص نے فرمایا،
’’میں ان کے متعلق اپنے دل میں ایسے خیالات رکھنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں۔ جو شخص ان کے متعلق خوبی اور اچھائی کے سوا کوئی اور بات اپنے دل میں پوشیدہ رکھتا ہو، اس پر اللہ کی لعنت ہو‘‘۔
پھر آپ نے ابن سبا کو شہر بدر کر کے مدائن کی طرف بھیج دیا۔ائمہ کہتے ہیں کہ ابن سبا یہودی تھا جس نے اسلام ظاہر کیا تھا۔ یہ روافض کے گروہ کا بڑا راہنما تھا۔ ان لوگوں کو حضرت علیص نے اس وقت شہر بدر کیا جب انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ حضرت علیص میں اُلوہیت پائی جاتی ہے۔()
ابوالجلاس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علیص کو ابن سبا سے یہ فرماتے ہوئے خود سنا کہ ’’اللہ کی قسم! مجھے رسول کریم ﷺنے کوئی ایسی راز کی بات نہیں بتائی جس کو کسی سے چھپایا ہو ، اور میں نے آقا ومولیٰ ا کا یہ ارشاد خود سنا کہ قیامت سے پہلے تیس جھوٹے دجال ہونگے، تُو بھی انہی میں سے ایک ہے‘‘۔()
امام دارقطنی رحمہ اللہنے ایک طویل روایت تحریر کی ہے جس کے آخر میں ہے کہ حضرت علی ص نے منبر پر بیٹھ کر حضرات شیخین رضی اللہ عنہما کی مدح وثناء فرمائی اور آخر میں فرمایا،
’’اُس ذات کی قسم جو دانے کو پھاڑتا اور جان کو پیدا کرتا ہے، ان دونوں سے صاحبِ فضیلت مومن محبت کرتا ہے جبکہ بدبخت اور دین سے نکل جانے والا ان سے بغض اور مخالفت رکھتا ہے‘‘۔
Share:
keyboard_arrow_up