Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 111 of 134
بعض روایات کے مطابق یہ بھی فرمایا،’’لوگو سن لو! اگر مجھے یہ اطلاع پہنچی کہ فلاں شخص مجھے حضراتِ شیخین پر فضیلت دیتا ہے تومیں اسے بہتان لگانے والے کی حد یعنی اَسّی (۸۰) دُرے لگاؤں گا‘‘۔()
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ابن سبا نے:
اولاً: لوگوں کو حضرت علیص کو سب سے افضل جاننے کی دعوت دی۔
ثانیاً:صحابہ اور خلفائے راشدین کو کافرومرتد قرار دینے کی بات کی۔
ثالثاً:لوگوں کو حضرت علی صکے خدا ہونے کی دعوت دی۔
اس نے اپنے پیروؤں میں سے ہر ایک کو اس کی استعداد کے مطابق اغوا واضلال کے جال میں پھانسا۔ پس وہ علی الاطلاق رافضیوں کے تمام فرقوں کا مقتدا ہے۔()
سیدنا امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما آ قا ومولیٰ اکے صحابی، اُمُّ المؤمنین سیدہ اُ مِّ حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی اور کاتبِ وحیٔ الٰہی ہیں۔۷ھ میں اسلام قبول کیا مگر اپنے والدین کے خوف سے اپنے اسلام کو مخفی رکھا۔ ۸ ھ میں فتحِ مکہ کے بعد جب آپ کے والدین اسلام لے آئے تو آپ نے بھی اپنے اسلام کا اظہار کر دیا۔آپ رسول کریم ﷺ کی قیادت میں غزوۂ حنین میں شریک ہوئے۔
حضرت معاویہ صبارگاہِ نبوی میں وحی کی کتابت اور خطوط کی کتابت کا فریضہ انجام دیا کرتے تھے۔آپ سے ایک سو تریسٹھ (۱۶۳) احادیث مروی ہیں۔ سیدناابن عباس، ابن عمر، ابن زبیر اور دیگر صحابہ وتابعین کرام ث آپ سے احادیث روایت کرتے ہیں۔امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ کی راویوں کے متعلق سخت شرائط ہیں، انہوں نے بھی آ پ سے صحیحین میں کئی احادیث روایت کی ہیں۔
حضرت عرباض بن ساریہص سے روایت ہے کہ میں نے سرکارِ دوعالم ا کو یہ فرماتے سنا، الہٰی! معاویہ کو حساب کتاب سکھا دے اور اس کو عذاب سے محفوظ رکھ۔ ()
آپ فہم وتدبر،علم ودانائی اور صبر وتحمل میں بڑے مشہور تھے۔ایک بارحضور ﷺ نے آپ کے لیے یہ دعا فرمائی، ’’اے اللہ ! معاویہ کو ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت عطا فرما‘‘۔() (ترمذی)یہ حدیث حسن ہے۔
حضرت امیر معاویہ ص فرماتے ہیں کہ ایک دن غیب جاننے والے آقا ومولیٰ ا نے مجھ سے فرمایا، اے معاویہ جب تجھے کسی جگہ کا حاکم بنایا جائے تو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور عدل وانصاف پر قائم رہنا۔ مجھے اس وقت سے یقین ہو گیا تھاکہ مجھے حکومت کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔()
حضرت معاویہ ص کا ارشاد ہے کہ مجھے خلافت ملنے کی اس وقت سے امید پیدا ہوگئی تھی جب آقا ومولیٰ انے مجھ سے فرمایا تھا کہ’’ اے معاویہ! جب تم بادشاہ بن جاؤ تولوگوں سے اچھی طرح پیش آنا‘‘۔()
سیدنا ابوبکر صنے اپنے دورِ خلافت میں دمشق فتح ہونے کے بعد وہاں کا گورنر آپ کے بڑے بھائی حضرت یزید بن ابوسفیان ص کو مقرر کیا۔ ان کے انتقال کے بعد سیدنا عمر صنے حضرت معاویہ ص کو ان کی جگہ گورنر بنا دیا۔بعد میں حضرت عثمان ص نے اپنے دورِ خلافت میں آپ کو پورے شام کا گورنر بنا دیا۔ آپ کی حکمرانی کا عرصہ شمار کیا جائے تو ۱۷ ھ سے ۶۰ ھ تک تینتالیس سال آپ نے کامیاب حکومت کی ہے۔
سیدنا عثمان صکی شہادت کے بعد جب سیدنا علیص خلیفہ ہوئے تو حضرت امیر معاویہ ص نے ان سے حضرت عثمان ص کے قصاص کا مطالبہ کیا۔
علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ابومسلم خولانی صکچھ لوگوں کے ہمراہ حضرت معاویہ صکے پاس گئے اور ان سے دریافت کیا، آپ علیصسے جنگ کررہے ہیں، کیا آپ خود کو ان کے ہم رتبہ سمجھتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا،
Share:
keyboard_arrow_up