خدا کی قسم! مجھے یقین ہے کہ حضرت علیص مجھ سے افضل وبرتر ہیں اور میری نسبت حکومت وخلافت کے زیادہ مستحق ہیں۔ مگر کیا تم نہیں جانتے کہ حضرت عثمان ص ظلم سے شہید کیے گئے اور میں ان کا چچا زاد ہوں ۔ میں ان کا ولی اور ان کے خون کے قصاص کا طالب ہوں۔ حضرت علیص سے عرض کرو کہ وہ حضرت عثمان ص کے قاتلوں کو میرے حوالے کر دیں، میں فوراً ان سے بیعت کر لوں گا۔()
معلوم ہوا کہ سیدنا معاویہص کو سیدنا علی صکی خلافت سے کوئی اختلاف نہیں تھا۔
شریح بن عبید صسے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت علیص سے کہا، اے امیر المؤمنین !اہلِ شام پر لعنت کیجیے۔ یہ سنتے ہی حضرت علی ص نے فرمایا، اہلِ شام پر لعنت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ میں رسول کریم ﷺکو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ شام میں ابدال ہیں۔ ()
سیدنا عمر فاروق صسے روایت ہے کہ حضور اکرم نورِ مجسم انے فرمایا، میں نے ایک نورکا ستون دیکھا جو میرے سر کے نیچے سے نکل کر بلند ہوتا ہوا ملک شام پر جا کر ٹھہر گیا۔ ()
حضرت ابوہریرہ صسے روایت ہے کہ آقاومولیٰ انے فرمایا، خلافت مدینہ منورہ میں اور بادشاہت شام میں ہو گی۔ ()
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں،
حضرت امیر معاویہص تو اول ملوکِ اسلام اور سلطنتِ محمدیہ ا کے پہلے بادشاہ ہیں۔ اس کی طرف توراتِ مقدس میں بھی اشارہ ہے کہ : مولدہٗ بمکۃ ومھاجرہٗ طیبۃ وملکہٗ بالشام۔’’ وہ نبی آخر الزماں ا مکہ میں پیدا ہو گا اور مدینہ کو ہجرت فرمائے گا اور اس کی سلطنت شام میں ہو گی‘‘۔تو امیر معاویہصکی بادشاہی اگرچہ سلطنت ہے مگر کس کی؟ محمد رسول اللہ ﷺ کی۔ ()
عروہ بن رُوَیم صسے روایت ہے کہ ایک اعرابی بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوا اور کہنے لگا، اے محمدا! مجھ سے کشتی لڑو۔ اس پر حضرت معاویہ ص نے اس سے کہا، میں تجھ سے کشتی لڑوں گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، معاویہ کبھی مغلوب نہ ہو گا۔چنانچہ کشتی ہوئی اور معاویہص نے اسے پچھاڑ دیا۔ جب جنگِ صفین ہو چکی (تو عروہ صنے یہ بات بتائی) اس پر حضرت علیص نے عروہ سے فرمایا،اگر تو اس حدیث کو مجھ سے ذکر کر دیتا تو میں معاویہ سے جنگ نہ کرتا۔ ()
جنگِ صفین سے واپسی پر سیدنا علیص نے فرمایا، اے لوگو! تم معاویہ کی حکومت کو ناپسند نہ کرو۔ یاد رکھو ! اگر تم نے معاویہ کو کھو دیا تو تم دیکھو گے کہ لوگوں کے کندھوں سے ان کے سر اس طرح گریں گے جیسے اندرائن کے پھل گرتے ہیں۔()
حضرت علی صجنگِ صفین کے دن اپنے ہونٹ چبا رہے تھے کہ اگر میں جان لیتا کہ صورتِ حال ایسی ہو جائے گی تو میں جنگ کے لیے نہ نکلتا۔()
حضرت مغیرہ صفرماتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہص کے پاس جب سیدنا علی المرتضیٰص کی شہادت کی خبر پہنچی تو آپ زاروقطار رونے لگے۔ آپ کی اہلیہ نے کہا،زندگی میں تو آپ ان سے لڑتے رہے ہیں ، اب ان کی شہادت کی خبر سن کر رو کیوں رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا، کاش تمہیں معلوم ہوتا کہ اس امت نے آج کس قدر عظیم علم وفضل اور فقہ کو کھو دیا ہے۔ ()
سیدنا علی صکی شہادت کے بعد سیدنا امام حسن صچھ ماہ خلیفہ رہے۔اگر چاروں خلفائے راشدین کی خلافت کی مدت کو جمع کیا جائے تو یہ ساڑھے اُنتیس سال کا عرصہ بنتا ہے اور اگر اس میں حضرت حسنص کی خلافت کا عرصہ یعنی چھ ماہ بھی جمع کر لیا جائے تو کُل مدت پورے تیس سال ہو جاتی ہے جو کہ سرکارِ دوعالم اکے فرمانِ عالیشان کے مطابق خلافتِ راشدہ کی کُل مدت ہے۔
حضور ﷺ کا ارشاد ہے، ’’میرے بعد خلافت تیس سال رہے گی پھر ملوکیت ہو جائے گی‘‘۔()اس حدیث کو تمام اصحابِ سنن نے لکھا اور ابنِ حبان رحمہم اللہ نے اس کو صحیح کہا ۔
Page 112 of 134

