امام حسن صنے چھ ماہ بعد حضرت امیر معاویہص سے چند شرائط پر صلح کر لی اور یوں آقا ومولیٰ ا کا وہ معجزہ ظاہر ہو گیا جو آپ نے فرمایا تھاکہ’’میرا یہ بیٹا مسلمانوں کی دو جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا‘‘۔جب آپ امیر معاویہ صکے حق میں خلافت سے دستبردار ہو گئے تو ایک شخص نے کہا، آپ نے مسلمانوں کو ذلیل کر دیا۔آپ نے فرمایا،یوں مت کہو، کیونکہ میں نے آقا ومولیٰا کو یہ فرماتے سنا ہے کہ شب وروز کا سلسلہ چلتا رہے گا یہاں تک کہ معاویہ حاکم بن جائے گا۔ پس مجھے یقین ہو گیا کہ تقدیرِ الہٰی واقع ہو گئی ہے تو میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ اپنی حکومت کے لیے دونوں جانب کے مسلمانوں میں قتال اور خونریزی کراؤں۔()
علامہ سیوطی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ آپ کی بیوی جعدہ کو یزید نے خفیہ طور پر یہ پیغام بھیجا کہ اگر حضرت حسن صکو زہر دیدو تو میں تم سے نکاح کر لوں گا۔ اس فریب میں آ کر بدنصیب جعدہ نے آپ کو زہر دے دیا جس سے آپ شہید ہو گئے۔ جعدہ نے یزید کو لکھا کہ اپنا وعدہ پورا کرے تو اس نے جواب دیا، جب میں تجھ کو حسن کے نکاح میں گوارا نہیں کر سکا تو اپنے نکاح میں کس طرح گوارا کروں گا۔()
امام حسین صنے بہت کوشش کی کہ آپ زہر دینے والے کی نشاندہی کر دیں لیکن آپ نے نام بتانے کی بجائے یہ فرمایا،’’ مجھے جس پر گمان ہے اگر وہ اصل میں قاتل نہ ہوا تو کوئی بیگناہ قتل ہو جائے گا اور اگر وہی میرا قاتل ہے تویقیناً اللہ تعالیٰ سخت انتقام لینے والا ہے‘‘۔آپ کی شہادت ۵۰ ھ میں ہوئی۔
بعض متعصب وگمراہ لوگ حضرت امیر معاویہ ص کو باغی قرار دیتے ہوئے ان پر لعن طعن کرتے ہیں۔باغی کے متعلق قرآن عظیم کا حکم ہے، فقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰی تَفِیٓءَ اِلٰٓی اَمْرِ الله۔ ’’تو اُس زیادتی والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے‘‘۔()
اگر حضرت امیرمعاویہص باغی ہوتے تو حضرت علیص پر لازم تھا کہ ان سے مسلسل جنگ کرتے یہاں تک کہ وہ آپ کی خلافت کو تسلیم کر لیتے۔ لیکن آپ نے جنگ ختم کردی۔اس سے معلوم ہوا کہ حضرت علیص کے نزدیک بھی حضرت معاویہص باغی نہیں تھے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، سیدنا امام حسن مجتبیٰ صنے ایک فوج جرار کے ساتھ عین معرکۂ جنگ میں ہتھیار رکھ دیے اور خلافت امیر معاویہ صکے سپرد کر دی (اور ان کے ہاتھ پر بیعت فرما لی) ۔
اگرامیر معاویہصالعیاذ باللہ فاجر یا ظالم یا غاصب تھے تو الزام امام حسنصپر آتا ہے کہ انہوں نے خلافت و حکومت خود اپنے اختیار وارادے سے ایسے شخص کے حوالے کردی اور اسلام ومسلمین کی خیر خواہی کا خیال نہ فرمایا۔ اگر مدتِ خلافت ختم ہو چکی تھی اور آپ کو خود بادشاہت منظورنہیں تھی تو صحابۂ حجاز میں کیا کوئی حکومت ودینی امور کے نظم ونسق کے قابل نہیں تھا جو حکومت انہیں کے حوالے کردی؟
خدا کی قسم! یہ اعتراض تو رسول کریم ﷺتک پہنچتا ہے کہ جنہوں نے اپنی پیش گوئی میں ان کے اس فعل( یعنی حضرت معاویہص سے صلح) کو پسند فرمایا اور ان کی سیادت کا نتیجہ ٹھہرایا جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ آپ نے امام حسن صکی نسبت فرمایا،’’ میرا یہ بیٹا سید ہے، مجھے امید ہے کہ اللہ عزوجل اس کے باعث اسلام کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرا دے‘‘۔ ()
بقول صدرُ الشریعہ ، امیر معاویہ صپر معاذ اللہ فسق وغیرہ کا طعن کرنے والا حقیقتاً حضرت امام حسن مجتبیٰص بلکہ حضور سید عالم ابلکہ اللہ عزوجل پر طعن کرتا ہے۔()
علامہ شہاب الدین خفاجی، نسیم الریاض شرح شفا میں فرماتے ہیں، جو حضرت معاویہ ص پر طعن کرے ، وہ جہنم کے کتوں میں سے ایک کتا ہے۔()
Page 113 of 134

