امیر معاویہص مجتہد تھے ۔ ان کا مجتہد ہونا سیدنا عبداللہ بن عباسص نے حدیثِ صحیح بخاری میں بیان فرمایا ہے۔ مجتہد سے صواب و خطا دونوں صادر ہوتے ہیں۔ خطا دو قسم کی ہے، ’’خطاء عنادی‘‘ ،یہ مجتہد کی شان نہیں۔ اور ’’خطاء اجتہادی‘‘، یہ مجتہد سے ہوتی ہے اور اس میں ا س پر اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصلاً مؤاخذہ نہیں۔()
حضرت معاویہ صکے اجتہاد کی دلیل یہ آیت ہے، مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْماً فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہٖ سُلْطٰناً۔’’جو ناحق مارا جائے تو بیشک ہم نے اس کے وارث کو قابو دیا ہے‘‘۔()
یعنی جو مظلوم قتل کر دیا جائے تو اس کے وارث کو قصاص کا حق ہے۔ اسی بناء پر سیدنا معاویہ ص،سیدنا عثمان ص کے قاتلوں کا مطالبہ کر رہے تھے جبکہ سیدنا علی صکے گرد بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جوسیدنا عثمان صکی شہادت میں پیش پیش تھے اس لیے سیدنا علی صکے لیے حکومت مستحکم کیے بغیر قصاص لینا ممکن نہ تھا۔
بس یہ بات ذہن نشین رہے کہ صحابہ کرام کے باہم جو واقعات ہوئے ، ان پر اپنی رائے دینایا کسی کو قصوروار بتانا سخت حرام ہے ۔ہمیں تو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ سب آقاو مولیٰ ا کے جان نثار،سچے غلام اور صحابیت کاشرف رکھتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن مبارک صسے دریافت کیا گیا کہ امیر معاویہص اور عمر بن عبدالعزیز ص میں سے کون افضل ہے؟ آپ نے فرمایا،وہ غبار جو حضورِاکرم اکی ہمراہی میں امیر معاویہ صکے گھوڑے کی ناک میں داخل ہوا ،وہ بھی عمر بن عبدالعزیز ص سے افضل ہے۔ ()
صدرُ الشریعہ علامہ امجد علی قادری رحمہ اللہ فرماتے ہیں،
کسی صحابی کے ساتھ سوءِ عقیدت بدمذہبی وگمراہی اور استحقاقِ جہنم ہے کہ وہ حضور ﷺ کے ساتھ بغض ہے۔ ایسا شخص رافضی ہے اگرچہ چاروں خلفاء کو مانے اور اپنے آپ کو سنی کہے۔ مثلاً حضرت امیر معاویہ اور ان کے والد ماجد حضرت ابوسفیان اور والدہ ماجدہ حضرت ہند۔ اسی طرح حضرت سیدنا عمرو بن عاص و حضرت مغیرہ بن شعبہ و حضرت ابوموسیٰ اشعری ث حتیٰ کہ حضرت وحشی صجنہوں نے قبل اسلام حضرت سید الشہداء حمزہص کو شہید کیا اور بعد اسلام اخبثُ الناس خبیث مسیلمہ کذاب ملعون کو واصلِ جہنم کیا۔ ان میں سے کسی کی شان میں گستاخی تبرا ہے اور اس کا قائل رافضی۔یہ اگرچہ حضرات شیخین کی توہین کی مثل نہیں ہو سکتی کہ ان کی توہین بلکہ ان کی خلافت سے انکار ہی فقہائے کرام کے نزدیک کفر ہے۔()
مشاجراتِ صحابہ کرام
مجددِ دین وملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں، حضرت علی مرتضیٰص سے جنہوں نے مشاجرات ومنازعات کیے، ہم اہلسنت ان میں حق، مولیٰ علیص کی جانب مانتے ہیں اور ان سب کو (موردِ لغزش)برغلط وخطا۔ اور حضرت علی اسدُ اللہص کو ان سب سے اکمل واعلیٰ جانتے ہیں۔چونکہ ان حضرات کے مناقب وفضائل میں احادیث مروی ہیں اس لیے ان کے حق میں زبانِ طعن وتشنیع نہیں کھولتے، اور انہیں ان کے مراتب پر رکھتے ہیں جو ان کے لیے شرع میں ثابت ہیں۔
ان میں کسی کو کسی پر ہوائے نفس سے فضیلت نہیں دیتے اور ان کے مشاجرات میں دخل اندازی کو حرام جانتے ہیں اور ان کے اختلاف کو امام ابوحنیفہ وامام شافعی رضی اللہ عنہما جیسا اختلاف سمجھتے ہیں۔ہم اہلسنت کے نزدیک ان میں سے کسی صحابی پر بھی طعن جائز نہیں چہ جائیکہ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بارگاہِ رفیع میں طعن کریں۔ خدا کی قسم! یہ اللہ اور رسول اکی جناب میں گستاخی ہے۔()
محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اہلسنت وجماعت سب صحابہ کرام کو نیک ومتقی جانتے ہیں اور ان کے باہمی اختلافات کی تفاصیل پر نظر کرنا حرام سمجھتے ہیں کیونکہ اس طرح شیطان ان متقی بندوں کے متعلق بدگمان کر کے گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔ چنانچہ آپ رقمطراز ہیں،
Page 114 of 134

