’’جو فعل کسی (صحابی) کا اگر ایسا منقول بھی ہوا جو نظرِ قاصر(ونگاہِ کوتاہ بیں) میں اُن کی شان سے قدرے گرا ہوا ٹھہرے (اور کسی کوتاہ نظر کو اس میں حرف زنی کی گنجائش ملے ، تواہلسنت) اسے محملِ حسن پر اتارتے ہیں(اور اسے ان کے خلوصِ قلب و حسنِ نیت پر محمول کرتے ہیں) اور اللہ کا سچا قول رَضِیَ الله عَنْہُمْ سن کر آئینۂ دل میں زنگِ تفتیش کو جگہ نہیں دیتے (اور تحقیقِ احوال واقعی کے نام کا میل کچیل ، دل کے آبگینہ پر چڑھنے نہیں دیتے)،رسولُ اللہ ا حکم فرما چکے، اِذَا ذُکِرَ اَصْحَابِیْ فَامْسِکُوْا۔ ’’جب میرے اصحاب کا ذکر آئے تو باز رہو‘‘ (سوءِ عقیدت اور بدگمانی کو قریب نہ پھٹکنے دو، تحقیقِ حال و تفتیشِ مآل میں نہ پڑو) ۔
اپنے آقا اکا فرمانِ عالی شان اور یہ سخت وعیدیں، ہولناک تہدیدیں (ڈراوے اور دھمکیاں) سن کر زبان بند کر لی اور دل کو سب کی طرف سے صاف کر لیا۔ اور جان لیا کہ ان کے رُتبے ہماری عقل سے وراء ہیں پھر ہم ان کے معاملات میں کیا دخل دیں۔
ان میں جو مشاجرات (صورۃًنزاعات و اختلافات) واقع ہوئے، ہم ان کا فیصلہ کرنے والے کون ؟کہ ایک کی طرف داری میں دوسرے کو برا کہنے لگیں، یا ان نزاعوں میں ایک فریق کو دنیا طلب ٹھہرائیں بلکہ بالیقیں جانتے ہیں کہ وہ سب مصالح دین کے خواستگار تھے۔
(اسلام ومسلمین کی سربلندی ان کا نصب العین تھی پھر وہ مجتہد بھی تھے تو) جس کے اجتہاد میں جو بات دینِ الہٰی و شرع رسالت پناہی جل جلالہٗ و ا کے لیے اصلح وانسب (زیادہ مصلحت آمیز اور احوال مسلمین سے مناسب تر) معلوم ہوئی، اختیار کی۔ گو اجتہاد میں خطا ہوئی اور ٹھیک بات ذہن میں نہ آئی لیکن وہ سب حق پر ہیں (اور سب واجب الاحترام)۔
ان کا حال بعینہٖ ایسا ہے جیسا فروعِ مذہب میں(خود علمائے اہلسنت بلکہ ان کے مجتہدین مثلاً امام اعظم )ابوحنیفہص و (امام)شافعیص (وغیرہما) کے اختلافات، نہ ہرگز ان منازعات کے سبب ایک دوسرے کو گمراہ فاسق جاننا نہ ان کا دشمن ہو جانا۔
(جس کی تائید مولیٰ علی صکے اس قول سے ہوتی ہے کہ اخواننا بغوا علینا۔یہ سب ہمارے مسلمان بھائی ہیں جو ہمارے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ مسلمانوں کو تو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ سب حضرات آقائے دوعالم ا کے جاں نثار اور سچے غلام ہیں۔ خدا ورسول ا کی بارگاہ میں معظم ومعزز اور آسمانِ ہدایت کے روشن ستارے ہیں، اصحابی کالنجوم)
اللہ عزوجل اور رسول اکے ارشادات سے (اس پاک فرقہ اہلسنت وجماعت نے اپنا عقیدہ اور)اتنا یقین کر لیا کہ سب (صحابہ کرام) اچھے اور عادل وثقہ، تقی، نقی ابرار (خاصانِ پروردگار) ہیں، اور ان (مشاجرات ونزاعات کی) تفاصیل پر نظر ، گمراہ کرنے والی ہے۔()
رب تعالیٰ نے فرمایا، وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-۔’’ ان سب (صحابہ) سے اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا وعدہ فرمایا‘‘۔کہ اپنے اپنے مرتبے کے لحاظ سے اجر ملے گا سب ہی کو ، محروم کوئی نہ رہے گا۔اور جن سے بھلائی کا وعدہ کیا، ان کے حق میں فرماتا ہے،
اُولٰئِکَ عَنْہَا مُبْعَدُوْن ’’وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں‘‘۔
لاَ یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَہَا ’’وہ جہنم کی بھنک تک نہ سنیں گے‘‘۔
وَهمْ فِیْ مَااشْتَہَتْ اَنْفُسُہُمْ خٰلِدُوْنَ ۔’’وہ ہمیشہ اپنی من مانتی جی بھاتی مرادوں میں رہیں گے‘‘۔
لاَ یَحْزُنُہُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ ۔’’قیامت کی سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہ کرے گی‘‘۔ تَتَلَقّٰہُمُ الْمَلٰئِکَۃُ ۔’’فرشتے ان کا استقبال کریں گے‘‘۔
Page 115 of 134

