ھٰذَا یَوْمُکُمُ الَّذِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ۔ یہ کہتے ہوئے کہ’’ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا‘‘۔()
رسول اللہا کے ہر صحابی کی یہ شان اللہ عزوجل بتاتا ہے تو جو کسی صحابی پر طعن کرے وہ اللہ واحد قہار کو جھٹلاتا ہے۔ اور ان کے بعض معاملات جن میں اکثر حکایاتِ کاذبہ ہیں، ارشادِ الٰہی کے مقابل پیش کرنا اہلِ اسلام کا کام نہیں۔()
صحابہ کرام انبیاء نہ تھے، فرشتے نہ تھے کہ معصوم ہوں، ان میں بعض کے لیے لغزشیں ہوئیں مگر ان کی کسی بات پر گرفت اللہ عزوجل اور رسول ا کے خلاف ہے۔
اللہ عزوجل نے سورۃ الحدید میں جہاں صحابہ کی دو قسمیں فرمائیں، مومنین قبل فتحِ مکہ اور بعد فتحِ مکہ۔ اور اِن کو اُن پر فضیلت دی اور فرما دیا،
وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ- ’’سب سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ فرما لیا‘‘۔
ساتھ ہی ارشاد فرمادیا، وَالله بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ ’’اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرو گے‘‘۔()
تو جب اس نے اُن کے تمام اعمال جان کر حکم فرما دیا کہ ان سب سے ہم جنت بے عذاب و کرامت وثواب کا وعدہ فرما چکے توکسی دوسرے کو کیا حق رہا کہ وہ ان کی کسی بات پر طعن کرے۔ کیا طعن کرنے والا اللہ تعالیٰ سے جدا اپنی مستقل حکومت قائم کرنا چاہتا ہے؟()
سیدنا علیص کو مسلمانوں کے باہمی قتال پر جو دکھ اور صدمہ ہوا ، اسکا اندازہ اس روایت سے کیجیے۔
حضرت امام حسن صسے روایت ہے کہ جنگِ جمل کے دن حضرت علیص نے فرمایا، کاش میں اس واقعہ سے بیس سال پہلے مر جاتا۔ ()
باوجود اختلاف ونزاع کے باہم محبت کا یہ حال تھا کہ حضرت علی صسے اہلِ جَمَل کے متعلق پوچھا گیا،کیا یہ لوگ مشرک ہیں؟آپ نے فرمایا، نہیں ! یہ لوگ شرک سے دور بھاگتے ہیں۔ پھر پوچھا گیا، کیا یہ منافقین ہیں؟ فرمایا، نہیں ! منافقین تو اللہ تعالیٰ کاذکر بہت قلیل کرتے ہیں۔ پوچھا گیا، پھر یہ لوگ کون ہیں؟ فرمایا،
یہ ہمارے مسلمان بھائی ہیں، جو ہمارے خلاف کھڑے ہوئے۔مگر مجھے امید ہے کہ ہم اُن لوگوں کی مثل ہو جائیں گے جن کے متعلق رب تعالیٰ کا ارشاد ہے،
وَ نَزَ عْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِ ھِمْ مِنْ غِلٍّ ۔ ()
’’اور ہم نے ان کے سینوں میں سے کینے کھینچ لیے ، (جنت میں)اُن کے نیچے نہریں بہیں گی۔ اور کہیں گے ،سب خوبیا ں اللہ کو جس نے ہمیں اس کی راہ دکھائی ‘‘۔
حضرت علی صنے فرمایا ، مجھے امید ہے کہ میں، عثمان ، طلحہ اور زبیرث اُن میں سے ہیں جن کے حق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔()
اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمہ اللہ یہی روایت نقل کر کے فرماتے ہیں، حضرت مولیٰ علیص کے اس ارشاد کے بعد بھی، ان (صحابہ کرام) پر الزام دینا عقل وخرد سے جنگ ہے، مولیٰ علی صسے جنگ ہے اور خداورسول ا سے جنگ ہے۔ العیاذ باللہ
جب کہ تاریخ کے اوراق شاہدِعادل ہیں کہ حضرت زبیرص کو جونہی اپنی غلطی کا احساس ہوا ،انہوں نے فوراً جنگ سے کنارہ کشی کر لی۔
اور حضرت طلحہ صکے متعلق بھی روایات میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنے ایک مددگار کے ذریعے حضرت مولیٰ علیص سے بیعت کرلی تھی۔
اور تاریخ سے ان واقعات کو کون چھیل سکتا ہے کہ جنگِ جمل ختم ہونے کے بعد مولیٰ علی مرتضیٰ صنے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکے برادرِ معظم محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ جائیں اور دیکھیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو خدانخواستہ کوئی زخم وغیرہ تو نہیں پہنچا۔ بلکہ بعجلت تمام خود بھی تشریف لے گئے اور پوچھا، آپ کا مزاج کیسا ہے؟ انہوں نے جواب دیا، الحمدللہ! اچھی ہوں۔ مولیٰ علی صنے فرمایا، اللہ تعالیٰ آپ کی بخشش فرمائے۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا، اور تمہاری بھی۔
Page 116 of 134

