Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 117 of 134
پھر مقتولین کی تجہیز وتکفین سے فارغ ہو کر ، حضرت مولیٰ علی صنے حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کی واپسی کا انتظام کیا اور پورے اعزازواکرام کے ساتھ محمد بن ابی بکرص کی نگرانی میں چالیس معزز عورتوں کے جھرمٹ میں ان کو حجاز کی جانب رخصت کیا، خود حضرت علی صنے دور تک مشایعت کی، ہمراہ رہے۔ امام حسنص میلوں تک ساتھ گئے۔
چلتے وقت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے مجمع میں اقرار فرمایاکہ، ’’مجھ کو علی سے نہ کسی قسم کی کدورت پہلے تھی اور نہ اب ہے۔ ہاں ساس داماد میں کبھی کبھی جو بات ہو جایا کرتی ہے اس سے مجھے انکار نہیں‘‘۔
حضرت علی صنے یہ سن کر ارشاد فرمایا، ’’لوگو! عائشہ سچ کہہ رہی ہیں۔ خدا کی قسم! مجھ میں اور ان میں ، اس سے زیادہ اختلاف نہیں ہے۔بہرحال خواہ کچھ ہو ، یہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ ہیں‘‘۔
اللہ اللہ ! ان یارانِ پیکرِ صدق وصفا میں باہمی یہ رِفق ومؤدت اور عزت واکرام، اور ایک دوسرے کے ساتھ تعظیم واحترام کا یہ معاملہ۔ اوران عقل سے بیگانوں اور نادان دوستوں کی حمایتِ علی ص کا یہ عالم کہ اُن پر لعن طعن کو اپنا مذہب اور شعار بنائیں اور اُن سے کدورت ودشمنی کو مولیٰ علی صسے محبت وعقیدت ٹھہرائیں!ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ()
ماحیٔ رفض و تفضیل و نصب و خروج
حامیٔ دین و سنت پہ لاکھوں سلام
مومنین پیشِ فتح و پسِ فتح سب
اہلِ خیر و عدالت پہ لاکھوں سلام
سیدنا امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ اور یزید:
حضرت امیرمعاویہ صنے وصال سے قبل یہ وصیت فرمائی تھی کہ انہیں اُس قمیص میں کفن دیا جائے جو آقا ومولیٰا نے انہیں عطا فرمائی تھی۔نیز رسول کریم ﷺکے مقدس ناخنوں کے تراشے جو ان کے پاس تھے، ان کی آنکھوں اور منہ پر رکھ کر انہیں اَرْحم الراحمین کے سپرد کر دیا جائے۔ ()
آپ کی یہ وصیت دراصل یزید کے لیے ایک نصیحت تھی تاکہ وہ یہ سوچے کہ جب میرے والدرسول کریم ﷺکے ناخنوں اور قمیص سے برکت حاصل کر رہے ہیں تو پھر ان کا نواسہ کس قدر بابرکت ہو گا اور مجھے اس کی کس قدر تعظیم کرنی چاہیے۔
حضرت امیر معاویہ صنے یزید کو اپنا جاں نشین بنا نے کا جو ارادہ کیا اس کے پس منظر میں رسول اکرم اکے ان جلیل القدر صحابی کا خلوص اور نیک نیتی کارفرما تھی اور ان کے پیشِ نظر امت کا وسیع تر مفاد تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر میں نے خلافت کو یونہی چھوڑ دیا تو ہر علاقے میں کئی خلیفہ اٹھ کھڑے ہونگے اورخونریزی وانتشار کے باعث بہت نقصان ہوگا اور اگر خلافت بنو ہاشم کے حوالے کرجاؤں تو بنی امیہ جو عصبیت کے علاوہ اس وقت قوت واقتدار کے عروج پر ہیں، وہ نہیں مانیں گے اور خونریزی کریں گے ۔
مشہور مؤرخ علامہ ابن خلدون رحمہ اللہ لکھتے ہیں،
بنوامیہ اُس وقت اپنے علاوہ کسی کی خلافت پر راضی نہیں ہوتے کیونکہ وہ نہ صرف قریش بلکہ پوری ملتِ اسلامیہ کا بہت طاقتور گروہ تھا۔ان نازک حالات کے باعث امیر معاویہص نے ولی عہدی کے لیے یزید کو ان حضرات پر ترجیح دی جو اس سے زیادہ خلافت کے مستحق سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے افضل کو چھوڑ کر مفضول کو اختیار کیا تاکہ مسلمانوں میں اتحاد واتفاق قائم رہے۔ ()
علامہ ابن کثیررحمہ اللہ لکھتے ہیں، حضرت معاویہ ص یہ سمجھتے تھے کہ دنیاوی شرافت واصالت کے علاوہ بادشاہوں کی اولاد میں فنونِ جنگ، حکومتی نظم ونسق سے آگہی اور شاہانہ کروفر کے اعتبار سے صحابہ کی اولاد میں کوئی دوسرا نہیں ہے جو ملک کا نظام سنبھال سکے۔ اس لیے آپ نے حضرت ابن عمررضی اللہ عنہما سے فرمایا تھا، میں (ولی عہد نہ بناؤں تو)ڈرتا ہوں کہ رعایا کو اپنے بعد ایسے چھوڑ کر جاؤں جیسے بارش میں بکریاں، جن کا کوئی چرواہا نہ ہو۔ ()
Share:
keyboard_arrow_up