Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 118 of 134
حقیقت یہی ہے کہ آپ کے خیال میں یزید میں وہ صلاحیتیں موجود تھیں جن کی بناء پر وہ حکومتی نظم ونسق چلانے کا اہل تھا اس لیے آپ نے اسے ولی عہد بنایا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ لوگوں کے مجمع میں منبر پر یہ دعا نہ فرماتے کہ ’’اے اللہ! اگر میں یزید کو اس کی لیاقت اور ہوشمندی کے باعث ولی عہد بنا رہا ہوں تو اس کام میں میری مدد فرما اور اگر میں محض باپ کی محبت کی وجہ سے ایسا کر رہا ہوں اور وہ خلافت کے قابل نہیں ہے تو اس کے تخت نشین ہونے سے پہلے اسے موت دیدے‘‘۔()
رجب ۶۰ ھ میں جب امیر معاویہ صکی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو انہوں نے یزید کو یہ تحریری وصیت فرمائی،’’حسین بن علی رضی اللہ عنہما سادہ مزاج ونرم دل آدمی ہیں۔ عراق والے انہیں مدینہ سے نکال کر ہی چھوڑیں گے۔ پس اگر وہ نکلیں اور تو ان پر غالب آ جائے تو ان سے درگذر کرنا کیونکہ وہ بہت بڑی صلہ رحمی کے مستحق ہیں۔ ان کا ہم پر ایک عظیم حق ہے اور ان کی رسول اسے قرابت داری ہے‘‘۔()
امیر معاویہص نے تو واضح الفاظ میں یزید کو امام حسینص سے درگذر کرنے اور حسنِ سلوک کی وصیت فرمائی لیکن اُس بدبخت نے اقتدار کے نشہ میں مست ہو کر اپنے متقی والدص کی ہر نصیحت کو پسِ پشت ڈال دیا۔ہمیں یقین ہے کہ امیر معاویہص پر اس کا فسق وفجور ظاہر نہ ہوا ہو گا وگرنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ یزید کا فسق وفجور ان کی حیات میں ظاہر ہو نے کے باوجود انہوں نے اسے ولی عہد بنادیا ہو۔
علامہ ابن خلدون رحمہ اللہ اس بارے میں لکھتے ہیں، وہ فسق وفجور جو یزید سے اس کی خلافت میں ظاہر ہوا ،وہ امیر معاویہص کے علم میں نہ تھا( جب انہوں نے اسے ولی عہد بنایا)۔تم اس بدگمانی سے بچو کہ وہ اس کے فسق وفجور سے واقف تھے کیونکہ آپ کا مرتبہ ومقام اس سے بہت بلند ہے (کہ وہ یزید کے فسق وفجور سے آگاہ ہونے کے باوجود اسے ولی عہد بنا دیں)۔ ()
انہوں نے امت کو انتشار سے بچانا چاہااور یزید کو ولی عہد بنایا لیکن ان کا یہ فیصلہ اجتہادی خطا ثابت ہوا اور یزید کی حکومت سے امت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا تاہم یزید کے فسق وفجور اور تمام کرتوتوں کا ذمہ دار وہ خود ہے ، حضرت امیر معاویہص نہیں کیونکہ رب تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ۔
’’اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی‘‘۔()
شہادتِ امام حسین رضی اللہ عنہ:
رجب ۶۰ ھ میں حضرت امیر معاویہ صکے وصال کے بعد یزید نے مدینہ منورہ کے گورنر ولید بن عتبہ کو لکھا کہ’’ حسین ، ابن عمر اور ابن زبیرث سے فوری طور پر بیعت لے لو اور جب تک وہ بیعت نہ کریں انہیں مت چھوڑو‘‘۔()
امام حسین صنے یزید کی بیعت سے انکار کیا اور مکہ تشریف لے گئے۔آپ کے نزدیک یزید مسلمانوں کی امامت وسیادت کے ہرگز لائق نہیں تھا بلکہ فاسق وفاجر ،شرابی اور ظالم تھا۔امام حسینص کو کوفیوں نے متعدد خطوط لکھے اور کئی قاصد بھیجے کہ آپ کوفے آئیں، ہمارا کوئی امام نہیں ہے ، ہم آپ سے بیعت کریں گے۔ خطوط اور قاصدوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ امام حسین صنے یہ سمجھا کہ مجھ پر ان کی راہنمائی کے لیے اور انہیں فاسق وفاجر کی بیعت سے بچانے کے لیے جانا ضروری ہو گیا ہے۔حالات سے آگہی کے لیے آپ مسلم بن عقیلص کو کوفہ بھیجا جن کے ہاتھ پر بیشمار لوگوں نے آپ کی بیعت کر لی لیکن جب ابن زیاد نے دھمکیاں دیں تو وہ اپنی بیعت سے پھر گئے اور مسلم بن عقیلص شہید کردیے گئے۔آپ کو ان کی شہادت اور اہلِ کوفہ کی بیوفائی کی خبر اس وقت ملی جب آپ مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہو چکے تھے۔
Share:
keyboard_arrow_up