امام حسین صکی شہادت کے تفصیلی واقعات جاننے کے لیے صدرُ الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمہ اللہ کی کتاب ’’سوانح کربلا‘‘کا مطالعہ کیجیے۔
مختصر یہ ہے کہ حسینی قافلے میں بچے، خواتین اور مرد ملا کر بیاسی نفوس تھے جوکہ جنگ کے ارادے سے بھی نہیں آئے تھے۔ ان کے مقابلے کے لیے یزیدی فوج بائیس ہزار سوار وپیادہ مسلح افراد پر مشتمل تھی۔اس کے باوجود ظالموں نے اہلبیت اطہار پر دریائے فرات کا پانی بند کردیا۔تین دن کے بھوکے پیاسے امام عالی مقام اپنے اٹھارہ (۱۸) اہلبیت اوردیگر چوَّن (۵۴)جانثاروں کے ہمراہ دس محرم ۶۱ھ کوکربلا میں نہایت بے دردی سے شہید کر دئیے گئے۔
حضرت ابن عباس ص سے روایت ہے کہ ایک دن دوپہر کے وقت میں نے رسول اﷲ ﷺ کو خواب میں دیکھا کہ گیسوئے مبارک بکھرے ہوئے ہیں اور دست مبارک میں خون سے بھری ہوئی ایک بوتل ہے ۔میں عرض گذارہوا ، میرے ماں باپ آپ پر قربان! یہ کیا ہے؟ فرمایا ،یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے۔ میں دن بھر اسے جمع کرتا رہا ہوں ۔ میں نے وہ وقت یاد رکھا بعد میں معلوم ہوا کہ امام حسین ص اسی وقت شہید کیے گئے تھے۔ ()
حضرت سلمیٰ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ میں حضرت ام سلمہرضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی اور وہ زاروقطاررو رہی تھیں ۔میں نے عرض کی، آپ کیوں روتی ہیں ؟ فرمایا، میں نے رسول اﷲ ﷺ کو خواب میں دیکھا کہ سرِ اقدس اور داڑھی مبارک گرد آلود ہے۔میں عرض گزار ہوئی ،یا رسول اﷲ ﷺ ! آپ کو کیا ہوا؟ تو آپ نے فرمایا، میں ابھی ابھی حسین کی شہادت گاہ سے آرہا ہوں۔()
امام حسین صکا سرِاقدس جسم سے جدا کر کے ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا۔ابن زیاد ایک چھڑی آپ کے مبارک ہونٹوں پر مارنے لگا۔ صحابیٔ رسول، حضرت زید بن ارقم صوہاں موجود تھے۔ ان سے برداشت نہ ہو سکا اور وہ پکار اٹھے، ’’ان لبوں سے چھڑی ہٹا لو۔خدا کی قسم! میں نے بارہا اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ رسول کریم ﷺ ان مبارک لبوں کو چومتے تھے‘‘۔ یہ فرما کر وہ زاروقطار رونے لگے۔ ابن زیاد بولا، خدا کی قسم ! اگر تو بوڑھا نہ ہوتا تو میں تجھے بھی قتل کروا دیتا۔()
حضرت انس بن مالک صسے بھی ایسا ہی واقعہ مروی ہے جو ترمذی کے حوالے سے پہلے تحریر کیا جا چکا ہے۔
امامِ پاک اور یزید پلید:
بعض لوگ کہتے ہیں کہ یزید کا اس واقعہ سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں تھا، جو کچھ کیا وہ ابن زیاد نے کیا۔ چند تاریخی شواہد پیشِ خدمت ہیں جن سے اہلِ حق و انصاف خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ان تمام واقعات سے یزید کا کس قدر تعلق ہے۔ عظیم مؤرخ علامہ طبری رحمہ اللہرقمطراز ہیں، یزید نے ابن زیاد کو کوفہ کا حاکم مقرر کیا اور اسے حکم دیا کہ ’’مسلم بن عقیل کو جہاں پاؤ قتل کردو یا شہر سے نکال دو‘‘۔()
پھر جب مسلم بن عقیلص اور ہانی کو شہید کر دیا گیا تو ابن زیاد نے ان دونوں کے سر کاٹ کر یزید کے پاس دمشق بھیجے۔ اس پر یزید نے ابن زیاد کو خط لکھ کر اس کا شکریہ ادا کیا۔(تاریخ کامل ج۶:۳۶) یہ بھی لکھا، ’’جو میں چاہتا تھا تو نے وہی کیا، تو نے عاقلانہ کام اور دلیرانہ حملہ کیا‘‘۔()
اب یہ بھی جان لیجیے کہ امام حسین صکی شہادت کے بعد یزید کا پہلا ردعمل کیا تھا؟ علامہ ابن جریر طبری رحمہ اللہلکھتے ہیں، ابن زیاد نے امام حسینص کا سرِاقدس آپ کے قاتل کے ہاتھ یزید کے پاس بھیج دیا۔ اس نے وہ سرِاقدس یزید کے سامنے رکھ دیا۔ اس وقت وہاں صحابیٔ رسول، حضرت ابوبرزۃ الاسلمیص بیٹھے ہوئے تھے۔ یزید ایک چھڑی امام حسین صکے مبارک لبوں پر مارنے لگا اور اس نے یہ شعر پڑھے: ’’انہوں نے ایسے لوگوں کی کھوپڑیوں کو پھاڑ دیا جو ہمیں عزیز تھے لیکن وہ بہت نافرمان اور ظالم تھے‘‘۔
Page 119 of 134

