حضرت ابوبرزۃص سے برداشت نہ ہو سکا اور انہوں نے فرمایا، ’’اے یزید! اپنی چھڑی کو ہٹا لو۔خدا کی قسم! میں نے بارہا دیکھا ہے کہ رسول کریم ﷺ اس مبارک منہ کو چومتے تھے‘‘۔()
مشہور مؤرخین علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے البدایہ والنہایہ میں اور علامہ ابن اثیر رحمہ اللہنے تاریخ کامل میں اس واقعہ کو تحریر کیا ہے۔اس میں یہ زائد ہے کہ حضرت ابوبرزۃص نے یہ بھی فرمایا،’’بلاشبہ یہ قیامت کے دن آئیں گے تو حضرت محمد مصطفیا ان کے شفیع ہونگے اور اے یزید! جب تو آئے گا تو تیرا سفارشی ابن زیاد ہو گا‘‘۔ پھر وہ کھڑے ہوئے اور محفل سے چلے گئے۔()
اب آپ خود ہی فیصلہ کیجیے کہ امام حسینص کی شہادت پر یزید کو کس قدر افسوس اور دکھ ہوا تھا۔جو سنگدل نواسۂ رسول ا کے سرِاقدس کو اپنے سامنے رکھ کر متکبرانہ شعر پڑھتا ہے اور ان مبارک لبوں پر اپنی چھڑی مارتا ہے جو محبوبِ کبریا ااکثر چوما کرتے تھے، کیا وہ لعنت وملامت کا مستحق نہیں؟
اہلبیتِ نبوت سے اس کی عداوت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب اہلبیت نبوت کا یہ مصیبت زدہ قافلہ ابن زیاد نے یزید کے پاس بھیجا تو اس نے ملک شام کے امراء اور درباریوں کو جمع کیا پھر بھرے دربار میں خانوادۂ نبوت کی خواتین اس کے سامنے پیش کی گئیں اور اس کے سب درباریوں نے یزید کو اس فتح پر مبارکباد دی۔()
یزید کے خبثِ باطن اور عداوتِ اہلبیت کی ایک اور شرمناک مثال ملاحظہ کیجیے۔اس عام دربار میں ایک شامی کھڑا ہوا اور اہلبیت میں سے سیدہ فاطمہ بنت حسینص کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا، یہ مجھے بخش دو۔ معصوم سیدہ یہ سن کر لرز گئی اور اس نے اپنی بڑی بہن سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا دامن مضبوطی سے پکڑ لیا۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہانے گرج کر کہا، تو جھوٹ بکتا ہے۔ یہ نہ تجھے مل سکتی ہے اور نہ اس یزید کو۔
یزید یہ سن کر طیش میں آ گیا اور بولا، تم جھوٹ بولتی ہو۔ خدا کی قسم! یہ میرے قبضے میں ہے اور اگر میں اسے دینا چاہوں تو دے سکتا ہوں۔سیدہ زینب رضی اللہ عنہانے گرجدار آواز میں کہا، ہرگز نہیں ۔خدا کی قسم! تمہیں ایسا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے کوئی حق نہیں دیا۔ سوائے اس کے کہ تم اعلانیہ ہماری امت سے نکل جاؤ اور ہمارے دین کو چھوڑ کر کوئی اور دین اختیار کر لو۔
یزید نے طیش میں آ کر کہا، تو ہمارا مقابلہ کرتی ہے ، تیرا باپ اور تیرے بھائی دین سے خارج ہو گئے ہیں۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہانے کہا، اللہ کے دین اور میرے باپ، میرے بھائی اورمیرے نانا کے دین سے تو نے، تیرے باپ نے اور تیرے دادا نے ہدایت پائی ہے۔ یزید نے کہا، تو نے جھوٹ بولا ہے۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہانے کہا، تو زبردستی امیرُ المؤمنین ہے، تو ظالم ہو کر گالیاں دیتا ہے اور اپنے اقتدار سے غالب آتا ہے۔ یزید یہ سن کر چپ ہو گیا۔ اُس شامی نے پھر وہی سوال کیا تو یزید نے کہا، دور ہو جا، خدا تجھے موت دے۔ ()
بعض لوگ یزید کے افسوس وندامت کا ذکر کر کے اسے بے قصور ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کی ندامت کی حقیقت علامہ ابن اثیررحمہ اللہ کے قلم سے پڑھیے۔
وہ رقمطراز ہیں، ’’جب امام عالی مقام کا سرِ اقدس یزید کے پاس پہنچا تو یزید کے دل میں ابن زیاد کی قدرو منزلت بڑھ گئی اور جو اس نے کیا تھا اس پر یزید بڑا خوش ہوا۔ لیکن جب اسے یہ خبریں ملنے لگیں کہ اس وجہ سے لوگ اس سے نفرت کرنے لگے ہیں، اس پر لعنت بھیجتے ہیں اور اسے گالیاں دیتے ہیں تو پھر وہ امام حسین صکے قتل پر نادم ہوا‘‘۔()
Page 120 of 134

