Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 121 of 134
پھر اس نے کہا،’’ ابن زیاد نے حسینص کو قتل کر کے مجھے مسلمانوں کی نگاہوں میں مبغوض بنا دیا ہے، ان کے دلوں میں میری عداوت بھر دی ہے اور ہر نیک و بد شخص مجھ سے نفرت کرنے لگا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ امام حسین صکو قتل کر کے میں نے بڑا ظلم کیا ہے۔ خدا ابن زیاد پر لعنت کرے اور اس پر غضب نازل کرے، اس نے مجھے برباد کردیا‘‘۔()
یزید کی ندامت وپشیمانی کی وجہ آپ نے پڑھ لی ہے۔ اس ندامت کا عدل وانصاف سے ذرا سا بھی تعلق نہیں ورنہ ایک عام مسلمان بھی قتل کر دیا جائے تو قاتل سے قصاص لینا حاکم پر فرض ہوتا ہے۔ یہاں تو خاندانِ نبوت کے قتلِ عام کا معاملہ تھا۔ ابن زیاد، ابن سعد، شمر ملعون وغیرہ سے قصاص لینا تو درکنار کسی کو اس کے عہدے سے برطرف تک نہ کیا گیا اور نہ ہی کوئی تادیبی کاروائی ہوئی۔
یزید فاسق وفاجر تھا:
بعض جہلاء کہتے ہیں کہ امام حسینص پر لازم تھا کہ وہ یزید کی اطاعت کرتے۔ اس خیالِ بد کے رَد میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں،
’’یزید امام حسین صکے ہوتے ہوئے امیر کیسے ہو سکتا تھا اور مسلمانوں پر اس کی اطاعت کیسے لازم ہو سکتی تھی جبکہ اُس وقت کے صحابہ کرام اور صحابہ کی جو اولاد موجود تھی، سب اس کی اطاعت سے بیزاری کا اعلان کر چکے تھے۔ مدینہ منورہ سے چند لوگ اس کے پاس شام میں زبردستی پہنچائے گئے تھے۔ وہ یزید کے ناپسندیدہ اعمال دیکھ کر واپس مدینہ چلے آئے اور عارضی بیعت کو فسخ کر دیا۔ ان لوگوں نے برملا کہا کہ یزید خدا کا دشمن ہے، شراب نوش ہے، تارک الصلوٰۃ ہے، زانی ہے،فاسق ہے اور محارم سے صحبت کرنے سے بھی باز نہیں آتا‘‘۔()
یزید کے فسق وفجور کے متعلق اکابر صحابہ و تابعین کے اقوال تاریخ طبری، تاریخ کامل اور تاریخ الخلفاء میں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں ۔ اختصار کے پیشِ نظر حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ رضی اللہ عنہما کا ارشاد پیشِ خدمت ہے۔
آپ فرماتے ہیں،’’خدا کی قسم ! ہم یزید کے خلاف اُس وقت اٹھ کھڑے ہوئے جب ہمیں یہ خوف لاحق ہو گیا کہ( اس کی بدکاریوں کی وجہ سے)ہم پر کہیں آسمان سے پتھر نہ برس پڑیں کیونکہ یہ شخص ماؤں، بیٹیوں اور بہنوں کے ساتھ نکاح کو جائز قرار دیتا تھا، شراب پیتا تھا اور نماز چھوڑتا تھا‘‘۔()
امام حسین صنے یزیدی لشکر کے سامنے جو خطبہ دیا اس میں بھی یزید کے خلاف نکلنے کی یہی وجہ ارشاد فرمائی،’’خبردار! بیشک ان لوگوں نے شیطان کی اطاعت اختیار کر لی ہے اور رحمان کی اطاعت کو چھوڑ دیا ہے اور فتنہ وفساد برپا کر دیا ہے اور حدودِ شرعی کو معطل کر دیا ہے۔ یہ محاصل کو اپنے لیے خرچ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ باتوں کو حلال اور حلال کردہ کو حرام قرار دیتے ہیں‘‘۔()
شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ہمارے نزدیک یزید مبغوض ترین انسان تھا۔ اس بدبخت نے جو کارہائے بد سرانجام دیے وہ اس امت میں سے کسی نے نہیں کیے۔شہادتِ امام حسین صاور اہانتِ اہلبیت سے فارغ ہو کر اس بدبخت نے مدینہ منورہ پر لشکر کشی کی اور اس مقدس شہر کی بیحرمتی کے بعد اہلِ مدینہ کے خون سے ہاتھ رنگے اور باقی ماندہ صحابہ وتابعین کو قتل کرنے کا حکم دیا۔مدینہ منورہ کی تخریب کے بعد اس نے مکہ معظمہ کی تباہی کا حکم دیا اورحضرت عبداللہ بن زبیرص کی شہادت کا ذمہ دار ٹھہرا۔ اور انہی حالات میں وہ دنیا سے رخصت ہو گیا۔()
اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں،’’ یزید پلید قطعاً یقیناً باجماعِ اہلسنت، فاسق وفاجر و جری علی الکبائر تھا‘‘۔پھر اس کے کرتوت ومظالم لکھ کر فرماتے ہیں، ’’ملعون ہے وہ جو ان ملعون حرکات کو فسق وفجور نہ جانے، قرآن کریم میں صراحۃً ا س پر لَعَنَہُمُ اللہ فرمایا‘‘۔()
Share:
keyboard_arrow_up