Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 122 of 134
’’یزید پلید فاسق فاجر مرتکب کبائرتھا۔معاذ اللہ اس سے اور ریحانۂ رسول ا سیدنا امام حسین صسے کیا نسبت۔آج کل جو بعض گمراہ کہتے ہیں کہ ہمیں ان کے معاملے میں کیا دخل ہے ہمارے وہ بھی شہزادے وہ بھی شہزادے۔ ایسا بکنے والا مردود، خارجی،ناصبی،مستحقِ جہنم ہے‘‘۔()
کیا یزید مستحقِ لعنت ہے؟
محدث ابن جوزی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے کہ امام احمد بن حنبل صسے ان کے بیٹے صالح رحمہ اللہنے عرض کی، ایک قوم ہماری طرف یہ منسوب کرتی ہے کہ ہم یزید کے دوست اور حمایتی ہیں۔ فرمایا، اے بیٹا! جو شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے وہ یزید کی دوستی کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے۔ بلکہ میں اُس پر کیوں نہ لعنت بھیجوں جس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں لعنت بھیجی ہے۔ میں نے عرض کی، رب تعالیٰ نے قرآن میں کس جگہ اس پر لعنت بھیجی ہے؟ فرمایا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
فَہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْا اَرْحَامَکُمْ O اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَہُمُ الله فَاَصَمَّہُمْ وَاَعْمٰی اَبْصَارَهمْ O ()
’’تو کیا تمہارے یہ لچھن (کرتوت) نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو۔ یہ ہیں وہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور اُنہیں حق (سننے)سے بہرا کردیا اور اُن کی آنکھیں پھوڑ دیں(یعنی انہیں حق دیکھنے سے اندھا کر دیا)‘‘۔
پھر فرمایا:
فَهَل يكون فَسَاد أعظم من الْقَتْل۔
بتاؤ کیا حضرت حسین صکے قتل سے بھی بڑا کوئی فساد ہے؟ ()
علامہ سعد الدین تفتازانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں،’’ حق یہ ہے کہ یزید کا امام حسینص کے قتل پر راضی اور خوش ہونا، اور اہلبیتِ نبوت کی اہانت کرنا ان امور میں سے ہے جو تواترِ معنوی کے ساتھ ثابت ہیں اگرچہ ان کی تفاصیل احاد ہیں۔ تو اب ہم توقف نہیں کرتے اس کی شان میں بلکہ اس کے ایمان میں۔ اللہ تعالیٰ اس(یزید)پر، اس کے دوستوں پر اور اس کے مددگاروں پر لعنت بھیجے‘‘۔ ()
امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ شہادتِ امام حسینصکا ذکر کر کے فرماتے ہیں،
’’ابن زیاد، یزید اور امام حسینص کے قاتل، تینوں پر اللہ کی لعنت ہو‘‘۔()
مشہور مفسر علامہ محمود آلوسی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں، میرے نزدیک یزید جیسے معیّن شخص پر لعنت کرناقطعاً جائز ہے اور اس جیسے فاسق کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ظاہر یہی ہے کہ اس نے توبہ نہیں کی اور اس کی توبہ کا احتمال اس کے ایمان سے بھی زیادہ کمزور ہے۔یزیدکے ساتھ ابن زیاد، ابن سعد اور اس کی جماعت کو بھی شامل کیا جائے گا۔ پس اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ان سب پر ، ان کے ساتھیوں اور مددگاروں پر اور ان کے گروہ پر اور جو بھی ان کی طرف مائل ہو قیامت تک اور اس وقت تک کہ کوئی بھی آنکھ ابوعبداللہ حسین صپر آنسو بہائے‘‘۔ ()
پس ثابت ہو گیا کہ یزید پلید لعنت کا مستحق ہے۔ البتہ ہمارے نزدیک اس ملعون پر لعنت بھیجنے میں وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ ذکرِ الہٰی میں اور نبی کریم ﷺ اور ان کی آل پر درودوسلام پڑھنے میں مشغول رہا جائے۔
مد ینہ منورہ ومکہ مکرمہ پر حملہ:
جب ۶۳ ھ میں یزید کو یہ خبر ملی کہ اہلِ مدینہ نے اس کی بیعت توڑ دی ہے تو اس نے ایک عظیم لشکرمدینہ منورہ پر حملہ کے لیے روانہ کیا۔ علامہ ابن کثیررحمہ اللہ اس لشکر کے سالار اور اس کے سیاہ کارناموں کے متعلق لکھتے ہیں،
’’مسلم بن عقبہ جسے اسلاف مسرف بن عقبہ کہتے ہیں، خدا اس کو ذلیل ورسوا کرے، وہ بڑا جاہل اور اجڈ بوڑھا تھا۔ اس نے یزید کے حکم کے مطابق مدینہ طیبہ کو تین دن کے لیے مباح کر دیا ۔اللہ تعالیٰ یزید کو کبھی جزائے خیر نہ دے، اس لشکر نے بہت سے بزرگوں اور قاریوں کو قتل کیا اور اموال لوٹ لیے‘‘۔ ()
Share:
keyboard_arrow_up