Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 123 of 134
مدینہ طیبہ کو مباح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہاں جس کو چاہو قتل کرو، جو مال چاہو لوٹ لو اور جس کی چاہو آبروریزی کرو(العیاذ باللہ)۔یزیدی لشکر کے کرتوت پڑھ کر ہر مومن خوفِ خدا سے کانپ جاتا ہے اور سکتہ میں آجاتا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو اس شخص نے حلال کردیا جسے آج لوگ امیرُ المؤمنین بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ علامہ ابن کثیر رحمہ اللہلکھتے ہیں،
’’یزیدی لشکر نے عورتوں کی عصمتیں پامال کیں اور کہتے ہیں کہ ان ایام میں ایک ہزار کنواری عورتیں حاملہ ہوئیں‘‘۔()
تاریخ میں اس واقعہ کو واقعۂ حرّہ کہا جاتا ہے۔اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ’’شک نہیں کہ یزید نے والیٔ ملک ہو کر زمین میں فساد پھیلایا، حرمین طیبین وخود کعبۂ معظمہ و روضۂ طیبہ کی سخت بے حرمتیاں کیں، مسجد کریم میں گھوڑے باندھے، ان کی لید اور پیشاب منبر اطہر پر پڑے، تین دن مسجدِ نبوی بے اذان ونماز رہی، مکہ ومدینہ وحجاز میں ہزاروں صحابہ وتابعین بے گناہ شہید کیے گئے۔ کعبۂ معظمہ پر پتھر پھینکے، غلاف شریف پھاڑا اور جلایا، مدینہ طیبہ کی پاک دامن پارسائیں تین شبانہ روز اپنے خبیث لشکر پر حلال کر دیں‘‘۔ ()
حضرت سعید بن مسیب صفرماتے ہیں کہ ایامِ حرّہ میں مسجدِ نبوی میں تین دن تک اذان واقامت نہ ہوئی۔جب بھی نماز کا وقت آتا تو میں قبرِ انور سے اذان اور اقامت کی آواز سنتا تھا۔
بقول علامہ سیوطی رحمہ اللہ،’’جب مدینہ پر لشکر کشی ہوئی تو وہاں کا کوئی شخص ایسا نہ تھا جو اس لشکر سے پناہ میں رہا ہو۔ یزیدی لشکر کے ہاتھوں ہزاروں صحابہ شہید ہوئے، مدینہ منورہ کو خوب لوٹا گیا، ہزاروں کنواری لڑکیوں کی آبروریزی کی گئی‘‘۔
مدینہ منورہ تباہ کرنے کے بعد یزید نے اپنا لشکر حضرت عبداللہ بن زبیرص سے جنگ کرنے کے لیے مکہ مکرمہ بھیج دیا۔اس لشکر نے مکہ پہنچ کر ان کا محاصرہ کر لیا اور ان پر منجنیق سے پتھر برسائے۔ ان پتھروں کی چنگاریوں سے کعبہ شریف کا پردہ جل گیا، کعبہ کی چھت اور اس دنبہ کا سینگ جو حضرت اسماعیل کے فدیہ میں جنت سے بھیجا گیا تھا اور وہ کعبہ کی چھت میں آویزاں تھا، سب کچھ جل گیا۔یہ واقعہ صفر ۶۴ ھ میں ہوا اور اس کے اگلے ماہ یزید مرگیا۔جب یہ خبر مکہ پہنچی تو یزیدی لشکر بھاگ کھڑا ہوا اور لوگوں نے حضرت عبد اللہ بن زبیرص کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ ()
اب اہلِ مدینہ پر مظالم ڈھانے والوں کے انجام کے متعلق تین احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا، مدینے والوں کے ساتھ جو بھی مکر کرے گا وہ یوں پگھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ ()
حضور ﷺ کا ارشاد ہے، جو اہلِ مدینہ کے ساتھ برائی کاارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ اسے اس طرح پگھلائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ ()
حضور ﷺ نے فرمایا، جو اہلِ مدینہ کو ظلم سے خوفزدہ کرے گا، اللہ اس کو خوفزدہ کرے گا ، اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن نہ اس کے فرض قبول ہونگے نہ نفل۔()
کیا یزید مغفور ہے؟
بعض یزیدی فکر کے علمبردار یزید کو جنتی ثابت کرنے کے لیے بخاری شریف کی یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا، اَوَّلُ جَیْشٍ مِنْ اُمَّتِیْ یَغْزُوْنَ مَدِیْنَۃَ قَیْصَرَ مَغْفُوْرٌ لَّہُم۔ ()
’’میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر پر جنگ کرے گا، وہ مغفور یعنی بخشا ہوا ہے‘‘۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ قیصر کے شہر پر جس اسلامی لشکر نے سب سے پہلے حملہ کیا اس میں یزید ہرگز نہیں تھا۔ علامہ ابن اثیررحمہ اللہ فرماتے ہیں،
Share:
keyboard_arrow_up