Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 124 of 134
’’اور اسی سال (یعنی ۴۹ ھ) میں اور کہا گیا ہے کہ ۵۰ ھ میں حضرت معاویہص نے ایک لشکر بلادِ روم کی طرف بھیجا اور سفیان بن عوف ص کو اس لشکر کا امیر بنایا اور اپنے بیٹے یزید کو بھی اس لشکر میں شریک ہونے کا حکم دیا لیکن یزید اس لشکر میں نہ گیا اور حیلے بہانے شروع کر دئیے اس پر حضرت معاویہص اس کو بھیجنے سے رک گئے۔اس جنگ میں لوگ بھوک پیاس اور سخت بیماری میں مبتلا ہو گئے۔ جب یزید کو اس کی خبر ہوئی تو اس نے (خوش ہو کر) یہ اشعار کہے جن کا ترجمہ یہ ہے۔
’’مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ ان لشکروں پر بخار اور تنگی وتکلیف کی بلاؤں کی وجہ سے مقام فرقدونہ میں کیا گزری۔جبکہ میں دیر مرَّان میں اونچی مسند پر تکیہ لگائے بیٹھا ہوں اور میرے پہلو میں اُمِ کلثوم موجود ہے‘‘۔
اُمِ کلثوم یزید کی بیوی تھی۔ یزید کے یہ اشعار حضرت معاویہص تک پہنچے تو انہوں نے قسم کھائی کہ اب میں یزید کو ضرور سفیان بن عوفص کے پاس سرزمینِ روم بھیجوں گا تاکہ یہ بھی اُن مصائب میں مبتلا ہو جو اُن لوگوں کو پہنچے ہیں۔()
یہی واقعہ علامہ ابن خلدون رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ میں جلد ۳ صفحہ ۲۰ پر تحریر کیا ہے۔ مؤرخین کی اس گواہی سے چند باتیں ثابت ہوئیں۔
۱۔ حدیث پاک میں مغفرت کی بشارت پہلے لشکر کے لیے ہے اور پہلے لشکر میں یزید نہیں تھا اس لیے وہ اس بشارت کا مصداق ہرگز نہیں ہوا۔ نیز اس لشکر کا امیر یزید نہیں بلکہ سفیان بن عوفص تھے۔
۲۔ یزید کو جہاد سے کوئی رغبت نہ تھی اسی لیے حیلے بہانوں سے جہاد پر نہ گیا۔یہی نہیں بلکہ اس کے دل میں مجاہدینِ اسلام کے لیے بھی ذرا سی ہمدردی نہ تھی اس لیے اس نے ان کی پریشانیوں کا مذاق اڑایا اور اپنے عیش کرنے پر فخر کیا۔
۳۔ یزید کے اشعار کے باعث حضرت امیر معاویہ صنے اسے دوسرے لشکر میں بطور سزا کے بھیجا۔یہ امر مسلمہ ہے کہ بغیر اخلاص کے کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی۔ پس سزا کے طور پر جہاد پر بھیجا جانے والا کیونکر اجر کا مستحق ہو سکتا ہے؟
محدثین کرام فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کا ارشاد مَغْفُوْرٌ لَّہُمْ عام ہے لیکن کسی خاص دلیل کی وجہ سے اس عموم میں شامل کسی فرد کو خارج کیا جا سکتا ہے۔مثلاً حدیث پاک ہے، من قال لا الہ الا اللہ فدخل الجنۃ۔ یعنی جس نے لاالٰہ الا اللہ کہا وہ جنتی ہو گیا۔اگر کوئی شخص صرف زبان سے یہ کلمہ کہہ دے اور دل سے اس کا قائل نہ ہو تو کیا وہ جنتی ہو گا؟ ہرگز نہیں۔ اگر بالفرض کوئی زبان ودل سے یہ کلمہ کہتا ہے مگر بعد میں مرتد یا بدمذہب ہو جاتا ہے تو وہ اس خاص دلیل کے باعث اس بشارت کے عموم سے خارج ہو جائے گا۔بالفرضِ محال اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ یزیداس پہلے لشکر میں جہاد کی نیت سے شریک ہوا تھا تب بھی امام حسین صکے قتل کا حکم، اس پر خوشی، اہلبیت کی اہانت، مدینہ منورہ پر حملہ،مسلمانوں کا قتلِ عام، مکہ مکرمہ پر فوج کشی وغیرہ یزید کے ایسے سیاہ کرتوت ہیں کہ ان میں سے ہر ایک اسے مغفرت کی بشارت سے خارج کر دینے کے لیے کافی ہے۔
شارح بخاری علامہ بدر الدین عینی رحمہ اللہ اس حدیث کو یزید کے لیے بطور تعریف سمجھنے والوں کے جواب میں فرماتے ہیں، ’’میں کہتا ہوں ، یزید کے لیے اس حدیث میں تعریف کا کون سا پہلو ہے جبکہ اس کا حال (سیاہ کرتوتوں پر مبنی) خوب مشہور ہے۔اگر تم یہ کہو کہ حضور ﷺ نے اس لشکر کے حق میں مَغْفُوْرٌ لَّہُم فرمایا ہے تو میں یہ کہتا ہوں کہ اس عموم میں یزید کے داخل ہونے سے یہ لازم نہیں کہ وہ کسی دوسری دلیل سے اس سے خارج بھی نہ ہوسکے۔
Share:
keyboard_arrow_up