Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 125 of 134
اہلِ علم کا اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ حضور ﷺ کے اس ارشاد مَغْفُوْرٌ لَّہُم میں وہی لوگ داخل ہیں جو مغفرت کے مستحق ہیں۔چنانچہ ان میں سے اگر کوئی شخص مرتد ہو جائے تو وہ اس بشارت کے عموم میں داخل نہیں ہو گا۔ پس معلوم ہوا کہ مغفور وہی ہو گا جس میں مغفرت کی شرط پائی جائے گی‘‘۔ ()
ایسا ہی مضمون شارح بخاری امام قسطلانی رحمہ اللہنے اس حدیث کی شرح میں تحریر کیا ہے۔پس ثابت ہو گیا کہ یزیدپلید ہرگز بخاری کی مذکورہ حدیث کا مصداق نہیں ہے۔
یزید کس حدیث کا مصداق ہے؟
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول ا کو مَا کَانَ وَمَا یَکون (یعنی جو کچھ ہو چکا اور جو کچھ آئندہ ہوگا) کا علم عطا فرمایا۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلاَ یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہٖ اَحَدًا اِلاَّ مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ ۔()
’’(اللہ)غیب کا جاننے والا (ہے) تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے‘‘۔
حضرت عمر صسے روایت ہے کہ غیب جاننے والے آقا ومولیٰ انے ایک دن ابتدائے تخلیق سے لے کر جنتیوں کے جنت میں جانے اور دوزخیوں کے دوزخ میں جانے تک کے تمام حالات وواقعات بیان فرمادیے۔ جس نے یاد رکھا اس نے یاد رکھا اور جس نے بھلا دیا اس نے بھلا دیا۔()
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ نے ابتدائے تخلیق سے لے کر قیامت تک ہونے والے تمام فتنوں اور واقعات کو بیان فرما دیا۔اور آپ نے یزیدی فتنہ کی خبر اس حدیث میں دی ہے۔
حضرت ابوہریرہ صفرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا، میری امت کی ہلاکت قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھوں ہو گی۔ یہ سن کر مروان نے کہا، ان لڑکوں پر اللہ کی لعنت۔ حضرت ابوہریرہ صنے فرمایا، اگر میں چاہوں تو بتادوں کہ وہ فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں ہیں۔ ()
اس حدیث کی شرح میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہفرماتے ہیں،
حضرت ابوہریرہص ان لڑکوں کے نام اور شکلیں بھی جانتے تھے لیکن فتنہ وفساد کے خوف سے آپ نے انہیں ظاہر نہیں فرمایا۔اس سے مراد یزید بن معاویہ ، ابن زیاد اور ان کی مثل بنی اُمیَّہ کے دوسرے نوجوان ہیں۔ اللہ ان کو ذلیل کرے۔
بیشک انہی کے ذریعے اہلبیت کا قتل، انہیں قید کرنا اور اکابر مہاجرین وانصار صحابہ کرام کا قتل وقوع پذیر ہوا ہے۔ حجاج جو عبدالملک بن مروان کا امیرُ الامراء تھا اور سلیمان بن عبدالملک اور اس کی اولاد سے مسلمانوں کے جان ومال کی جو تباہی ہوئی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ()
ابن ابی شیبہ رحمہ اللہسے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ ص بازار میں چلتے ہوئے بھی دعا کیا کرتے، الہٰی! مجھے ساٹھ ہجری کے سال اور لڑکوں کی حکومت دیکھنے سے بچا۔()
علامہ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں،ابوہریرہ ص جانتے تھے کہ ساٹھ ہجری میں یزید کی حکومت ہو گی اور اس کے قبیح حالات کو وہ صادق ومصدوق ا کے بتانے سے جانتے تھے اس لیے انہوں نے اس سال سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کی۔()
محدث علی قاری رحمہ اللہ اس کے تحت لکھتے ہیں،
اس سے مراد جاہل لڑکوں کی حکومت ہے جیسے یزید بن معاویہ اور حکم بن مروان کی اولاد اور ان جیسے دوسرے۔()
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس حدیث میں اشارہ ہے کہ پہلا لڑکا ساٹھ ہجری میں ہوگا چنانچہ ایسا ہی ہوا، یزید بن معاویہ ساٹھ ہجری میں خلیفہ بنا اور چونسٹھ ہجری میں مر گیا۔()
مسند ابویعلیٰ میں حضرت ابوعبیدہ صسے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺنے فرمایا، میری امت عدل وانصاف پر قائم رہے گی یہاں تک کہ بنی اُمیَّہ میں یزید نامی ایک شخص ہو گا جو اس عدل میں رخنہ اندازی کرے گا۔()
Share:
keyboard_arrow_up