خلاصہ یہ ہے کہ ان احادیث کا مصداق یزید ہے جن میں امت کی ہلاکت کا باعث لڑکوں کو بتایا گیا ہے نیز ’’امارۃ الصبیان ‘‘ سے مراد بھی یزید کی حکومت ہے۔
علامہ سیوطی رحمہ اللہنے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن عبدالعزیز صکے پاس کسی شخص نے یزید کو امیرُ المؤمنین کہہ دیا۔آپ نے اس سے فرمایا، تو اُسے امیرُالمؤمنین کہتا ہے؟پھر آپ نے حکم دیا کہ یزید کو امیرُ المؤمنین کہنے والے کو بیس کوڑے مارے جائیں۔()
صحابہ و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کی باہم محبت
بعض لوگ اہلبیت اطہارثکی شان اس طرح بیان کرتے ہیں کہ جیسے صحابہ کرام ث سے ان کی مخاصمت اور لڑائی تھی یونہی اس کے بالعکس بعض لوگ شانِ صحابہ اسی انداز میں بیان کرتے ہیں۔ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ صحابہ کرامث اور اہلبیت اطہار ثکے درمیان بیحد محبت تھی۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی فضیلت پر احادیث بیان کرتے ہیں۔
جب سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے پوچھا جاتا ہے کہ لوگوں میں سے رسولُ اﷲ ا کو سب سے زیادہ پیارا کون تھا؟ تو آپ فرماتی ہیں ، فاطمہرضی اﷲ عنہا ۔
پھرپوچھا جاتا ہے کہ مردوں میں سے کون زیادہ محبوب تھا ؟فرماتی ہیں ، اُن کے شوہریعنی حضرت علیص۔ ()
اسی طرح جب سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا سے پوچھا جاتا ہے کہ لوگوں میں سے رسول اﷲ ﷺ کو سب سے زیادہ پیارا کون تھا؟ تو آپ فرماتی ہیں ، عائشہرضی اﷲ عنہا ۔
پھرپوچھا جاتاہے کہ مردوں میں سے کون زیادہ محبوب تھا ؟تو آپ فرماتی ہیں ، اُن کے والد حضرت ابوبکرص۔ ()
اگر خدانخواستہ ان کے درمیان کوئی مخاصمت یا رنجش ہوتی تو وہ ایسی احادیث بیان نہ کرتے ۔ایسی کئی احادیث اس کتاب میں پہلے بیان ہو چکی ہیں، مزید چند احادیث سپردِ قلم و قرطاس ہیں۔
سیدنا ابوبکر و سیدناعلی رضی اللہ عنہما کی باہم محبت:
حضرت ابوبکرص اور حضرت علیص کے درمیان کس قدر محبت تھی، اس کا اندازہ اس حدیث پاک سے کیجیے۔قیس بن ابی حازمص سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت ابوبکرص حضرت علی صکے چہرے کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگے۔حضرت علیص نے پوچھا، آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ سیدنا ابوبکرص نے فرمایا،’’ میں نے آقا ومولیٰ اکو یہ فرماتے سنا ہے کہ پلِ صراط پر سے صرف وہی گزر کر جنت میں جائے گا جس کو علی وہاں سے گزرنے کا پروانہ دیں گے‘‘۔
اس پرسیدنا علی صہنسنے لگے اور فرمایا، ’’اے ابوبکر ! آپ کو بشارت ہو۔ میرے آقا و مولیٰا نے یہ بھی فرمایا ہے کہ (اے علی!) پلِ صراط پر سے گزرنے کا پروانہ صرف اُسی کو دینا جس کے دل میں ابوبکر کی محبت ہو‘‘۔()
سیدنا علیص نے فرمایا، ایک دن مشرکین نے رسول کریم ﷺ کو اپنے نرغہ میں لے لیا۔وہ آپ کو گھسیٹ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم وہی ہو جو کہتا ہے کہ ایک خدا ہے۔خدا کی قسم! کسی کو ان مشرکین سے مقابلہ کی جرأت نہیں ہوئی سوائے ابوبکرص کے۔ وہ آگے بڑھے اور مشرکین کو مار مار کر اور دھکے دے دے کر ہٹاتے جاتے اور فرماتے جاتے، تم پر افسوس ہے کہ تم ایسے شخص کو ایذا پہنچا رہے ہوجو یہ کہتا ہے کہ’’ میرا رب صرف اللہ ہے‘‘۔یہ فرما کر حضرت علی صاتنا روئے کہ آپ کی داڑھی تر ہوگئی۔
پھر فرمایا،اے لوگو! یہ بتاؤکہ آلِ فرعون کا مومن اچھا تھا یا ابوبکرص اچھے تھے؟لوگ یہ سن کر خاموش رہے تو حضرت علیص نے پھر فرمایا، لوگو! جواب کیوں نہیں دیتے۔خدا کی قسم! ابوبکرصکی زندگی کا ایک لمحہ آلِ فرعون کے مومن کی ہزار ساعتوں سے بہتر اور برتر ہے کیونکہ وہ لوگ اپنا ایمان ڈر کی وجہ سے چھپاتے تھے اور ابوبکرص نے اپنے ایمان کا اظہار علی الاعلان کیا۔ ()
Page 126 of 134

