حضرت علی صسے روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوبکرص کے پاس سے گزرا اوروہ صرف ایک کپڑا اوڑھے بیٹھے تھے۔ اُن کی یہ حالت دیکھ کر بے ساختہ میری زبان سے نکلا، کوئی صحیفہ والا اللہ تعالیٰ کو اتنا محبوب نہیں جتنا یہ کپڑا اوڑھنے والا اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے۔ ()
حضرت انس ص فرماتے ہیں کہ سرکارِ دوعالم ا اپنے صحابہ کے درمیان مسجد میں تشریف فرما تھے کہ حضرت علیص آئے اور سلام کر کے کھڑے ہو گئے۔ حضور منتظر رہے کہ دیکھیں کون ان کے لیے جگہ بناتا ہے۔حضرت ابوبکر ص آپ کی دائیں جانب بیٹھے ہوئے تھے۔آپ اپنی جگہ سے اُٹھ گئے اور فرمایا، اے ابوالحسن! یہاں تشریف لے آئیے۔
حضرت علیص، حضور ﷺ اور سیدنا ابوبکر صکے درمیان بیٹھ گئے۔اس پر آقا ومولیٰ اکے چہرۂ مبارک پر خوشی کے آثار ظاہر ہوئے اور آپ نے فرمایا، ’’اہلِ فضل کی فضیلت کو صاحبِ فضل ہی جانتا ہے‘‘۔اسی طرح سیدنا ابوبکرص حضور ﷺ کے چچا حضرت عباسص کی بھی تعظیم کیا کرتے۔()
ایک روز حضرت ابوبکرص مسجد نبوی میں منبرپر تشریف فرما تھے کہ اس دوران امام حسنص آگئے جو کہ اس وقت بہت کم عمر تھے۔ امام حسنص کہنے لگے، میرے بابا جان کے منبر سے نیچے اتر آئیے۔سیدنا ابوبکر صنے فرمایا، ’’تم سچ کہتے ہو ۔ یہ تمہارے بابا جان ہی کا منبر ہے‘‘۔ یہ فرما کر آپ نے امام حسنص کو گود میں اٹھا لیا اور اشکبار ہو گئے۔ حضرت علیص بھی وہاں موجود تھے۔ انہوں نے کہا، خدا کی قسم! میں نے اس سے کچھ نہیں کہا تھا۔ سیدنا ابوبکرص نے فرمایا، آپ سچ کہتے ہیں، میں آپ کے متعلق غلط گمان نہیں کرتا۔ ()
ابن عبدالبررحمہ اللہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابوبکرص اکثر حضرت علیص کے چہرے کی طرف دیکھا کرتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے اس کا سبب دریافت کیا تو فرمایا، میں نے آقا ومولیٰ ا کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ علی کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔ ()
ایک روز سیدنا ابوبکرص تشریف فرما تھے کہ سیدنا علیص آگئے۔ آپ نے انہیں دیکھ کر لوگوں سے فرمایا، جوکوئی رسول کریم ﷺ کے قریبی لوگوں میں سے عظیم المرتبت، قرابت کے لحاظ سے قریب تر، افضل اور عظیم تر حق کے حامل شخص کو دیکھ کر خوش ہونا چاہے وہ اس آنے والے کو دیکھ لے۔ ()
سیدنا ابوبکر صکے سب سے زیادہ بہادر ہونے سے متعلق سیدنا علیص کا ارشاد پہلے تحریر ہو چکا،اگر ان کے مابین کسی قسم کی رنجش ہوتی تو کیایہ دونوں حضرات ایک دوسرے کی فضیلت بیان فرماتے؟یہ احادیث مبارکہ ان کی باہم محبت کی واضح مثالیں ہیں۔
سیدنا عمر و سیدناعلی رضی اللہ عنہما کی باہم محبت:
حضرت ابن عباسص فرماتے ہیں کہ دورِ فاروقی میں مدائن کی فتح کے بعد حضرت عمرص نے مسجد نبوی میں مالِ غنیمت جمع کر کے تقسیم کرنا شروع کیا۔ امام حسن ص تشریف لائے تو انہیں ایک ہزار درہم نذر کیے۔پھر امام حسین صتشریف لائے تو انہیں بھی ایک ہزار درہم پیش کیے۔پھر آپ کے صاحبزادے عبداللہ ص آئے تو انہیں پانچ سو درہم دیے۔ انہوں نے عرض کی، اے امیر المؤمنین! جب میں عہدِ رسالت میں جہاد کیا کرتا تھا اس وقت حسن وحسین بچے تھے اور گلیوں میں کھیلا کرتے تھے۔ جبکہ آپ نے اُنہیں ہزار ہزار اور مجھے پانچ سو درہم دئیے ہیں۔
حضرت عمر صنے فرمایا، تم عمر کے بیٹے ہو جبکہ ان کے والد علی المرتضیٰ، والدہ فاطمۃ الزہرا،نانا رسول اللہ ﷺ ، نانی خدیجۃ الکبریٰ، چچا جعفر طیار، پھوپھی اُم ہانی، ماموں ابراہیم بن رسول اللہ ﷺ ، خالہ رقیہ واُم کلثو م وزینب رسول کریم ﷺکی بیٹیاں ہیںث۔اگر تمہیں ایسی فضیلت ملتی تو تم ہزار درہم کا مطالبہ کرتے۔یہ سن کر حضرت عبداللہ بن عمرص خاموش ہو گئے۔
Page 127 of 134

