Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 128 of 134
جب اس واقعہ کی خبر حضرت علیص کو ہوئی تو انہوں نے فرمایا، میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ’’ عمر اہلِ جنت کے چراغ ہیں‘‘۔ حضرت علیص کا یہ ارشاد حضرت عمرص تک پہنچا تو آپ بعض صحابہ کے ہمراہ حضرت علی صکے گھر تشریف لائے اور دریافت کیا، اے علی! کیا تم نے سنا ہے کہ آقا ومولیٰ ا نے مجھے اہلِ جنت کا چراغ فرمایا ہے۔ حضرت علی صنے فرمایا، ہاں ! میں نے خود سنا ہے۔
حضرت عمر صنے فرمایا، اے علی! میری خواہش ہے کہ آپ یہ حدیث میرے لیے تحریر کر دیں۔سیدنا علی صنے یہ حدیث لکھی،
’’یہ وہ بات ہے جس کے ضامن علی بن ابی طالب ہیں عمر بن خطاب ص کے لیے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا، اُن سے جبریل ںنے ، اُن سے اللہ تعالیٰ نے کہ:
اَنَّ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ سِرَاجُ اَہْلِ الْجَنَّۃِ ۔
عمر بن خطاب اہلِ جنت کے چراغ ہیں‘‘۔
سیدنا علیص کی یہ تحریر حضرت عمر صنے لے لی اور وصیت فرمائی کہ جب میرا وصال ہو تو یہ تحریر میرے کفن میں رکھ دینا۔ چنانچہ آپ کی شہادت کے بعد وہ تحریر آپ کے کفن میں رکھ دی گئی۔()
اگر ان کے مابین کسی قسم کی مخاصمت ہوتی تو کیایہ دونوں حضرات ایک دوسرے کی فضیلت بیان فرماتے؟ یہ واقعہ ان کی باہم محبت کی بہت عمدہ دلیل ہے۔
دارقطنی رحمہ اللہنے روایت کیا ہے کہ حضرت عمرص نے حضرت علی صسے کوئی بات پوچھی جس کا انہوں نے جواب دیا۔اس پر حضرت عمرص نے فرمایا، اے ابوالحسن! میں اس بات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں ایسے لوگوں میں رہوں جن میں آپ نہ ہوں۔ ()
اسی طرح جب رسول کریم ﷺنے فرمایا،’’ اے اﷲ ! جس کا میں دوست ہوں اس کے علی بھی دوست ہیں ۔ اے اﷲ ! اس سے دوستی ر کھ جواِن سے دوستی رکھے اور اس سے دشمنی رکھ جو اِن سے دشمنی رکھے‘‘۔ اس کے بعد حضرت عمرص اُن سے ملے توفرمایا، اے ابنِ ابو طالب ! آپ کو مبارک ہو کہ آپ ہر صبح و شام ہرایمان والے مرد و عورت کے دوست ہیں۔ ()
دارقطنی رحمہ اللہنے بیان کیا ہے کہ دو بدو کسی جھگڑے میں حضرت عمرصکے پاس آئے تو آپ نے حضرت علیص کو ان کا فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ ان میں سے ایک بولا، یہ ہمارے درمیان فیصلہ کرے گا؟اس پر حضرت عمرص نے اسکا گریبان پکڑ لیا اور فرمایا، تیرا برا ہو۔ تجھے علم ہے کہ یہ کون ہیں؟ یہ تیرے اور ہر مومن کے آقا ہیں اور جس کے یہ آقا نہیں وہ مومن ہی نہیں۔ ()
اس واقعہ سے بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حضرت عمرص کو حضرت علیص سے کس قدر محبت تھی۔
حضرت عمرص امورِ سلطنت کے وقت کسی سے نہیں ملتے تھے۔آپ کے صاحبزادے عبداللہص نے ملاقات کی اجازت طلب کی تو نہیں ملی۔اس دوران امام حسن صبھی ملاقات کے لیے آگئے۔ انہوں نے دیکھا کہ ابن عمرص کو اجازت نہیں ملی تو مجھے بھی اجازت نہیں ملے گی۔ یہ سوچ کر واپس جانے لگے۔
کسی نے حضرت عمرص کو اطلاع کر دی تو آپ نے فرمایا، انہیں میرے پاس لاؤ۔جب وہ آئے تو فرمایا، آپ نے آنے کی خبر کیوں نہ کی؟ امام حسن صنے کہا، میں نے سوچا، جب بیٹے کو اجازت نہیں ملی تو مجھے بھی نہیں ملے گی۔
آپ نے فرمایا، وہ عمر کا بیٹا ہے اور آپ رسول اللہ ﷺ کے بیٹے ہیں اس لیے آپ اجازت کے زیادہ حق دار ہیں۔عمرص کو جو عزت ملی ہے وہ اللہ کے بعد اس کے رسول ا اور اہلبیت کے ذریعے ملی ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آئندہ جب آپ آئیں تو اجازت لینے کی بھی ضرورت نہیں۔ ()
ایک اور روایت ملاحظہ فرمائیں جس سے سیدنا عمر و علی رضی اللہ عنہما میں محبت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ حضرت ابوبکرص جب شدید علیل ہو گئے تو آپ نے کھڑکی سے سرمبارک باہر نکال کر صحابہ سے فرمایا، اے لوگو! میں نے ایک شخص کو تم پر خلیفہ مقرر کیا ہے کیا تم اس کام سے راضی ہو؟
Share:
keyboard_arrow_up