سب لوگوں نے متفق ہو کر کہا، اے خلیفۂ رسول ا! ہم بالکل راضی ہیں۔اس پرسیدنا علیص کھڑے ہوگئے اور کہا، وہ شخص اگر عمر ص نہیں ہیں تو ہم راضی نہیں ہیں۔سیدنا ابوبکر صنے فرمایا، بیشک وہ عمر ہی ہیں۔ ()
اسی طرح امام محمدباقرص حضرت جابر انصاری ص سے روایت کرتے ہیں کہ جب وصال کے بعدحضرت عمرص کو غسل دے کر کفن پہنایا گیا تو حضرت علیص تشریف لائے اور فرمانے لگے، ا ن پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو، میرے نزدیک تم میں سے کوئی شخص مجھے اس (حضرت عمرص)سے زیادہ محبوب نہیں کہ میں اس جیسا اعمال نامہ لیکر بارگاہِ الہٰی میں حاضر ہوں۔ ()
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات میں کس قدر پیار و محبت تھی۔ اورفاروقی تربیت ہی کا نتیجہ تھا کہ جب ایک حاسد شخص نے حضرت عبداللہ بن عمرص سے حضرت علی صکے متعلق سوال کیاتوآپ نے ان کی خوبیاں بیان کیں پھر پوچھا، یہ باتیں تجھے بری لگیں؟ اس نے کہا، ہاں۔
آپ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ تجھے ذلیل وخوار کرے۔ جا دفع ہواور مجھے نقصان پہنچانے کی جو کوشش کر سکتا ہو کر لے۔ ()
حضرت عمر صسے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺنے فرمایا،’’ قیامت کے دن میرے حسب و نسب کے سوا ہر سلسلۂ نسب منقطع ہو جائے گا‘‘۔اسی بناء پر سیدنا عمرص نے سیدنا علیص سے ان کی صاحبزادی سیدہ اُمِ کلثوم رضی اللہ عنہا کا رشتہ مانگ لیا۔اور ان سے آپ کے ایک فرزندزیدص پیدا ہوئے۔
حضرت علی صکا یہ ارشاد بھی قابلِ غور ہے، آپ فرماتے ہیں کہ’’ جب تم صالحین کا ذکر کرو تو حضرت عمرص کو کبھی فراموش نہ کرو‘‘۔ ()
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور عظمتِ شیخین رضی اللہ عنہما:
سیدنا علیص اور حضرات شیخینرضی ا للہ عنہما ایک دوسرے کی خوشی کو اپنی خوشی اور دوسرے کے غم کو اپنا غم سمجھتے تھے۔ شیعہ عالم ملا باقر مجلسی نے جلاء العیون صفحہ ۱۶۸ پر لکھاہے کہ حضرت علی صکو نبی کریم ﷺ سے سیدہ فاطمہ کا رشتہ مانگنے کے لیے حضرت ابوبکر وعمر رضی ا للہ عنہمانے قائل کیا۔اسی کتاب میں مرقوم ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدہ فاطمہرضی اللہ عنہا کی شادی کے لیے ضروری سامان خریدنے کے لیے سیدنا ابوبکرص کو ذمہ داری سونپی تھی۔اس سے معلوم ہوا کہ سیدنا ابوبکرص کو رسول کریم ﷺکے گھریلو معاملات میں بھی خاص قرب حاصل تھا۔
حضرت ابن عباس صسے روایت ہے کہ میں حضرت عمرص کی شہادت کے بعد ان کے جسم اقدس کے پاس کھڑا تھا کہ ایک صاحب نے میرے پیچھے سے آکر میرے کندھے پر اپنی کہنی رکھی اور فرمایا، اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے! بے شک مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں دوستوں (یعنی حضور اکرم ﷺ اور ابوبکر صدیق ص)کا ساتھ عطا کرے گا کیونکہ میں نے بار ہا رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’میں تھا اور ابوبکر و عمر‘،’میں نے یہ کہا اور ابوبکر و عمر نے ‘،’میں چلا اور ابوبکر و عمر‘ ، ’میں داخل ہوا اور ابوبکر وعمر‘، ” میں نکلا اور ابوبکر و عمر ‘۔(رضی اللہ عنہما ) میں نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ تھے ۔ ()
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ رسول کریم ﷺ سے خصوصی قرب و محبت کے باعث سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے دلی محبت رکھتے تھے ۔
ایک شخص نے حضرت علیص سے دریافت کیا، میں نے خطبہ میں آپ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ’’اے اللہ ! ہم کو ویسی ہی صلاحیت عطا فرما جیسی تو نے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کو عطا فرمائی تھی‘‘۔ ازراہِ کرم آپ مجھے ان ہدایت یاب خلفائے راشدین کے نام بتا دیں۔ یہ سن کر حضرت علی صآبدیدہ ہو گئے اور فرمایا،
Page 129 of 134

