وہ میرے دوست ابوبکر اور عمررضی ا للہ عنہما تھے۔ ان میں سے ہر ایک ہدایت کا امام اور شیخ الاسلام تھا۔ رسول کریم ﷺ کے بعد وہ دونوں قریش کے مقتدیٰ تھے، جس شخص نے ان کی پیروی کی وہ اللہ تعالیٰ کی جماعت میں داخل ہو گیا۔ ()
یہی واقعہ شیعہ حضرات کی کتاب تلخیص الشافی جلد۳ صفحہ ۳۱۸ پر امام جعفر صادق صنے امام محمد باقر صسے روایت کیا ہے۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، یہ بات صحیح روایات سے ثابت اور تواتر سے نقل ہوتی چلی آئی ہے کہ حضرت علیص اپنی خلافت کے زمانے میں اپنے رفقاء کے سامنے حضرت ابوبکر و عمررضی ا للہ عنہما کی تعریف و توصیف کے ساتھ ساتھ ان کی افضلیت کو برملا اور علانیہ بیان کرتے رہے ہیں۔
علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے اَسّی (۸۰) سے زیادہ حضرات سے صحیح سندوں کے ساتھ ثابت کیا ہے اور صحیح بخاری کے حوالے سے بھی بیان کیا ہے کہ حضرت علی ثنے فرمایا، نبی کریم ﷺ کے بعدسب لوگوں سے افضل ترین ابوبکرث ہیں پھر عمرث۔ آپ کے صاحبزادے محمد بن حنفیہث نے کہا، پھر آپ؟ تو آپ نے فرمایا، میں ایک عام مسلمان ہوں۔ ()
سیدنا علی صنے انہیں سیدنا ابوبکر و عمررضی ا للہ عنہما سے افضل کہنے والوں کے لیے دُرّوں کی سزا تجویزفرمائی ہے، شیعہ حضرات کی اسماء الرجال کی معتبر کتاب رجال کشی کا حوالہ ملاحظہ فرمائیں۔سفیان ثوری ، محمد بن سکندر رحمہما اللہسے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علیص کو کوفہ کے منبر پر بیٹھے ہوئے دیکھا کہ وہ فرما رہے تھے، اگر میرے پاس کوئی ایسا شخص آئے جو مجھے ابوبکر وعمررضی ا للہ عنہما پر فضیلت دیتا ہو تو میں اس کو ضرور دُرّے لگاؤں گا جو کہ بہتان لگانے والے کی سزا ہے۔ ()
اسی کتاب میں سیدنا علیص کا فتویٰ موجود ہے کہ ’’حضرت ابوبکر اور حضرت عمررضی ا للہ عنہما کی محبت ایمان ہے اور ان کا بغض کفر ہے‘‘۔ ()
پھر اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ فرماتے ہیں، محبتِ علی مرتضیٰ ص کا یہی تقاضا ہے کہ محبوب کی اطاعت کیجیے (یعنی سیدنا ابوبکر وعمررضی ا للہ عنہما کو ساری امت سے افضل مانیے) اور اُس کے غضب اور اَسّی کوڑوں کے استحقاق سے بچئے۔ ()
شیعہ حضرات یہ کہہ کر انکار کر دیتے ہیں کہ’’ یہ ساری باتیں تقیہ کے طور پر کہی گئی تھیں۔ یعنی حضرت علی ث حضرات شیخین کی تعریف محض جان کے خوف اور دشمنوں کے ڈر سے کیا کرتے تھے۔ اگر ایسا نہ کرتے تو ان کی جان کو خطرہ تھا مگر دلی طور پر حضرت علیث حضرات شیخین کے خلاف تھے‘‘۔
شیعوں کے اس بیان میں قطعاً کوئی صداقت نہیں ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حضرت علیث جو شیرِ خدا تھے اور مرکزِ دائرۂ حق تھے، اتنے بزدل، مغلوب اور عاجز ہو گئے تھے کہ وہ حق بیان کرنے سے قاصر رہے اور ساری زندگی خوف وعجز میں گزار دی، پھر اسد اللہ الغالب کا لقب کیا معنی رکھتا ہے؟‘‘ ()
سیدنا علی المرتضیٰ حیدرِ کرار صسے محبت کا دعویٰ کرنے والے آپ کا یہ ارشاد بھی دل کے کانوں سے سن لیں۔
حضرت علی صفرماتے ہیں، رسول کریم ﷺ کے بعد تمام لوگوں میں ابوبکر وعمررضی اللہ عنہما سب سے بہتر ہیں۔ کسی مومن کے دل میں میری محبت اور ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کا بغض کبھی یکجا نہیں ہو سکتے۔ ()
حضرات شیخین رضی اللہ عنہما اور ائمہ اہلبیت:
امام جعفر صادق ص اپنے والد امام محمد باقرص سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص میرے والد امام زین العابدین صکے پاس آیا اور بولا، مجھے ابوبکرص کے بارے میں کچھ بتائیں۔آپ نے فرمایا، حضرت ابوبکر صدیقص کے متعلق؟ اس نے کہا، آپ اُنہیں صدیق کہتے ہیں؟
Page 130 of 134

