آپ نے فرمایا، تجھے تیری ماں روئے! رسول کریم ﷺ ،مہاجرین وانصار صحابہ کرام نے ان کا نام صدیق رکھا ہے اور جو انہیں صدیق نہ کہے، اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت میں اس کی بات کو سچا نہ کرے۔ یہاں سے چلا جا اور ابوبکر وعمررضی اللہ عنہما سے محبت رکھ۔
دارقطنی رحمہ اللہ نے عبداللہ سے روایت کی ہے کہ میں نے امام محمد باقرص سے تلوار کو ملمع کروانے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا، اس میں کوئی حرج کی بات نہیں، حضرت ابوبکر صدیق صنے بھی اپنی تلوار کو ملمع کروایا ہوا تھا۔میں نے کہا،آپ انہیں صدیق کہتے ہیں؟ فرمایا، ہاں وہ صدیق ہیں، ہاں وہ صدیق ہیں اور جو انہیں صدیق نہ کہے اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت میں اس کی بات کو سچا نہ کرے۔
اسی طرح امام جعفر صادق صکا یہ قول بھی بیان ہوا ہے کہ جیسے میں حضرت علی صسے شفاعت کی امید رکھتا ہوں ویسے ہی حضرت ابوبکر ص سے بھی شفاعت کی امید رکھتا ہوں۔ انہوں نے مجھے دوبار جنا ہے۔ ()
دوبار جننے کا مفہوم یہ ہے کہ امام جعفر صادق ص کی والدہ اُمِ فروہ کے والد قاسم بن محمد بن ابو بکر اور ان کی والدہ اسماء بنت عبدالرحمن بن ابوبکرث ہیں۔
امام جعفر صادق صنے یہ بھی ارشادفرمایا، جو شخص سیدناابوبکر و عمررضی اللہ عنہما کو بھلائی کے ساتھ نہ یاد کرے ، میں اُس شخص سے بالکل بیزار اور الگ ہوں۔ ()
حضرت زید بن علی رضی اللہ عنہماکے پاس رافضی آئے اور کہا، آپ حضراتِ شیخین یعنی ابوبکروعمر رضی اللہ عنہماسے بیزاری اظہار کریں تو ہم آپ سے بیعت کر لیں گے۔آپ نے انکار کردیا اور فرمایا، خارجیوں نے سب سے اظہارِ بیزاری کیا مگر سیدنا ابوبکر وسیدنا عمررضی اللہ عنہما کے متعلق وہ کچھ نہ کہہ سکے۔جبکہ تم لوگوں نے خوارج سے بھی اوپر چھلانگ لگا کر ان دونوں سے بیزاری کا اظہار کر دیا۔اب باقی کون رہا؟ خدا کی قسم! تم نے سب سے بیزاری کا اظہار کر دیا ہے۔ ()
آپ نے یہ بھی فرمایا، میں نہیں جانتا کہ سیدنا ابوبکر وعمررضی اللہ عنہما سے کون بیزاری کا اظہار کرتا ہے؟ خدا کی قسم!سیدنا ابوبکر وسیدنا عمررضی اللہ عنہما سے بیزاری کا اظہار کرنا سیدنا علی ص سے بیزاری کا اظہار ہے خواہ کوئی پہلے کرے یا بعد میں کرے۔
دارقطنیرحمہ اللہ نے سالم بن ابی حفصہ سے بیان کیا جو کہ شیعہ ہے مگر ثقہ ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں نے امام ابوجعفر محمد باقر اور امام جعفر صادق رضی اللہ عنہماسے حضرات شیخین رضی اللہ عنہماکے بارے میں دریافت کیا تو دونوں نے یہ جواب دیا، اے سالم ! ان دونوں (یعنی ابوبکر وعمررضی اللہ عنہما ) سے محبت رکھ اور ان کے دشمنوں سے اظہارِ بیزاری کر کیونکہ یہ دونوں امامِ ہدایت ہیں۔ ()
اسی سے یہ روایت بھی ہے کہ میں امام جعفر صادق صکے پاس آیا ، وہ بیمار تھے۔ انہوں نے ارشاد فرمایا، ’’میں سیدنا ابوبکر و عمررضی اللہ عنہما سے دوستی اورمحبت رکھتا ہوں۔ اے اللہ ! اگر اس کے سوا میرے دل میں کوئی اور بات ہو تو مجھے قیامت میں رسول کریم ﷺ کی شفاعت نصیب نہ ہو‘‘۔یہ آخری جملہ شیعہ راوی پراتمامِ حجت کے لیے فرمایا کیونکہ وہ ایسے اقوال سن کر کہہ دیتے ہیں کہ انہوں نے تقیہ کیا تھا۔ ()
جب امام باقرص سے پوچھا گیا ، بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ ایسی باتیں تقیہ کے طور پر کہتے ہیں اور آپ کے دل میں اس کے خلاف باتیں ہیں تو آپ نے فرمایا، خوف زندوں سے ہوا کرتا ہے، قبر والوں سے نہیں ہوتا۔()
امام محمد باقرص سے پوچھا گیا کہ سیدنا ابوبکر و عمررضی اللہ عنہما کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ نے فرمایا، خدا کی قسم!میں ان سے محبت رکھتا ہوں اور میرے علم کے مطابق تمام اہلبیت بھی ان دونوں سے محبت رکھتے ہیں۔ ()
Page 131 of 134

