امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کا فتویٰ:
امام ابوجعفر محمد باقرص نے اپنے والد حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہماسے روایت کیا ہے کہ انہوں نے ایک گروہ دیکھا جو خلفائے ثلاثہ کو برا کہنے میں مصروف تھا۔ آپ نے ان سے فرمایا، کیا تم اولین مہاجرین میں سے ہو جن کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہے؟
اَلَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهمْ وَ اَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِنَ الله وَرِضْوَاناً وَّیَنْصُرُوْنَ الله وَرَسُوْلَہٗ اُولٰئِکَ همُ الصّٰدِقُوْنَO ()
جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے، اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے ، وہی سچے ہیں‘‘۔
انہوں نے کہا، نہیں !ہم وہ لوگ نہیں ہیں۔آپ نے فرمایا، پھر کیا تم اس آیت کا مصداق ہو(جو انصارکی شان میں نازل ہوئی)؟
وَ الَّذِیۡنَ تَبَوَّؤُا الدَّارَ وَ الْاِیۡمٰنَ مِنۡ قَبْلِہِمْ یُحِبُّوۡنَ مَنْ هاجَرَ اِلَیۡہِمْ وَ لَا یَجِدُوۡنَ فِیۡ صُدُوۡرِهمْ حَاجَۃً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا وَ یُؤْثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ ؕ۟ وَ مَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ همُ الْمُفْلِحُوۡنَ (ۚ۹) ()
’’اور جنہوں نے پہلے سے اس شہر اور ایمان میں گھر بنا لیا، دوست رکھتے ہیں اُنہیں جو ان کی طرف ہجرت کر کے گئے ،اور اپنے دلوں میں کوئی حاجت نہیں پاتے اُس چیز کی جو (مہاجرین کو اموالِ غنیمت) دیے گئے، اور اپنی جانوں پر ان (مہاجرین) کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو، اور جو نفس کے لالچ سے بچایا گیا،تو وہی کامیاب ہیں‘‘۔
انہوں نے جواب دیا، نہیں۔ امام زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ عنہمانے فرمایا،
تم نے خود ان دو گروہوں مہاجرین وانصار میں سے نہ ہونے کا اعتراف کر لیا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تم ان لوگوں میں سے بھی نہیں ہو جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے۔ ()
وَ الَّذِیۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعْدِهمْ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوٰنِنَا الَّذِیۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالْاِیۡمٰنِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّکَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ()
’’اور وہ جو اُن ( مہاجرین و انصار صحابہ کرامث )کے بعد آئے ، عرض کرتے ہیں ، اے ہمارے رب ! ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے، اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ۔ اے رب ہمارے بیشک تو ہی نہایت مہربان رحم والاہے‘‘۔
کیونکہ ان آیات میں مومنوں کی تین ہی قسمیں بیان ہوئیں۔ مہاجرین، انصار اور ان کے بعد والے جو ان کے تابع ہوں اور ان کی طرف دل میں کوئی کدورت نہ رکھیں اور ان کے لیے دعائے مغفرت کریں۔پس جو صحابہث سے کدورت اور بغض رکھے، رافضی ہو یا خارجی، وہ مسلمانوں کی ان تینوں قسموں سے خارج ہے۔
رب تعالیٰ حق کوسمجھنے کی اور حق کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے محبوب رسول ا، اُن کے اہلبیت اور ان کے اصحاب کی سچی محبت اور تعظیم نصیب فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الکریم علیہ وعلی الہ واصحابہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم۔
مآخذ ومراجع
قرآن کریم
قرآن کریم
اللہ تبارک وتعالیٰ جل جلالہٗ
کنزالایمان(ترجمہ)
امام احمد رضا محدث بریلوی(۱۳۴۰ ھ)
کتب تفاسیر
تنویر المقیاس
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما (۶۸ ھ)
جامع البیان
امام ابوجعفر ابن جریر الطبری (۳۱۰ ھ)
معالم التنزیل
Page 132 of 134

