سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ہارون علیہ السلام سے تشبیہ :
غزوۂ تبوک کے موقع پر رسول کریم ﷺ نے حضرت علیص کو مدینہ منورہ میں چھوڑتے ہوئے فرمایا ، اَمَا تَرْضٰی اَنْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ھٰرُوْنَ مِنْ مُوْسٰی غَیْرَ اَنَّہٗ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔ ’’ کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لئے ایسے ہو جیسے حضرت موسیٰ کے لئے حضرت ہارون تھے البتہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔()
شیعہ اس حدیث سے حضرت علی ص کی خلافتِ بلا فصل پر استدلال کرتے ہیں۔ ان کے بقول رسول کریم ﷺ نے اس حدیث میں حضرت علی ص کے لئے خلافت کی وصیت فرما دی تھی ۔ اس استدلال کے باطل ہونے پر چند دلائل پیش خدمت ہیں ۔
1۔ امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں،’’اس حدیث میں سیدنا علی ص کی ایک فضیلت بیان ہوئی ہے مگر اس میں خلفاء ثلاثہ کے ان سے افضل ہونے کی نفی نہیں ہے اور نہ ہی اس میں حضرت علی ص کے خلیفہ ہونے کی دلیل ہے ۔ کیونکہ سرکار دو عالم ا نے انہیں غزوئہ تبوک میں جاتے ہوئے خلیفہ بنایا تھا نہ کہ اپنے وصالِ ظاہری کے وقت تمام عالم اسلام کا خلیفہ بنایا تھا ‘‘۔
2۔ اس خلافت سے مراد وقتی خلافت ہے اور اس پر حضرت علیص کا ارشاد ’’ یا رسول اللہ ﷺ ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جا رہے ہیں‘‘ دلیل ہے کیونکہ اگر اس خلافت سے مراد حضور ﷺ کی مستقل جا نشینی ہوتی تو حضرت علیص یہ نہ فرماتے کیونکہ اس صورت میں تو آپ کو تمام مردوں، عورتوں اور بچوں کی ولایت و خلافت حاصل ہوتی ۔ لہٰذا آپ کا مذکورہ ارشاد اس کی دلیل ہے کہ آپ خود بھی یہ بات جانتے تھے کہ رسول کریم ﷺکی غیر موجودگی کے زمانے میں آپ عارضی خلیفہ ہیں ۔
3۔ مذکورہ حدیث پاک میں حضرت علیص کو حضرت ہارون ںسے تشبیہ دی گئی ہے یہ بھی آپ کے عارضی خلیفہ ہونے کی دلیل ہے کیونکہ ہارون ں حضرت موسیٰ ں کے صرف کو ہ طور پر جانے کے زمانے میں خلیفہ تھے ۔ جب حضرت موسیٰ ں واپس آگئے تو ان کے خلیفہ ہونے کی ضرورت ختم ہو گئی ۔ اسی طرح حضرت علی صبھی حضور ﷺ کے غزوئہ تبوک پر جانے کے زمانے میں خلیفہ تھے، جب حضور ﷺ واپس آگئے تو حضرت علی صکے خلیفہ ہونے کی ضرورت ختم ہو گئی۔
4۔ امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ حضرت ہارونںحضرت موسیٰ ں کے بعد خلیفہ نہیں بنے بلکہ حضرت ہارون ں حضرت موسیٰ ںکے وصال سے 40 سال قبل انتقال فرما گئے تھے ۔ ان سے تشبیہ دینے میں حکمت یہ بھی ہے کہ جس طرح حضرت ہارون ں حضرت موسیٰ ںکے بعد ان کے خلیفہ نہیں تھے اسی طرح حضرت علی صبھی حضور ﷺ کے بعد ان کے خلیفۂ بلا فصل نہیں ہوں گے ۔ ()
اگر یہ ثابت کیا جائے کہ یہ سیدنا علی صکی خلافت کا بیان ہے تو بھی اس سے ان کی خلافتِ بلا فصل ہر گز ثابت نہیں ہوسکتی ۔ اور اس بات کے تو ہم بھی قائل ہیں کہ سیدنا علی ص کو آقا و مولیٰ اکے بعد چوتھے نمبر پر خلافت کا حاصل ہونا برحق ہے۔
حدیثِ قرطاس
حضرت عبداللہ بن عباس ث سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کا مرض شدید ہو گیا تو فرمایا، ’’ لکھنے کا سامان لاؤتا کہ میں ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو سکو‘‘۔ حضرت عمر ص نے کہا ، نبی کریم ﷺ پر بیماری کا غلبہ ہے اور ہمارے پاس اللہ کی کتاب قرآن کریم موجود ہے جو ہمیں کافی ہے۔ اس پر حاضرین میں اختلاف ہو گیا جب باتیں بڑھیں تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا، میرے پاس سے اٹھو میرے پاس تنازعہ مناسب نہیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ص یہ کہتے ہوئے اٹھے کہ ’’ بیشک مصیبت اور بڑی مصیبت جو نبی کریم ﷺ اور آپ کی تحریر کے درمیان حائل ہو گئی (وہ لوگوں کا اختلاف اور تنازع تھا)۔ ()
Page 98 of 134

