4۔ اگر بالفرض اس سے مراد اولیٰ بالامامۃ ہو تب بھی حدیث کا یہ معنی نہیں ہو گا کہ اس وقت حضرت علی صخلیفہ ہیں بلکہ مفہوم یہ ہی ہو گا کہ آپ خلیفہ بنیں گے یعنی جب حضرت علی صکی خلافت کا وقت آئے گا۔ اس وقت وہی اولیٰ بالامامۃ اور خلیفہ ہوں گے۔ اہلسنت بھی اس کے قائل ہیں۔
5۔ مذکورہ بالا توجیہ کے تحت اگر حضر ت علی صکا بعد میں خلیفہ بننا مراد ہو تو اس پر اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ پھر حضرت علیص کی تخصیص کیوں کی گئی ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ محبوب کبریا عالم ما کان وما یکون ا کو رب کریم نے یہ غیبی خبریں دے دیں تھیں کہ حضرت علی ص کن حالات میں خلیفہ بنیں گے اور کئی لوگ ان کی بدگوئی کریں گے۔ اس لئے آ پ نے امت کو تاکید فرمادی کہ وہ علی صسے محبت کریں اور جب علی صخلیفہ بنیں تو تسلیم کریں اور دل میں بغض نہ رکھیں۔ ا س پر دیگر کئی احادیث شاہدہیں جو کہ پہلے مذکور ہو چکی ہیں ۔
6۔حضرت علی ص نے خلفائے ثلاثہ کے ہاتھوں پر بیعت کی اور کبھی بھی اس حدیث سے اپنی خلافت پر استدلال نہیں کیا ۔ اس سے ثابت ہوا کہ صحابہ کرام نے اور حضرت علی ص نے اس حدیث پاک کو اپنی خلافت پر نص نہیں سمجھا۔
اس بارے میں اہل بیت کرام کے عقیدہ کی وضاحت کے لئے یہ روایت ملاحظہ فرمائیں جسے ابو نعیم نے حضرت حسن مثنیٰ بن حسن السبط ث سے نقل کیا ہے۔ کسی شخص نے آپ سے دریافت کیا ، حدیث من کنت مولاہ فعلی مولاہ کیا حضرت علی صکی خلافت پر نص ہے ؟ آپ نے جواب میں فرمایا ،
اگر آقا و مولیٰ ا اس سے ان کی خلافت کا ارادہ فرماتے تو واضح طور پر ارشاد فرماتے جس سے تمام مسلمان سمجھ جاتے کیونکہ حضور اکرم ا سب لوگوں سے زیادہ فصیح کلام فرمانے والے تھے ۔ یقینا آپ یوں ارشاد فرماتے،
یَآ اَیُّھَاالنَّاسُ ھٰذَا وَلِیُّ اَمْرِیْ وَالْقَائِمُ عَلَیْکُمْ بَعْدِیْ فَاسْمَعُوْا لَہٗ وَاَطِیْعُوْا۔
’’ اے لوگو یہ (علی)میر ے تمام امور کے ولی ہوں گے اور میرے بعد تمہارے حاکم ہوں گے تم ان کی بات سننا اور اطاعت کرنا ‘‘۔ پھر فرمایا، اگر اللہ اور اس کے رسول نے حضرت علی صکو اس کام کے لئے چنا ہوتا تو ان پر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت لازم ہوتی اور ان کا اس کام سے پیچھے رہنا (یعنی خلافت کا طلب نہ کرنا) اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی خلاف ورزی ہوتا، جو کہ بہت بڑا گناہ ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ حدیث میں ’’مولیٰ‘‘سے مراد خلافت نہیں ہے ۔
7۔ حدیث میں مذکورہ لفظ’’ مولیٰ‘‘ سے مراد دوست اور محب ہے ۔ جیسا کہ اسی حدیث پاک کے آخری حصہ میں حضور ﷺ کی یہ دعا ہے۔ اَللّٰھُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاہُ وَعَادِ مَنْ عَادَاہُ یعنی ’’ اے اللہ ! اس سے محبت کر جو اس سے محبت کرے اور اس سے عداوت کر جو اس سے عداوت رکھے ‘‘۔()
اگر یہاں لفظ مولیٰ سے اولیٰ بالتصرف ہونا مراد ہوتا تو یوں ارشاد ہوتا ،
اَللّٰھُمَّ وَالِ مَنْ کَانَ فِیْ تَصَرُّفِہٖ وَعَادَ مَنْ لَّمْ یَکُنْ کَذَالِکَ ۔
’’ الہٰی تو اس سے محبت کر جو حضرت علی صکی ولایت کے تصرف میں ہو اور اس سے عداوت رکھ جو ان کی ولایت کے تصرف میں نہ ہو‘‘۔ چونکہ آپ نے ایسا نہیں فرمایا اس لئے حدیث کا مفہوم یہی ہے کہ جس طرح حضور ﷺ کی محبت ہر مومن پر لازم ہے اسی طرح حضرت علی ص کی محبت بھی لازم ہے اور جس طرح آقا و مولیٰ اکی عداوت حرام ہے اسی طرح سیدنا علیص کی عداوت حرام ہے۔مزید تفصیل کے لئے علامہ مفتی عبدالرزاق بھترالوی مدظلہٗ کی تفسیر نجومُ الفرقان جلد دوم ملاحظہ فرمائیں۔
Page 97 of 134

