Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 96 of 134
اے عمر! تم والی نہ تھے بلکہ رعایا پر والد کی طرح مہربان تھے۔
اے عثمان ! تم کو لوگوں نے ظلم کے ساتھ قتل کر دیا اور تم کو مدفون بھی نہ دیکھ سکے ۔
اے علی! تم ابرار کے پیشوا اور رسول اللہ کے سامنے سے کافروں کو ہٹانے والے ہو۔
پس وہ (ابوبکر)صاحبِ غار ہیں اور وہ(عمر) نیکوں میں سے ایک ہیں اور وہ (عثمان) ملکوں کے فریاد رس ہیں اور وہ (علی)ابرار کے پیشوا ہیں۔
جو شخص ان کو برا کہے اس پر جبار کی لعنت‘‘۔
راوی نے اس گرجا کے بوڑھے خادم سے پوچھا، یہ تحریر تمہارے گرجا کے دروازے پر کب سے ہے؟ اس نے کہا، تمہارے نبی کی بعثت کے دو ہزار سال پہلے سے۔
مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ
نبی کریم ﷺ نے غدیر خم کے مقام پر حضرت علی ص کا ہاتھ پکڑ کر صحابہ کرام سے فرمایا ،
مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ۔ اَللّٰھُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاہُ وَعَادِ مَنْ عَادَاہُ ۔()
’’ اے اللہ جس کا میں مولا ہوں اس کے علی بھی مولا ہیں ، اے اللہ اس سے محبت فرما جو اس سے محبت کرے اور اس سے دشمنی کر جو علی سے دشمنی رکھے‘‘۔یہ حدیث صحیح ہے اور اسے امام احمد بن حنبل اور اما م طبرانی نے تیس صحابہ کرام سے روایت کیا ہے جبکہ صحاح ستہ سے امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے اسے روایت کیا ہے۔ رحمہم اللہ تعالیٰ
شیعہ اس حدیث سے یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ یہاں مولیٰ کا معنیٰ اولیٰ بالتصرف ہونا ہے اور جو اولیٰ بالتصرف ہو اس کی اطاعت فرض ہوتی ہے ۔ لہٰذا س حدیث سے ثابت ہوا کہ حضور ﷺ نے حضرت علیص کو اپنا جانشین اور امام و خلیفہ نامزد فرمایا ۔ اس لئے صحابہ کرام حضرت ابوبکر ص سے بیعت کرنے کے سبب ایمان سے پھر گئے (معاذاللہ) حضرت ابوبکر صدیق ص کی خلافت حقہ پر ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں تفصیلی گفتگو کر چکے ہیں اس لئے یہاں صرف ا س حدیث کی رو سے مذکورہ باطل استدلال کے چند جوابات تحریر کرتے ہیں ۔
1۔ اہل لغت کے نزدیک مولیٰ کے معنی اولیٰ لینا درست نہیں ہے کیونکہ لفظ ولی سے ماخوذ ہے اور اس کے مندرجہ ذیل معانی ہیں ۔ محب ،دوست ، مددگار، حاکم ، مالک ، عبد، آزاد کرنے والا، آزاد شدہ، قریب ، مہمان ، شریک ، عصبہ ، رب ، منعم ، تابع ، سسرالی رشتہ دار ، بھانجہ۔ ()
2۔ اگر بالفرض مان لیا جائے کہ اس حدیث میں مولا بمعنی اولیٰ ہے تو اس یہ لازم نہیں آتا کہ یہ اولیٰ بالامامۃاور اولیٰ بالتصر ف کے معنی میں ہو اور اس سے حضرت علیص کا خلیفۂ بلافصل ہونا مراد ہو بلکہ یہ اولیٰ بالقرب کے معنی میں ہو گا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے،
اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِاِ بْرَاھِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ وَھٰذَا النَّبِیُّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا۔()
’ ’ بے شک سب لوگوں سے ابراھیم کے زیادہ حقدار وہ تھے جو ان کے پیرو ہوئے یہ نبی اور ایمان والے‘‘۔
اس آیت میں بھی لفظ اولیٰ ارشاد ہوا لیکن اس کا مطلب اولیٰ بالتصرف نہیں بلکہ اولیٰ بالمحبۃ یا اولیٰ بالقرب ہے یعنی نبی کریم ﷺ اور ایمان والے حضرت ابراھیم ں کے قریب ہیں یا محبت کے زیادہ حق دا ر ہیں ۔
3۔ حدیث پاک سے ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کی ولایت اور حضرت علیص کی ولایت دونوں ایک ہی زمانے میں مجتمع ہیں ۔ حدیث شریف میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہو کہ حضرت علی صحضور ﷺ کے بعد ولایت کے حق دار ہوں گے ۔ اگر ولایت سے مراد خلافت ہو تو ایک ہی وقت میں دو افرادکا حاکم اور اولیٰ بالتصرف ہونا عقلاً منع ہے ۔ جبکہ اگر ولایت سے محبت مراد ہوتو دونوں ولایتوں کا ایک ہی وقت جمع ہونا منع نہیں کیونکہ ایک ہی وقت میں دونوں سے محبت کرنا جائز ہے۔
Share:
keyboard_arrow_up