اس حدیث کی بعض سندیں ریاض النضرہ اوربعض غنیۃالطالبین میں مذکور ہیں ۔()
30۔ حضرت علی ص سے روایت ہے کہ غیب جاننے والے آقا ا نے فرمایا ، معراج کی شب میں نے عرش پر یہ تحریر دیکھی۔
’’ لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ ۔ ابوبکرالصدیق عمر الفاروق عثمان ذوالنور ین‘‘۔ص ()
31۔ حضرت ابو الدرداء صسے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا، میں نے شب معراج میں عرش پر ایک سبز رنگ کا موتی دیکھا جس پر سفید نور سے تحریر تھا،
’’ لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ۔ ابوبکرالصدیق عمر الفاروق‘‘۔ ا ورضی اللہ عنہما ()
خلفائے راشدین ، سابقہ آسمانی کتب میں:
1۔ حضرت کعبص سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صاسلام سے قبل ملک شام میں تجارت کیا کرتے تھے۔ انہوں نے وہاں ایک خواب دیکھا تو بُحیرا راہب سے بیان کیا۔ بحیرا نے خواب سن کر پوچھا ، تم کہا ں کے رہنے والے ہو؟
حضرت ابوبکر ص نے بتایا ، میں مکہ کا رہنے والا ہوں ۔ پوچھا ،کس خاندان کے ہو ؟ فرمایا ،قریش سے۔ پوچھا ، پیشہ کیا ہے ؟ فرمایا،تجارت ۔
بحیرا نے کہا ، اللہ نے تمہیں سچا خواب دکھایا ہے۔ ایک نبی تمہاری قوم میں مبعوث ہوں گے۔ ان کی زندگی میں تم ان کے وزیر رہو گے اور اُن کے وصال کے بعد اُن کے خلیفہ ہو گے ۔
حضرت ابوبکر صدیق ص نے اس بات کو پوشیدہ رکھا یہاں تک کہ جب نبی کریم ﷺ مبعوث ہوئے تو حضرت ابوبکر صدیق ص نے حاضر ہو کر عرض کی، اے محمد (ا)! آپ جو دعوٰی کرتے ہیں اس پر دلیل کیا ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا ، وہی خواب جو تم نے شام میں دیکھا تھا۔ یہ سنتے ہی حضرت ابوبکر صنے آپ ا سے معانقہ کیا اور آپ کی پیشانی مبارک پربوسہ دیا اور کہا ، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ ()
اس سے معلوم ہوا کہ سابقہ آسمانی کتب میں خلیفۂ اول سیدنا ابوبکرص کی علامات موجود تھیں نیز حضرت ابوبکر صدیقص کو اپنے خلیفہ ہونے کا پہلے سے علم تھا ۔
2۔ حضرت عمر فاروق صکے مؤذن اقرع ص سے روایت ہے کہ حضرت عمرص نے ایک پادری اُسقف کو بلوایا اور اس سے پوچھا ،کیا تمہاری کتاب میں میرا ذکر موجود ہے ؟ اس نے کہا، ہاں ! میں آپ کو قِرَنٌ پاتا ہوں ۔
فرمایا، قِرَنٌ کیا ؟ عرض کی ، قِرَنٌسے مراد ہے مضبوط، امانت دار اور سخت مزاج۔ فرمایا، میرے بعد جو خلیفہ ہو گا اسے کیسا پاتے ہو؟ عرض کی، میں اسے ایک نیک خلیفہ پاتا ہوں، وہ اپنے قرابت داروں پر بہت ایثار کریں گے۔
حضرت عمرص نے تین بار فرمایا، اللہ تعالیٰ عثمان ص پر رحم فرمائے ۔
پھرپوچھا، اُن کے بعدجو خلیفہ ہو گا وہ کیسا ہو گا؟ اس نے عرض کی، لوہے سے لگا ہوا۔ حضرت عمرص نے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا، آہ کیسی خواری ہو گی ۔
اس نے عرض کی، اے امیر المومنین! (یہ نہ کہیے )وہ خلیفہ بھی نیک شخص ہو گا لیکن وہ ایسے وقت میں خلیفہ بنایا جائے گا جب تلوار کھنچی ہوئی ہو گی اور خون بہہ رہا ہو گا۔()
اس حدیث سے بھی واضح ہے کہ حضرت عمر ص کو اپنے بعد حضرت عثمان ص کے خلیفہ ہونے کا علم تھا اسی لئے آپ نے ان کے لئے دعا فرمائی ۔ نیز یہ کہ خلفائے راشدین کا ذکر سابقہ کتب آسمانی میں بھی موجود تھا۔
اس بارے میں مزید ایک روایت ملاحظہ فرمائیں۔
3۔ ابن عساکر نے ابو الطیب سے روایت کیا ہے کہ جب شہر عموریہ فتح ہوا تو لوگوں نے اس کے ایک گرجا پر آبِ زر سے یہ عبارت لکھی دیکھی: ’’ وہ بہت ہی برے خلف ہیں جو سلف کو برا کہیں اور ایک شخص سلف میں سے ہزار خلف سے بہتر ہے ۔“
اے صاحب غار! تم نے قابل فخر بزرگی پائی کہ تمہاری تعریف بادشاہ جبار نے کی جیسا کہ وہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: ’’ ثَانِیَ اثْنَیۡنِ اِذْ همَا فِی الْغَارِ ‘‘ ۔()
Page 95 of 134

