رسول کریم ﷺنے فرمایا، ’’ ھذہ خلافۃ نبوۃ ‘‘ یہ خلافتِ نبوت کی علامت ہے۔
یعنی جو معاملہ نبی ا کے ساتھ ہوا کہ ان کے ہاتھ میں کنکریاں تسبیح پڑھنے لگیں وہی معاملہ ان تینوں حضرات کے ساتھ ہوا ۔ گویا یہ تینوں حضرات نبی کریم ﷺ کے بعد خلیفہ ہوں گے ۔ ()
20۔ حضرت انس صسے روایت ہے کہ مجھے قبیلہ بنی مصطلق کے لوگوں نے بارگاہ نبوی میں یہ دریافت کرنے کے لئے بھیجا کہ اگر آپ کا وصال ہو جائے تو ہم زکوٰۃکس کو دیں؟ حضور ﷺ نے فرمایا، ابو بکر کو۔ میں نے ان لوگوں کو یہ بات بتا دی۔
انہوں نے مجھے پھر دریافت کرنے کو کہا کہ اگر ابوبکر صبھی انتقال فرما جائیں تو ہم کس کو زکوٰۃ دیں؟ حضور ﷺ نے فرمایا، عمر کو۔ پھر انہوں نے مجھے پوچھنے کو کہا کہ عمرص کے بعد زکوٰۃکس کو دیں ؟تو غیب بتانے والے آقا ا نے فرمایا، پھر وہ اپنی زکوٰۃ عثمان کو ادا کریں ۔ ()
21,22۔ اس مضمون کی احادیث حضرت علیص اور حضرت ابو ہریرہ ص سے بھی مروی ہیں۔ ان احادیث میں واضح اشارہ موجود ہے کہ حضور ﷺ کے بعد بالترتیب حضرت ابو بکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان ص خلیفہ ہو ں گے ۔
23۔ حضرت حسن صسے روایت ہے کہ حضرت ابوبکرص نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کی،یا رسول اللہ ﷺ !میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں بہت سے لوگوں کی گندگی پر سے گزر رہا ہوں۔ آقا ومولیٰ انے فرمایا، تم لوگوں کے لیے ایک راستہ مقرر کرو گے۔ حضرت ابوبکرص نے عرض کی،میں نے اپنے سینے پر دو نشان بھی دیکھے ہیں۔ فرمایا، وہ دو سال ہیں (جو تمہاری خلافت کی مدت ہوگی)۔ ()
24۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے آقا ومولیٰ ا سے عرض کی، آپ نے اپنی علالت کے ایام میں حضرت ابوبکرص کو امام بنایا تھا؟حضور ﷺ نے فرمایا، نہیں! میں نے نہیں بنایا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے بنایا تھا (یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں امام بنایا تھا)۔()
25۔ حضرت علی صسے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺنے ان سے فرمایا، میں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تین بار تمہارے بارے میں سوال کیا کہ تم کو امام بناؤں مگر وہاں سے انکار ہوا اور ابوبکر ہی کے لیے امامت کا حکم ہوا۔()
26۔ بخاری ومسلم میں حضرت ابوموسیٰ اشعری صسے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبکرصکو نماز پڑھانے کا حکم دیاتو انہوں نے نماز پڑھائی۔
27۔ ابن زمعہ سے مروی حدیث میں ہے کہ سرکارِ دوعالم ا نے ایک مرتبہ جب لوگوں کو حکم دیا کہ ابوبکر سے کہو ، وہ نماز پڑھائیں۔اس وقت ابوبکر صموجود نہ تھے۔ چنانچہ حضرت عمرص آگے بڑھے تاکہ نماز پڑھا دیں۔حضور ﷺ نے فرمایا، نہیں !نہیں!! نہیں!!! اللہ تعالیٰ اور مسلمان ابوبکر کے سوا کسی اور کو قبول نہیں کریں گے، صرف ابوبکر لوگوں کونماز پڑھایا کریں۔()
28۔حضرت ابن عمر سے مروی حدیث میں ہے، جب حضرت عمرص نے تکبیر تحریمہ کہی توچونکہ آپ بلند آواز تھے اس لیے حضور ﷺ نے آواز سن لی اور سرمبارک ناگواری کے ساتھ اٹھا کر فرمایا، ابن ابی قحافہ(ابوبکر) کہاں ہیں؟
اس حدیث کے بارے میں علماء نے کہا ہے کہ یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق صتمام صحابہ سے افضل ہیں اور خلافت کے سب سے زیادہ حقدار اور امامت میں سب سے اولیٰ ہیں۔()
29۔ حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ ’’رسول اللہ ﷺ نے دنیا سے وصال فرمانے سے قبل مجھے یہ خبر دے دی کہ آپ ا کے بعد سیدنا ابوبکرص اسلام کے والی ہوں گے پھر سیدنا عمرص پھر سیدنا عثمان ص مسلمانوں کے امیر ہوں گے اور پھر میری طرف رجوع کیا جائے گا مگر میری خلافت پر سب لوگوں کا اتفاق نہ ہو گا‘‘۔
Page 94 of 134

