عرض کی، یارسول اللہ ﷺ ! میں قسم دیتا ہوں کہ آپ ضرور بیان فرمائیں کہ میں نے کیا غلطی کی؟ فرمایا، قسم نہ دو۔ ()
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر صدیق ص جانتے تھے کہ حضور ﷺ کے بعد خلافت بالترتیب تین آدمیوں کو حاصل ہو گی اور وہ تینوں حضور اکرم ﷺ کے طریقوں پر ہوں گے اور اسی حال میں دنیا سے گزر جائیں گے ۔ باقی رہی یہ بات جب حضرت ابوبکر صدیقص کی تعبیر کے موافق سب کچھ واقع بھی ہوا تو پھر تعبیر میں غلطی کس طرح ہوئی ؟ ۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں :
’’ ان خلفاء کا نام نہ لینا باوجود اس کے کہ حضرت ابوبکر صدیق ص ان تینوں خلفاء کے نام جانتے تھے ظاہری طور پر خطاء کی طرف نسبت کیا گیا ۔ ()
16۔ حضرت ابو سعید خدری صسے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ ا نے فرمایا ، ہر نبی کے لئے دو وزیر آسمان والوں میں سے اور دووزیر زمین والوں میں سے ہوتے ہیں۔ میرے آسمانی وزیر حضرت جبرائیل اور میکائیل (علیہما السلام) ہیں اور زمین والوں میں سے حضرت ابوبکر و حضرت عمر( رضی اللہ عنہما) ہیں۔()
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو حکومتی معاملات میں نبیِّ کریم ا کا خاص قرب حاصل تھا ۔
17۔ حضرت سمرہ بن جندب ص سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم ا کی خدمت میں ایک شخص نے عرض کی ، یا رسول اللہ ﷺ ! میں نے خواب میں دیکھا کہ آسمان سے ایک ڈول لٹکایا گیا ہے ۔پھر ابوبکرص آئے اور اس کو کناروں سے پکڑ کر کمزوری کے ساتھ پیا ، پھر عمرص آئے اور اسے کناروں کی طرف سے پکڑ کر پیا یہاں تک کہ شکم سیر ہو گئے پھر عثمان ص آئے اور اس کے کناروں سے پکڑ کر سیر ہو کر پیا پھر حضرت علی ص آئے اور انھوں نے اسے کناروں سے پکڑا تو وہ ہل گیا اوراس میں سے کچھ پانی ان کے اوپر گر گیا ۔ ()
اس حدیث میں چاروں خلفاء راشدین کی خلافتوں کی طرف اشارہ ہے۔
سیدناابو بکر ص کے کمزور طریقے سے پینے سے مراد یہ ہے کہ ان کی مدت خلافت کم ہونے کی وجہ سے ان کے بعض کام پورے نہ ہو سکیں گے جبکہ حضرت عمر و عثمان رضی اللہ عنہما کا زمانہ ء خلافت طویل ہوگا اور اس میں کئی فتوحات ہوں گی ۔حضرت علی ص کے لئے ڈول کے ہلنے سے پانی کے گرنے کا مفہوم یہ ہے کہ اُن کے دورِ خلافت میں فتنے رونما ہوں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
18۔ حضرت سفینہ ص اور حضرت عائشہرضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ جب مسجد نبوی کی بنیاد رکھی گئی تو سب سے پہلے نبی کریم ﷺ نے ایک پتھر رکھا پھر آپ نے حضرت ابوبکرص کو اس پتھر کے ساتھ پتھر رکھنے کا حکم دیا پھر حضرت عمرص کو حکم دیا کہ حضرت ابوبکرص کے پتھر کے ساتھ ایک پتھر رکھیں پھر حضرت عثمان صکو حکم دیا کہ وہ حضرت عمر صکے پتھر کے ساتھ ایک پتھر رکھیں۔ پھر ارشاد فرمایا، یہی لوگ میرے بعد خلیفہ ہوں گے۔ ()
19۔ حضرت ابوذر ص سے روایت ہے کہ ایک روز میں بارگاہ نبوی میں حاضر تھا کہ حضرت ابوبکرص آئے پھر حضرت عمرص اور پھر حضرت عثمان ص آئے ۔ حضور ﷺ کے سامنے سات کنکریاں پڑی ہوئیں تھیں آپ نے وہ کنکریا ں اپنی مبارک ہتھیلی پر رکھیں تو وہ تسبیح پڑھنے لگیں ،میں نے ان کی آواز شہد کی مکھی کی آوازکی مثل سنی ۔ پھر آپ نے وہ کنکریا ں زمین پر رکھ دیں تو وہ خاموش ہو گئیں۔
پھر آپ نے وہ کنکریاں حضرت ابوبکر صکے ہاتھ پر رکھ دیں تو وہ پھر تسبیح پڑھنے لگیں حتیٰ کہ میں نے ان کی آواز سنی ۔ پھر ابوبکرص نے انہیں رکھ دیا تو وہ خاموش ہو گئیں۔ پھر حضور ﷺ نے وہ کنکریاں حضرت عمرص کے ہاتھ پر رکھیں تو وہ پھر تسبیح پڑھنے لگیں حتیٰ کہ حضرت عمرص نے انہیں رکھ دیا ۔ پھر حضور ﷺ نے وہ کنکریاں حضرت عثمان صکے ہاتھ پر رکھ دیں تو وہ پھر تسبیح پڑھنے لگیں یہاں تک کہ حضرت عثمان ص نے انہیں زمین پر رکھ دیا تووہ خاموش ہو گئیں۔
Page 93 of 134

