10۔ حضرت ابن عمرص سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم ا کی حیاتِ ظاہری میں صحابہ کہا کرتے تھے کہ حضور ﷺ کے بعد ابوبکر افضل ہیں پھر عمر پھر عثمان ث۔ ()
11۔ حضرت جابر صسے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا، آج رات خواب میں ایک صالح شخص کو دکھایا گیا کہ گویا ابوبکر کو رسول اللہ ﷺ سے وابستہ کر دیا گیا اور عمر کو ابوبکر کے ساتھ اور عثمان کو عمر کے ساتھ وابستہ کر دیا گیا ہے۔ جب ہم وہاں سے اٹھے تو ہم نے کہا ، صالح و نیک شخص تو خود رسول کریم ﷺ ہیں اور ایک کو دوسرے سے وابستہ کرنے سے مراد اسی دین کی خلافت ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو مبعوث فرمایا ہے ۔ ()
اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ یہ حضرات دین و شریعت کے احکام جاری کرنے میں اسی ترتیب کے ساتھ خلیفہ ہوں گے ۔
12۔حضرت محمد بن حنفیہص فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد (حضرت علیص )سے سوال کیا ،نبی کریم ﷺ کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟ فرمایا، حضرت ابوبکرص۔میں نے پوچھا، پھر کون ؟ فرمایا ، حضرت عمرص۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ اب پوچھوں گا تو حضرت عثمان ص کا نام لیں گے۔ اس لئے میں نے عرض کی ، ابا جان پھر آپ ؟ فرمایا، میں تو مسلمانوں میں سے ایک فرد ہوں ۔ ()
13۔ حضرت علیص سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے کہ آپ نے اپنے عہدِ خلافت میں منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا،اس امت میں سب سے افضل حضرت ابوبکرص ہیں پھر حضرت عمرص۔ اگر میں تیسرے کا نام لینا چاہوں تو لے سکتا ہوں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ منبر سے اترتے ہوئے فرمایا، پھر عثمان پھر عثمان ص۔()
یہ احادیث اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ حضرت علی صکے نزدیک بھی حضرت ابوبکرص ، حضرت عمرص تمام صحابہ کرام سے افضل ہیں۔
14۔ حضرت سفیان ص فرماتے ہیں کہ جو یہ گمان رکھے اور کہے کہ حضرت علیص حضرت ابوبکر و حضرت عمررضی اللہ عنہما سے زیادہ خلافت کے مستحق تھے تو اس نے حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور تمام مہاجرین و انصار صحابہ کرام ث کو قصوروار ٹھہرایا۔ میں نہیں سمجھتا کہ ایسا کہنے والے کا کوئی عمل بھی قبول ہوگا۔ ()
15۔ حضرت ابوہریرہ صسے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہِ نبوی میں عرض گذار ہوا، ’’میں نے خواب میں ایک بادل کا ٹکڑا دیکھا ہے جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا۔ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ اپنے ہاتھ پھیلا کر اس سے کم یا زیادہ لے رہے تھے۔ پھر میں نے ایک رسی آسمان سے زمین تک لٹکتی دیکھی۔ یا رسول اللہ ﷺ ! میں نے دیکھا کہ آپ اس رسی کو پکڑ کر اوپر چڑھ گئے پھر ایک اور شخص کو دیکھا کہ وہ رسی پکڑ کر اوپر چڑھ گیا۔ پھر دوسرے شخص کو دیکھا کہ وہ بھی اوپر چڑھ گیا پھر تیسرے شخص نے رسی کو پکڑا تو وہ ٹوٹ گئی مگر پھر جڑ گئی تو وہ بھی اوپر چڑھ گیا‘‘۔
یہ سن کر حضرت ابوبکرص نے عرض کی، میرے آقا، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کی تعبیر بیان کروں۔ فرمایا، بیان کرو۔
عرض کی، بادل کا ٹکڑا تو اسلام ہے اور جو گھی اور شہد اس سے ٹپک رہا ہے وہ قرآن مجید کی نرمی اور حلاوت ہے۔ اور جو زیادہ اور کم لینے والے ہیں وہ قرآن کریم سے زیادہ اور کم فیض لینے والے ہیں۔ جو رسی آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی تھی وہ وہی حق ہے جس پر آپ ہیں، اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ آپ کا رتبہ بلند فرمائے گا۔
پھر آپ کے بعد ایک اور شخص اسے پکڑے گا اور وہ بھی اس کے سبب بلند مرتبہ ہو جائے گا۔ پھر دوسرا شخص اسے پکڑے گا اور وہ بھی بلند مرتبہ ہو جائے گا۔
پھر تیسرا شخص اسے پکڑے گا تو وہ دینِ حق منقطع ہو جائے گا مگر پھر اس کے لیے جوڑ دیا جائے گااور وہ بھی اس کے سبب بلند مرتبہ ہو جائے گا۔یارسول اللہ ﷺ ! فرمائیے کہ میں نے صحیح تعبیر بیان کی یا غلط؟ ارشاد ہوا، کچھ صحیح اور کچھ غیر صحیح۔
Page 92 of 134

