آقا ومولیٰا نے اس حدیث میں واضح طور پر اشارہ فرما دیا ہے کہ میرے بعد خلیفۂ بلا فصل ابوبکرص ہونگے۔
4۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے مرض الوصال میں مجھ سے فرمایا، اپنے والد ابوبکر کو اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ تا کہ میں ایک تحریر لکھ دوں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے گا اور کہے گا کہ میں خلافت کا زیادہ حق دار ہوں جبکہ اللہ تعالیٰ اور مسلمان ابوبکر کے سوا کسی اور کو (خلیفہ) نہیں مانیں گے ۔ ()
اس حدیث میں غیب بتانے والے آقا ومولیٰ ا نے ہمیں یہ خبر دی ہے کہ خلافت کے معاملے میں لوگوں کا اختلاف ہو گا مگر تمام مسلمان حضرت ابوبکرص کی خلافت پر متفق ہو جائیں گے کیونکہ یہی رب تعالیٰ کی مرضی ہے۔حدیث قرطاس کے حوالے سے بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ حضرت علی صکی خلافت لکھوانا چاہتے تھے جبکہ ہمارا یہ مؤ قف یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صکی خلافت لکھوانا چاہتے تھے اور اس کی دلیل یہی حدیث ہے ۔
5۔ آقا ومولیٰ انے فرمایا، ابوبکر کی کھڑکی کے علاوہ (مسجد کی طرف کھلنے والی) سب کھڑکیاں بند کر دی جائیں۔ ()
6۔دوسری روایت میں یہ ہے کہ آئندہ مسجد میں ابوبکر کے دروازے کے سوا کسی کا دروازہ کھلا نہ رکھا جائے۔ ()
حضور ﷺ نے اپنے وصال سے دو تین دن قبل یہ بات ارشاد فرمائی۔ اس بناء پر شارحین فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں سیدنا ابوبکرص کی خلافت کی طرف اشارہ ہے اور دوسروں کی خلافت سے متعلق گفتگو کا دروازہ بند کر دیا گیا ہے۔ ()
7۔ حضرت ابوہریرہ ص سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا،میں سو رہا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو ایک کنوئیں کے پاس دیکھا جس پر ڈول رکھا ہوا تھا میں نے اس ڈول سے پانی نکالا جتنا اللہ نے چاہا ۔ پھر اس کنوئیں سے ابن ابی قحافہ (ابوبکر صدیق ص)نے دو ڈول نکالے۔ اللہ ان کی مغفرت کرے، اُن کے ڈول نکالنے میں کچھ ضعف تھا ۔ پھر وہ ڈول بڑا ہو گیا اور پھر عمر بن خطاب نے اس سے پانی نکالا ۔ میں نے کسی ماہرشخص کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی نکالتا ہو یہاں تک کہ لوگوں کو سیراب کر دیا ۔ ()
اس حدیث میں اشارہ ہے کہ حضرت ابوبکر ص کی خلافت کی مدت دو سال ہے یعنی کم ہے اس لیے زیادہ لوگ ان سے استفادہ نہیں کر سکیں گے۔ اسے ضعف سے تعبیر کیا گیا جبکہ حضرت عمرص کی خلافت میں لوگ زیادہ عرصہ فیضیاب ہوں گے۔
8۔ حضرت حذیفہص سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ ا نے فرمایا، میں تمھیں نہیں بتا سکتا کہ میں تم میں کتنے دن اور رہوں گا پس تم ابوبکر اور عمر کی پیروی کرنا جو میرے بعد ہوں گے ۔ ()
اس حدیث پاک میں بھی یہ غیبی خبر دی گئی ہے کہ حضور ﷺ کے بعد حضرت ابوبکرص اور حضرت عمرص خلیفہ ہوں گے ۔
9۔ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا ، میرے آقا! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک ترازو آسمان سے اتر رہا ہے جس میں آپ کا اور حضرت ابوبکرص کا وزن کیا گیا تو آپ کا پلڑا بھاری رہا ۔ پھر ابوبکر اور عمر کا وزن کیا گیا تو ابوبکرص کا پلڑا بھاری رہا ۔پھر عمر اور عثمان کا وزن کیا گیا تو عمرص کا پلڑا بھاری رہا ۔
پھر وہ ترازو اُٹھا لیا گیا ۔ حضور ﷺ اس خواب سے غمگین ہو گئے اور فرمایا، یہ خلافتِ نبوت ہے پھر اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا، حکومت عطا فرمائے گا۔()
اس حدیث پاک سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بعد بالترتیب حضرت ابوبکرص اور حضرت عمرص اور حضرت عثمان ص خلیفہ ہوں گے۔ ترازو اُٹھا لینے کا مطلب موازنہ ترک کر دینا ہے یعنی اس کے بعد خلافت کا معاملہ کمز ور ہو جائے گا ۔
Page 91 of 134

