سیدِ عالم ا اُمُّ المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے مکان میں رونق افروز ہوئے۔ وہ حضور ﷺ کی اجازت سے اپنے والد حضرت عمرص کی عیادت کے لیے تشریف لے گئیں۔ حضور ﷺ نے حضرت ماریہ رضی اللہ عنہا کو سرفرازِ خدمت کیا ۔ یہ سیدہ حفصہرضی اللہ عنہاپر گراں گزرا۔حضور ﷺ نے ان کی دلجوئی کے لیے فرمایا، میں نے ماریہ کو اپنے لیے حرام کیا اور میں تمہیں خوشخبری دیتا ہوں کہ میرے بعد امورِ امت کے مالک ابوبکر وعمررضی اللہ عنہما ہونگے۔ آپ نے یہ بات کسی کوبتانے سے منع فرمایا۔ وہ اس سے بیحد خوش ہوئیں اور نہایت خوشی میں انہوں نے یہ گفتگو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو سنائی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
آپ ا نے تحریمِ ماریہ کے متعلق جتا دیا اور خلافتِ شیخین کے متعلق ذکر نہ فرمایا۔ یہ آپ کی شانِ کریمی تھی کہ دوسری بات پر گرفت نہ فرمائی۔()
امام طبرانی رحمہ اللہ نے معجم الکبیر جلد ۱۲ صفحہ ۱۱۷ پر اس حدیث کو حضرت ابن عباسص سے روایت کیا ہے۔ یہ روایت کتبِ شیعہ میں بھی ہے۔ چنانچہ تفسیر قمی اور تفسیر مجمع البیان دونوں میں سورۃ التحریم کی مذکورہ آیات کی تفسیر میں منقول ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا، ’’بیشک میرے بعد ابوبکر خلیفہ ہونگے اور ان کے بعد تمہارے والد (یعنی عمر) خلیفہ ہونگے‘‘۔
حضرت ابن عباسصکہا کرتے تھے، ’’اللہ کی قسم! ابوبکر وعمررضی اللہ عنہما کی خلافت اللہ کی کتاب میں مذکور ہے‘‘۔ اور پھر آپ مذکورہ آیت تلاوت کر کے یہی حدیث بیان فرماتے۔()
حضور اکرم ﷺ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا،’’ تیرے والد اور عائشہ کے والد میرے بعد لوگوں کے ولی یعنی امیر ہونگے مگر تم کسی کو نہ بتانا‘‘۔ اس حدیث کی کئی سندیں ہیں۔حضرت علی، سعید بن جبیر، میمون بن مہران، حبیب بن ثابت، ضحاک اور مجاہد ثسے بھی یہی مروی ہے۔ حضرت میمون بن مہران صفرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے یہ راز کی بات کہی تھی کہ میرے بعد ابوبکر خلیفہ ہونگے۔()
خلفائے راشدین، احادیث کی روشنی میں :
صحابہ کرام نے سب لوگوں سے بہتر حضرت ابوبکر صدیق صکو سمجھا اس لیے ان کی بیعت کر لی۔ اور صحابہ کرام کا اجماع کبھی بھی خطا وغلطی پر نہیں ہو سکتا۔ حضرت ابن مسعود صسے روایت ہے کہ ’’جو کام مسلمان اچھا جانیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے‘‘۔ چونکہ تمام صحابہ کرام نے حضرت ابوبکرص کی خلافت کو احسن اور پسندیدہ سمجھا ہے اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی احسن ہے۔
اب چند احادیث ملاحظہ فرمائیں جن میں خلفائے راشدین کی اسی ترتیب کے ساتھ خلافت کے متعلق واضح اشارے موجود ہیں۔
1۔ حضرت ابن ابی مُلیکہ صسے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا ، اگر رسولُ اللہ ا کسی کو خلیفہ بناتے تو کسے بناتے ؟ جواب دیا، حضرت ابوبکرص کو ۔ پھر ان سے پوچھا گیا ، حضرت ابوبکر صکے بعد کسے خلیفہ بناتے ؟ فرمایا،حضرت عمرص کو ۔ پھر سوال ہوا ، حضرت عمر صکے بعد کسے خلیفہ بناتے ؟ فرمایا ،حضرت ابوعبیدہ بن جراح ص کو۔ ()
2۔ حضرت ابن عمر صسے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگوں کو ایک دوسرے پر فضیلت دیتے تھے ۔ سب سے افضل حضرت ابوبکر صکو مانتے تھے پھر حضرت عمرص کو اور پھر حضرت عثمان ص کو ۔()
مذکورہ ترتیب کے مطابق صحابہ کرام نے ہر بار افضل ترین ہستی کو خلیفہ منتخب کیا۔
3۔ حضرت جبیر بن مطعم ص سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں کسی کام کے لیے حاضر ہوئی۔ آپ نے اسے فرمایا، پھر آنا۔ اس نے عرض کی، اگر میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں تو؟ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر آپ کا وصال ہو جائے توکس کے پاس آؤں؟ حضور ﷺ نے فرمایا، اگر تو مجھے نہ پائے تو ابوبکر کے پاس آنا۔()
Page 90 of 134

