Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 89 of 134
6۔ مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ الله وَالَّذِِیْنَ مَعَہٗ اَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ تَرٰهمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِنَ الله وَرِضْوَاناً سِیْمَاهمْ فِیْ وُجُوْهہِمْ مِنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِی التَّوْرٰۃِ ومَثَلُہُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ کَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوْقِہٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ وَعَدَ الله الَّذِِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْہُمْ مِّغْفِرَۃً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا ()
’’محمدا اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل، تو انہیں دیکھے گا رکوع کرتے ، سجدے میں گرتے ، اللہ کا فضل و رضا چاہتے ۔ ان کی علامت ان کے چہروں میں ہے سجدوں کے نشان سے ، یہ ان کی صفت توریت میں ہے اور ان کی صفت انجیل میں ، جیسے ایک کھیتی ، اس نے اپنا پٹھا نکالا پھر اسے طاقت دی پھر دبیز ہوئی پھر اپنی ساق پر سیدھی کھڑی ہوئی ، کسانوں کو بھلی لگتی ہے(یعنی ابتدا میں اسلام کے ماننے والے کم تھے رب کریم نے صحابہ کے ذریعے اسے طاقت دی اور اللہ و رسول ا کو صحابہ کرام پیارے بھلے لگتے ہیں) تاکہ ان سے کافروں کے دل جلیں ، اللہ نے وعدہ کیا ان سے جو ان میں ایمان اور اچھے کاموں والے ہیں ، بخشش اور بڑے ثواب کا‘‘۔
اس آیت میں دین اسلام کی مثال ایک کھیتی سے دی گئی ہے اور کونپل پھوٹنے سے لیکر درخت کے تنے پر کھڑا ہو جانے تک چار مراحل کا ذکر کیا گیا ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ ان چار مراحل کے متعلق رقمطراز ہیں،
نبی کریم ﷺ نے مکہ میں جب مشرکوں کو اسلام کی دعوت دی تو گویا ’’اَخْرَجَ شَطْئَہٗ‘‘ (کونپل پھوٹنے) کا مرتبہ ظاہر ہوگیا۔پھر حضور نے ہجرت فرمائی اور جہاد کیے یہاں تک کہ مکہ فتح ہو گیاتو ’’ فَاٰزَرَہٗ‘‘ (اسے طاقت دینے) کا درجہ حاصل ہوا۔ سرکار دوعالم اکے وصال کے بعد حضرات شیخینرضی اللہ عنہما کے زمانے میں قیصر وکسریٰ سے جہاد کر کے ان کا نشان مٹا دیا اور دین طاقتور ہو کر پھیل گیا، اب ’’ فَاسْتَغْلَظَ ‘‘ (مضبوط ہو جانے) کا درجہ حاصل ہوا۔
پھر حضرت عثمان صکے زمانے میں دیگر چھوٹی فتوحات کا سلسلہ جاری رہا پھر اسلام مفتوحہ علاقوں میں پھیل گیا اور محدثین و فقہاء نے دین کی اشاعت کی، اب ’’ فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوْقِہٖ ‘‘ (تنے پر کھڑے ہو جانے) کا درجہ بھی حاصل ہو گیا۔
اس آیت سے خلفائے راشدین کی عظمت اور تائیدِ اسلام میں ان کا راسخُ القدم ہونا بھی معلوم ہوا ،اور یہ بھی کہ ان کے ذریعہ دشمنانِ خدا پر جہاد اور کلمۂ طیبہ کی بلندی اس طرح واقع ہو گی کہ بارگاہِ الہٰی میں مقبول ہو گی اور عمدہ تعریف کی مستحق قرار پائے گی اسی لیے ’’ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ ‘‘ فرمایا گیا یعنی اسلام کی کھیتی کا کاشتکار ، رب تعالیٰ صحابہ کرام سے خوب راضی ہے۔()
7۔ وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰی بَعْضِ اَزْوَاجِہٖ حَدِیْثًا فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِہٖ وَاَظْہَرَہُ الله عَلَیْہِ عَرَّفَ بَعْضَہٗ وَ اَعْرَضَ عَنْ م بَعْضٍ فَلَمَّا نَبَّاَها بِہٖ قَالَتْ مَنْ اَنْبَاَکَ هٰذَا قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ()
’’اور جب نبی نے اپنی ایک بی بی سے ایک راز کی بات فرمائی، پھر جب وہ اس کا ذکر کر بیٹھی اور اللہ نے اسے نبی پر ظاہر کر دیا تو نبی نے اسے کچھ جتایا اور کچھ سے چشم پوشی فرمائی۔ پھر جب نبی نے اُسے اِس کی خبر دی تو بولی، حضور کو کس نے بتایا؟ فرمایا، مجھے علم والے خبردار نے بتایا‘‘۔
Share:
keyboard_arrow_up