آیتِ مذکورہ کے آخری حصے پر غور کیجیے۔ اس میں بھی دو باتیں واضح ہیں۔
اول: بدوؤں کو جہاد کی دعوت دینے والے خلفاء کی اطاعت کا حکم دیا اور اس پر اجروثواب کا وعدہ کیا۔
دوم:ان خلفاء کی نافرمانی پر دردناک عذاب کی وعید سنائی گئی۔
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جن خلفاء کی اطاعت کو واجب قرار دیا اور ان کی نافرمانی پر عذاب کی وعید سنائی، ان کی خلافت حق ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت کا اولین مصداق خلیفۂ بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق صہیں جیسا کہ حضرت نافع بن خدیجص کا ارشاد ہے، ’’اللہ کی قسم ! پہلے ہم یہ آیت پڑھتے تھے مگر ہمیں یہ علم نہ تھا کہ وہ جنگجو قوم کون سی ہے جس سے لڑنے کے لیے بلایا جائے گا لیکن جب سیدنا ابوبکرص نے ہمیں بنو حنیفہ کے ساتھ جنگ کے لیے بلایا تو ہم نے جان لیا کہ یہی وہ قوم ہے جس کا اس آیت میں ذکر ہے‘‘۔
اکثر اہلِ تفسیر کا یہی قول ہے۔ ()
5۔ لِلْفُقَرَاءِ الْمُہٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهمْ وَ اَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِنَ الله وَرِضْوَاناً وَّیَنْصُرُوْنَ الله وَرَسُوْلَہٗ اُولٰئِک همُ الصّٰدِقُوْنَ ()
’’(مال غنیمت) اُن فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے، اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے ، وہی سچے ہیں‘‘۔
اس آیت کریمہ میں رب کریم نے مہاجرین صحابہ کرام کے صادقین اور سچے ہونے کی خبر دی ہے اور سیدنا ابوبکر صدیق صکو مہاجرین صحابہ کرام ہی نے خلیفہ بنایا تھا۔ حضرت ابن مسعود صسے روایت ہے کہ جب رسول کریم ﷺ کا وصال ہوا تو انصار نے کہا، ایک خلیفہ ہم میں سے ہواور ایک مہاجرین میں سے۔ اس پر حضرت عمرص نے فرمایا، اے گروہِ انصار! کیا تم نہیں جانتے کہ رسول کریمﷺ نے حضرت ابوبکرص کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کے امام بنیں (اور انہیں نماز پڑھائیں) پس تم میں سے کون اس بات کو گوارا کرے گا کہ وہ ابوبکر کا امام بنے۔ انصار نے کہا، ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اس بات سے کہ ابوبکر صکے پیشوا بنیں۔(پھر سب نے سیدنا ابوبکرص کی بیعت کر لی) ()
اب دو باتیں ثابت ہوئیں۔
اول:مہاجرین صحابہ نے حضرت ابوبکرص کو خلیفہ بنایا اور اس آیت کی رو سے مہاجرین صحابہ جھوٹے نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا مہاجرین صحابہ کرام کا سیدنا ابوبکرص کو خلیفہ ٔ برحق کہنا حق ہے۔ پس حضرت ابوبکرص کی خلافتِ بلافصل بھی حق ہے۔
دوم:مذکورہ آیت میں تمام مہاجرین صحابہ کرام کو صادق وسچا فرمایا گیا ہے اور سیدنا ابوبکر صدیقص بھی مہاجر صحابی ہیں۔ اگر بقول روافض کے وہ خلیفۂ برحق نہ ہوں بلکہ غاصب، جابر اور کاذب ہوں تو یہ قرآن کے خلاف ہوگا کیونکہ اس آیت کی رو سے تمام مہاجرین صحابہ بشمول سیدنا صدیقِ اکبرث صادق ہیں۔آپ کے صادق ہونے کے لیے لازم ہے کہ آپ کی خلافت برحق ہو۔
مزید یہ کہ آپ نے بوقتِ وصال،سیدنا عمرص کو خلیفہ نامزد کیا جس کی مہاجرین وانصار سب صحابہ کرامث نے تائید کی۔ پس اس آیت کی رو سے سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت کا برحق ہونا ثابت ہو گیا۔
خطیب رحمہ اللہنے نقل کیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ص کا خلیفۂ رسول اللہ ﷺ ہونا قرآن کریم سے ثابت ہے۔ پھر یہی آیت تلاوت کر کے فرمایا، اللہ تعالیٰ جن کو صادق فرمائے وہ کبھی کاذب نہیں ہو سکتے۔ اور صحابہ کرام نے جنہیں قرآن نے صادقون فرمایا ہے، ہمیشہ حضرت ابوبکر ص کو خلیفۂ رسول کہہ کر مخاطب فرمایا ہے۔ ابن کثیررحمہ اللہ کہتے ہیں، یہ استدلال بہت قوی اور احسن ہے۔()
Page 88 of 134

