Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 87 of 134
سیدنا ابوبکرص نے فرمایا، اللہ کی قسم! میں اُن سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کریں گے۔ خدا کی قسم ! اگر وہ زکوٰۃ میں ایک رسی یا بکری کا بچہ دینے سے بھی انکار کریں گے جو وہ رسول کریم ﷺکو دیا کرتے تھے، تو میں ان سے قتال کروں گا۔ یہ سن کر سیدنا عمر و دیگر صحابہ کرام ثبھی آپ سے متفق ہو گئے۔یوں سیدنا ابوبکر صنے جرأتِ ایمانی اور حسنِ تدبیر سے فتنۂ ارتداد پر قابو پا لیا۔
اس پر اہلسنت اور اہل تشیع دونوں کا اتفاق ہے کہ مرتدین کے خلاف سب سے پہلے حضرت ابوبکرص اور ان کے ساتھیوں نے جہاد کیا۔ آپ نے مختلف سمتوں میں کئی لشکر روانہ کیے۔ سب سے بڑا معرکہ مسیلمہ کذاب سے ہوا جس میں کذاب اور اس کے ساتھی قتل کیے گئے۔اس لیے مفسرین کے نزدیک اس آیت کا مصداق سیدنا ابوبکر صدیق صاور ان کے رفقاء ہیں۔ لامحالہ مذکورہ آیت میں جو سات صفات بیان ہوئیں، ان کا مصداق بھی آپ اور آپ کے متبعین ہی ہیں۔
ان صفات پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مسلمانوں پر نرم اور کافروں پر سخت ہونا نیز جہاد کا اعلان وانتظام کرنا ایسی صفات ہیں جن سے متصف ہونے کے لیے برسرِاقتدار ہونا ضروری ہے۔ لہٰذا اس آیت میں اشارہ ہے کہ مرتدوں سے جہاد کرنے والے لوگ برسرِ اقتدار ہونگے اور اُن کا برسرِ اقتدار ہونا اللہ تعالیٰ کو محبوب ہوگا۔ پس سیدنا ابوبکر صدیق صکا خلیفہ وامیر المؤمنین ہونا رب تعالیٰ کے نزدیک محبوب ہے۔
4۔ قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰی قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِکُمُ الله اَجْرًا حَسَنًا وَاِنْ تَتَوَلَّوْا کَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا O ()
’’ان پیچھے رہ گئے ہوئے گنواروں سے فرماؤ! عنقریب تم ایک سخت لڑائی والی قوم کی طرف بلائے جاؤ گے کہ ان سے لڑویا وہ مسلمان ہو جائیں۔پھر اگر تم فرمان مانو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اچھا ثواب دے گا اور اگر پھر جاؤ گے جیسے پہلے پھر گئے تو تمہیں دردناک عذاب دے گا‘‘۔
اس آیت کے پہلے حصے میں دو باتیں نمایاں ہیں۔اول: یہ کہ جن کفار سے لڑائی کے لیے بلایا جائے گا وہ ’’اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ ‘‘ یعنی تمام سابقہ جنگوں کے فریقین سے زیادہ قوت وشوکت والے ہونگے۔ دوم : یہ بلانا ایسے جہاد کے لیے ہوگا جس کے نتیجے میں یا تو کفار قتل کر دیے جائیں گے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے۔
غزوہ موتہ، غزوہ حنین، فتح مکہ، غزوہ تبوک وغیرہ کا تجزیہ کرنے پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی اس آیت میں مذکور جنگ کا مصداق نہیں ہو سکتی کیونکہ ان میں مذکورہ بالا دونوں شرائط نہیں پائی جاتیں۔
کفرواسلام کا وہ عظیم خونریز معرکہ جو اس آیت کا مصداق ہو سکتا ہے وہ جنگِ یمامہ ہے جو خلافتِ صدیقی میں مسیلمہ کذاب سے لڑی گئی ، جس میں ہزاروں صحابہ کرام شہید ہوئے، ہزاروں کفار قتل ہوئے اور باقیوں نے ہتھیار ڈال دیے۔
بعض مفسرین کے نزدیک اس جنگجو قوم سے مراد اہلِ فارس وروم ہیں جن سے خلافتِ فاروقی وخلافتِ عثمانی میں جنگ ہوئی اور مسلمانوں نے فتح پائی۔ یہ ماننے میں بھی مضائقہ نہیں کیونکہ سیدنا عمر وسیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کی خلافت کا حق ہونا سیدنا ابوبکرص ہی کی خلافت کے حق ہونے کی فرع ہے۔
صدرُ الافاضل رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ’’یہ آیت شیخین جلیلین حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی صحتِ خلافت کی دلیل ہے کہ ان کی اطاعت پر جنت کا اور ان کی مخالفت پر جہنم کا وعدہ دیا گیا‘‘۔ ()
Share:
keyboard_arrow_up