ان آیات میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ مہاجرین صحابہ کو زمین میں اقتدار دیا جائے گا اور یہ لوگ اپنے اقتدار میں اقامتِ دین کا فریضہ سر انجام دیں گے۔اس قرآنی پیش گوئی کا مصداق خلفائے راشدینص ہوئے۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں، اِنْ مَّکَّنّٰہُمْ میں حقیقتِ خلافت کے ایک جزو (یعنی اقامتِ دین) کو دوسرے جزو (یعنی تمکین) پر معلق کیا ہے کیونکہ خلافتِ شرعی اُس تمکین فی الارض کا نام ہے جو اقامتِ دین کے ساتھ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان لوگوں کو اگر زمین میں تمکین ملے گی تو ضرور وہ تمکین، اقامتِ دین کے ساتھ ہو گی اور خلافتِ راشدہ کا یہی مطلب ہے۔ پس خلفائے راشدین جو کہ مہاجرین اولین میں سے تھے ، جن کی نسبت یُقٰتَلُوْنَ اور اُخْرِجُوْا آیا ہے اور جن کے لیے اِذنِ جہاد کا قطعی ثبوت ہے، اُن کو زمین میں تمکین ملنا بھی یقینی ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ وہ حضرات خلفائے راشدین تھے کیونکہ خلافتِ راشدہ انہی دو اجزاء (یعنی تمکین فی الارض اور اقامتِ دین) کا نام ہے۔ ()
حضرت عثمان ص فرماتے ہیں کہ یہ آیت مبارکہ ہمارے بارے میں نازل ہوئی۔ ہمیں اس لیے ہجرت کرنی پڑی کہ ہم نے کہا، ہمارا رب اللہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اقتدار بخشا تو ہم نے نماز قائم کی، زکوٰۃ ادا کی، نیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا۔ پس یہ آیت میرے اور میرے ساتھیوں (سیدنا ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما ) کے بارے میں نازل ہوئی۔ ()
علامہ ابن کثیر رحمہ اللہنے عطیہ عوفی رحمہ اللہ کا قول کیا ہے کہ یہ آیت اس آیت کی طرح ہے،
وَعَدَ الله الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ ۔۔ الخ۔()
3۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَاْتِی الله بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ یُجَاهدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الله وَلاَ یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَائِمٍ ذٰلِکَ فَضْلُ الله یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَاءُ وَالله وَاسِعٌ عَلِیْمٌ O ()
’’اے ایمان والو! تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا توعنقریب اللہ ایسے لوگ لائے گا کہ وہ اللہ کے پیارے اور اللہ اُن کا پیارا (ہوگا)، مسلمانوں پر نرم اور کافروں پر سخت(ہونگے)،اللہ کی راہ میں لڑیں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہ کریں گے، یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے، اور اللہ وسعت والاعلم والا ہے‘‘۔
اس آیت مبارکہ میں یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ بعض لوگ مرتد ہو جائیں گے اور پھر یہ غیبی خبر دی گئی ہے کہ رب تعالیٰ ان مرتدین کے مقابلے کے لیے ایسے لوگ لائے گا جن میں مندرجہ ذیل صفات ہونگی:-
(۱) …وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہونگے۔
(۲)… اللہ تعالیٰ ان کو محبوب ہوگا۔
(۳) …مسلمانوں پر نرم ہونگے۔
(۴) …کافروں کے لیے سخت ہونگے۔
(۵)… رضائے الہٰی کے لیے اس کی راہ میں لڑیں گے۔
(۶) …کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خیال نہ کریں گے۔
(۷) … ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوگا۔
اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے لکھا ہے کہ احمدِ مختا ر ا کے آخری زمانے میں عرب کے تین گروہ مرتد ہوگئے تھے۔ ان میں بڑا فتنہ مسیلمہ کذاب کا تھا۔ علاوہ ازیں سرکارِ دوعالم اکے وصال کی خبرملتے ہی کئی قبائل نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا۔ سیدنا ابوبکر صنے ان منکرینِ زکوٰۃ سے قتال کا فیصلہ کر لیا۔اس پر سیدنا عمرص اور بعض دیگر صحابہ نے قتال جیسے انتہائی اقدام سے منع کیا۔
Page 86 of 134

