سیدنا علی صکے اس ارشادِ گرامی سے واضح ہو گیا کہ وہ سیدنا عمر صکے لشکر کو اللہ تعالیٰ کا لشکر اور ان کی خلافت کو برحق سمجھتے تھے اسی لیے انہوں نے فرمایا کہ آیتِ مذکورہ میں کیا گیا وعدہ ٔ الہٰی خلافتِ فاروقی میں پورا ہو گا۔ تمام مفسرین نے اس آیتِ مبارکہ سے خلفائے راشدین ہی کی خلافتِ حقہٗ مراد لی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ خلفائے راشدین مومن وصالح ہیں کیونکہ خلافت کا وعدہ مومن وصالح امتیوں سے تھا۔
حدیث پاک سے یہ بھی ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺنے خلافتِ صدیقی وفاروقی کی فتوحات کو اپنی فتوحات قرار دے کر ان پر خوشی کا اظہار فرمایا ہے۔حضرت براء بن عازب صسے روایت ہے کہ غزوۂ احزاب میں جب آقا ومولیٰ انے خندق کھودنے کا حکم دیا تو راہ میں ایک سخت چٹان حائل ہو گئی۔ ہم نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی تومحبوبِ کبریا انے کدال لیکر اس چٹان پر بسم اللہ کہہ کر ضرب لگائی تو اس کا تہائی حصہ ٹوٹ گیا۔ آپ نے فرمایا، اللہ اکبر! مجھے ملک شام کی کنجیاں عطا ہوئیں اور میں یہاں سے شام کے سرخ محل دیکھ رہا ہوں۔ پھر بسم اللہ کہہ کر آپ نے دوسری بار کدال ماری تو دو تہائی چٹان ٹوٹ گئی۔ آپ نے فرمایا، اللہ اکبر! مجھے ایران کی کنجیاں عطا ہوئیں اور میں یہاں سے فارس کے سفید محل دیکھ رہا ہوں۔ پھرآپ نے بسم اللہ کہہ کرتیسری بار کدال ماری تو باقی چٹان بھی ٹوٹ گئی اور آپ نے فرمایا، اللہ اکبر! مجھے یمن کی کنجیاں عنایت ہوئیں۔ خدا کی قسم ! میں یہاں سے صنعاء کے دروازے دیکھ رہا ہوں۔()
یہ روایت شیعہ حضرات کے امام کلینی کی کتاب فروع کافی کتاب الروضہ ص ۱۰۲ مطبوعہ لکھنؤ میں بھی موجود ہے اور وہاں یہ الفاظ موجود ہیں، لقد فتحت علی فی ضربتی ھذہ کنوز قیصر و کسری۔ ’’میری اس ضرب سے قیصروکسریٰ کے خزانے میرے لیے فتح کر دیے گئے‘‘۔ یہ فتوحات سیدنا ابوبکر وعمررضی اللہ عنہما کے دورِ خلافت میں ہوئیں۔ اگر روافض کے بقول حضراتِ شیخین غاصب وظالم ہیں(معاذ اللہ) تو ان کے دورِ خلافت کی فتوحات کو رسول کریم ﷺ نے اپنی فتوحات کیوں فرمایا؟ اور کیا اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو زمین میں خلافت عطا فرما دی جبکہ اس نے مومن ومتقی لوگوں کو زمین میں خلافت دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔ پس اگر کوئی شخص خلفائے راشدین خصوصاً سیدنا ابوبکر وعمررضی اللہ عنہما کی خلافت کو برحق نہیں مانتا اور ان کے بارے میں بدگوئی کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ اور رسول کریم ﷺکے ارشادات ہی کامنکر نہیں بلکہ سیدنا علی صکے اُس ارشاد کا بھی منکر ہے جو اوپر مذکور ہوا۔
2۔اَلَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهمْ بِغَیْرِحَقٍ اِلاَّ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا الله وَلَوْ لَا دَفْعُ الله النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیْہَا اسْمُ الله کَثِیْرًا وَلَیَنْصُرَنَّ الله مَنْ یَّنْصُرُہٗ اِنَّ الله لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌO اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْاَرْضِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ وَلِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ ()
’’ وہ جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اتنی بات پر کہ انہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے۔ اور اللہ اگر آدمیوں میں ایک کو دوسرے سے دفع نہ فرماتا تو ضرور ڈھا دی جاتیں خانقاہیں اور گرجا اور کلیسے اور مسجدیں، جن میں اللہ کا بکثرت نام لیا جاتا ہے، اور بے شک اللہ ضرور مدد فرمائے گااُس کی جو اس کے دین کی مدد کرے گا بیشک ضرور اللہ قدرت والا غالب ہے ۔ وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں زمین میں قابو دیں تونماز برپا رکھیں اور زکوٰۃ دیں اور بھلائی کا حکم کریں اور برائی سے روکیں اور اللہ ہی کے لیے سب کاموں کا انجام ‘‘۔
Page 85 of 134

