Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 84 of 134
اسی تعلیم و تبلیغ کی دینی ضرورت کے پیشِ نظر آقا ومولیٰ اکے لیے تعددِ ازواج ایک ضروری امر تھا۔چونکہ انسانی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں رسول کریم ﷺکی راہنمائی کی ضرورت نہ ہو خصوصاًبیویوں سے تعلقات اور ان میں عدل، اپنی اولاد اور سوتیلی اولاد کی تربیت و پرورش، جنابت وطہارت کے مسائل وغیرہ، اس طرح کے بیشمار معاملات میں امت کو ازواجِ مطہرات ہی کے ذریعے راہنمائی ملی ہے۔
ازواج مطہرات کی بعض دینی خدمات کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔ دینی تعلیم و تدریس میں سید ہ عائشہ رضی اﷲ عنہا کا مقام رسول کریم ﷺ نے خود بیان فرمایا ہے۔ ارشاد ہوا، ’’تم اپنے دوتہائی دین کو عائشہ صدیقہ سے حاصل کرو‘‘۔
حضرت عروہ بن زبیرص کہتے ہیں، میں کسی کو معانیٔ قرآن، احکامِ حلال وحرام، اشعارِ عرب اور علم الانساب میں سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہاسے زیادہ عالم نہیں دیکھا۔آپ نے وصالِ نبوی کے بعد اڑتالیس (۴۸) سال تک دین پھیلایا۔
تعددِ ازواج سے قبائلی عصبیت کا خاتمہ ہوا،معاشرتی استحکام میں مدد ملی،غیر اسلامی رسوم کی بیخ کنی ہوئی اور سیاسی فوائدحاصل ہوئے، ان نکات کی تفصیل کو ہم نے طوالت کے خوف سے چھوڑ دیا ہے۔

خلافتِ راشدہ،قرآن کی روشنی میں
1۔ وَعَدَ الله الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَہُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِنْ م بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئاً وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰئِکَ همُ الْفٰسِقُوْنَ ()
’’ اللہ نے وعدہ دیا اُن کو جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ضرور انہیں زمین میں خلافت دے گا جیسی ان سے پہلوں کو دی اور ضرور ان کے لیے جمادے گا اُن کا وہ دین جو ان کے لیے پسند فرمایا ہے اور ضرور ان کے اگلے خوف کو امن سے بدل دے گا، میری عبادت کریں، میرا شریک کسی کو نہ ٹھہرائیں اور جو اس کے بعد ناشکری کرے تو وہی لوگ بے حکم ہیں‘‘۔
اس آیت مبارکہ میں پانچ باتیں بیان ہوئی ہیں:
(۱) … اس آیت کے نزول کے وقت موجود مسلمانوں میں سے کچھ لوگ خلیفہ بنائے جائیں گے۔
(۲)… یہ لوگ متقی اور عبادت گزار ہونگے۔
(۳) …رب تعالیٰ پسندیدہ دین مستحکم بنا دے گا۔
(۴) …ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔
(۵) … ان متقی بندوں کا خلیفہ ہونا عظیم نعمت ہے اور اس نعمت کی ناشکری کرنے والے فاسق ہیں۔
مفسرین صحابہ کرام میں سے سب سے پہلے جس نے اس آیت کو سیدنا ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما پر منطبق کیا اور اس وعدہ کا دورِ فاروقی میں پورا ہونا سمجھا، وہ بابِ مدینۃ العلم سیدنا علی کرم اللہ وجہہ ہیں۔ جب اسلامی لشکر ایران میں کسریٰ کی افواج سے برسرِ پیکار تھااور اس دوران کسریٰ کے خود اپنی افواج کی قیادت کرنے کی خبر ملی تو سیدنا عمر صنے صحابہ کرام سے لشکرِ اسلام کی قیادت کے لیے بنفسِ نفیس جانے کے متعلق مشورہ کیا۔ حضرت علی صنے یہی آیت پیش کر کے حضرت عمرص کو فتح کا یقین دلایا اور محاذ پر نہ جانے کا مشورہ دیا۔ سیدنا علیص کا ارشاد شیعہ حضرات کی مشہور کتاب نہج البلاغۃ کے حوالے سے ملاحظہ فرمائیں۔ آپ نے فرمایا،
’’اس دین کو فتح کثرتِ لشکر سے نہیں ملی اور نہ قلیل تعداد اس کی ناکامی کی وجہ بنی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا دین ہے جس کو اسی نے غالب کیا اور یہ اسی کا لشکر ہے جس کو اس نے خودتیار کیا ہے اور اس کی مدد فرمائی ہے یہاں تک کہ دین اس قدر پھیل گیا۔ ہم لوگوں سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے (یہاں اسی آیت کی طرف اشارہ ہے) اور اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ ضرور پورا فرمائے گا اور اپنے لشکر کوضرور فتح دے گا‘‘۔()
Share:
keyboard_arrow_up