Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 83 of 134
جب حضور ﷺ کا نکاح کا پیغام سیدہ میمونہ رضی اﷲ عنہا کو پہنچا تو وہ اپنے اونٹ پر سوار تھیں۔پیغام سن کر آپ نے کہا،’’ یہ اونٹ اور جو کچھ اس اونٹ پر ہے سب اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے‘‘۔ مراد یہ ہے کہ آپ نے خود کو حضور ﷺ کے لیے ہبہ کردیا تھا اور یہ بات حضور ﷺ کے خصائص میں سے ہے۔
اُمُ المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدہ میمونہ رضی اﷲ عنہا ہم میں سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے والی اور رشتہ داروں کا خیال رکھنے والی تھیں۔ کثرت سے نماز یں پڑھتیں اور لوگوں کو حکمت کے ساتھ دینی مسائل سکھاتیں۔ آپ سے چھہتر(۷۶) احادیث مروی ہیں۔
جہاں آپ کا نکاح ہوا تھا وہیں ۵۱ ھ میں آپ کا وصال ہوا اور آپ کو وہیں دفن کیا گیا۔ جب جنازہ اٹھانے لگے تو حضرت ابن عباسص نے فرمایا، یہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مبارکہ ہیں، جنازہ جھٹکے کے ساتھ نہ اٹھاؤ اور ہلا ہلا کر نہ چلوبلکہ ادب سے آہستہ آہستہ چلو۔()
تعدد ازواج کی حقیقت:
نبی کریم ﷺ نے ایسے معاشرے میں پرورش پائی جہاں خواہشاتِ نفسانی کی آزادانہ تسکین کوئی عیب نہ سمجھی جاتی تھی۔اس کے باوجود آپ پچیس سال کی عمر مبارک تک کسی عورت کی طرف مائل نہ ہوئے۔آپ اپنے پاکیزہ کردار اور اعلیٰ اخلاق کی بناء پر صادق وامین کے القاب سے پکارے جاتے تھے۔
آپ کوپچیس سال کی عمر میں آپ سے پندرہ سال بڑی عمر کی خاتون نے شادی کا پیغام دیا جو صاحبِ اولاد بیوہ تھیں اور جن کے دو شوہر فوت ہو چکے تھے۔آپ نے عمر کے اس واضح فرق کے باوجود اُن دوبار بیوہ ہونے والی خاتون سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا سے نکاح فرما لیا۔قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ پچاس سال کی عمر مبارک ہونے تک وہ تنہا آپ کی زوجہ رہیں۔یعنی آپ نے عین شباب کا عرصہ پچیس سال اس معمر بیوہ خاتون کے ساتھ گزارے اور وہ بھی اس طرح کہ ایک ایک ماہ گھر چھوڑ کر غار حرا میں عبادت میں مشغول رہتے تھے۔
جس مقدس ہستی نے اپنی جوانی کے پچیس سال ایک معمربیوہ خاتون کے ساتھ اس طرح گزارے ہوں کہ کسی دشمن کو بھی ان کے کردار پر انگلی اٹھانے کا موقع نہ ملا ہو، اور اپنی اس زوجہ سے ایسی محبت کی ہو کہ اس کے وصال کے بعد بھی اسے فراموش نہ کیا ہو ، کیا اس مقدس ہستی کے متعلق کوئی یہ گمان کر سکتا ہے کہ ان کی کسی شادی کی وجہ خواہشِ نفس ہو سکتی ہے؟ کوئی منصف مزاج ایسا سوچ بھی نہیں سکتا۔
اُم المؤمنین سیدہ خدیجہ کے انتقال کے کچھ عرصہ بعد سیدہ سودہ جو کہ ایک بیوہ خاتون تھیں، آپ نے ان سے نکاح کر کے انہیں تحفظ اورسہارا دیا۔سن ۲ ھ میں سیدہ عائشہ کی رخصتی عمل میں آئی جبکہ اس وقت آپ کی عمر چوَّن(۵۴)سال ہو چکی تھی۔اس عمر میں پہلی بار آپ کی دو ازواج جمع ہوئیں۔اس کے ایک سال بعد سیدہ حفصہ پھر کچھ ماہ بعد سیدہ زینب بنت خزیمہ آپ کی زوجیت میں آئیں۔سیدہ زینب صرف تین یا آٹھ ماہ آپ کی زوجیت میں رہ کر فوت ہوگئیں۔رضی اللہ عنہن
۴ ھ میں سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا اور ۵ ھ میں سیدہ زینب بنت جحشرضی اللہ عنہا آپ کی زوجیت میں آئیں جبکہ آپ کی عمر مبارک ستاون (۵۷) سال ہو چکی تھی۔
سیدہ اُمِ سلمہرضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد اتنی بڑی عمرمیںآکرآپ کی چار بیویاں جمع ہوئیں ۔ جبکہ آپ اس سے قبل بھی چار نکاح کر سکتے تھے جس وقت امت کو چار ازواج کی اجازت ملی تھی لیکن آپ نے ایسا نہیں کیاحالانکہ آپ کے خصائص میں سے ہے کہ آپ جتنے چاہیں،نکاح فرمائیں۔
۶ ھ میں سیدہ جویریہ اور ۷ھ میں سیدہ اُم حبیبہ، سیدہ صفیہ اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہن آپ کی زوجیت میں آئیں۔ ان کے حالات پہلے تحریر ہوچکے ہیں۔یہ بات ذہن نشین رہے کہ آپ کی ازواج مطہرات میں سوائے سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا کے سب بیوہ تھیں۔نیز آپ کے اکثرنکاح پچپن(۵۵) سال سے اُنسٹھ (۵۹) سال کی عمر میں ہوئے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ کے نبی جو کرتے ہیں وہ حق تعالیٰ ہی کی مرضی سے کرتے ہیں۔ یہ پانچ سالہ عرصہ آپ کے پیغمبرانہ مشن کا اہم ترین دور تھا۔ ایک طرف آپ غزوات میں اسلامی فوج کی قیادت فرما رہے تھے تو دوسری طرف اسلامی قوانین کی تشکیل وتعلیم اور مسلمانوں کی تربیت میں مصروفِ عمل تھے۔
Share:
keyboard_arrow_up