Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 82 of 134
میں اسلام کی آرزو رکھتی تھی اور میں نے آپ کی رسالت کی تصدیق آپ کے دعوت دینے سے پہلے کی ہے۔ اب جبکہ میں نے آپ کے دربارِ گہربار میں حاضر ہونے کا شرف پایا ہے تو مجھے کفرواسلام کے درمیان اختیار دیا جا رہا ہے۔ خدا کی قسم! مجھے اپنی آزادی اور اپنی قوم کے ساتھ ملنے سے اللہ اور اس کا رسول ا زیادہ محبوب ہے۔
ممکن ہے کہ اس طرح حضور ﷺ کو ان کے حال کا امتحان لینا اور ان کی صداقت جانچنا مقصود ہو۔ اس کے بعدحضور ﷺ نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح فرما لیا۔ دوسرے دن حضور ﷺ نے صحابہ سے فرمایا، جس کے پاس جو چیز ہو وہ لے آئے۔ لوگوں نے کھجور، پنیر اور گھی لاکر دسترخوان پر رکھ دیے۔ پھر ان چیزوں سے ملیدہ (حیس) تیار کیا گیا۔حضور ﷺ کی برکت سے سب لوگ شکم سیر ہو گئے۔ آپ کا ولیمہ حضور اکرم ﷺ کے نزدیک بڑی عزت وشان والا تھا۔
اس نکاح سے قبل سیدہ صفیہ رضی اﷲ عنہا نے بھی خواب دیکھا تھاکہ ان کی گود میں چاند اتر آیا ہے۔ حضور ﷺ اور سیدہ صفیہ رضی اﷲ عنہا جب مدینہ منورہ پہنچے تو آپ دونوں کے نکاح اور سیدہ صفیہ رضی اﷲ عنہاکے حسن وجمال کی شہرت سن کر ازواجِ مطہرات اور مدینے کی خواتین انہیں دیکھنے آئیں۔جب دیکھ کر جانے لگیں تو نبی کریم ﷺ سیدہ عائشہرضی اﷲ عنہا کے پیچھے آئے اور پوچھا، تم نے صفیہ کو کیسا پایا؟ جواب دیا،یہودیہ ہے۔ آپ نے فرمایا، یوں نہ کہو، وہ اسلام قبول کر چکی ہیں اور ان کا قبولِ اسلام اچھا اور بہتر ہے۔
ایک دن حضور ﷺ آپ کے پاس تشریف لائے تو آپ کو روتے ہوئے پایا۔ رونے کا سبب پوچھا تو عرض کی، عائشہ اور حفصہ کہتی ہیں کہ ہم صفیہ سے بہتر ہیں کیونکہ ہمیں رسول کریم ﷺکے نسب کی شرافت حاصل ہے۔حضور ﷺ نے فرمایا، تم نے کیوں نہ کہا کہ تم کیسے بہتر ہو جبکہ میرے باپ ہارون ں اور چچا موسیٰ ںہیں۔
حضور ﷺ کے زمانۂ علالت میں سب امہاتُ المؤمنین جمع تھیں۔ سیدہ صفیہ رضی اﷲ عنہا نے عرض کی، خدا کی قسم! میںمحبوب رکھتی ہوں کہ آپ کا یہ مرض مجھے ہو جائے۔ اس پرازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن نے اس بات کوبناوٹ جان کر ان کی طرف دیکھا تو حضور ﷺ نے فرمایا، خدا کی قسم ! صفیہ سچی ہے یعنی ان کا اظہارِ عقیدت بناوٹی اور نمائشی نہیں بلکہ وہ سچے دل سے یہی چاہتی ہے۔
آپ سے دس احادیث مروی ہیں۔ ساٹھ سال کی عمر میں سن ۵۰ ھ میں آپ کا وصال ہوا۔جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔
11۔ اُمُ المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اﷲ عنہا:
حضرت میمونہ بنت حارث عامریہ رضی اﷲ عنہاکا بھی پہلا نام بِرّہ تھا ، حضور ﷺ نے تبدیل فرما کر میمونہ رکھا۔حضرت میمونہ رضی اﷲ عنہاکی والدہ ایسے بے مثل داماد رکھتی ہیں جو کسی اور عورت کو میسر نہیں۔ ایک داماد تو رسول کریم ﷺ ہیں دوسرے داماد حضرت عباسص ہیں جو کہ آپ کی بہن اُمُ الفضلرضی اﷲ عنہا کے شوہر ہیں۔ آپ کی دوسری بہن لبابہ بنت حارث رضی اﷲ عنہا، خالد بن ولیدص کی والدہ ہیں ۔
ام میمونہ کے پہلے شوہر سے دو بیٹیاں تھیں ایک اسماء بنت عمیسرضی اﷲ عنہا جو پہلے حضرت جعفر بن ابی طالب صکے نکاح میں تھیں پھر سیدنا ابوبکر صدیق صکے نکاح میں آئیں پھر سیدنا علی صکی زوجیت میں آئیں۔دوسری بیٹی زینب (یا سلمیٰ) بنت عمیسرضی اﷲ عنہا ہیں جو حضرت حمزہ صکی زوجیت میں تھیں ۔ان کی شہادت کے بعد شداد بن الہادص کی زوجیت میں آئیں۔
سیدہ میمونہ رضی اﷲ عنہاسن ۷ ھ میں بیوہ ہوئیں تو ان کے بہنوئی حضرت عباسص نے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ ! آپ میمونہ سے نکاح فرما لیں۔ چنانچہ حضور ﷺ نے مکہ مکرمہ سے دو میل کے فاصلے پر مقام سرف میں آپ سے نکاح فرمایا۔ آپ حضور ﷺ کی آخری زوجہ مبارکہ ہیں،آپ کے بعد حضور ﷺ نے کسی سے نکاح نہ فرمایا۔
Share:
keyboard_arrow_up