سیدہ جویریہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں، حضور ﷺ جب بنو مصطلق جہاد کے لیے تشریف لائے اس سے چند روز قبل میں نے خواب دیکھا کہ مدینہ سے چاند چلتا آرہا ہے یہاں تک کہ وہ میری آغوش میں اتر آیا۔میں نے یہ خواب کسی سے بیان نہ کیا ۔البتہ میں نے اپنے خواب کی خود ہی یہ تعبیر لی تھی جو پوری ہو گئی۔
سیدہ جویریہ رضی اﷲ عنہاکے حرمِ نبوی میں داخل ہوتے ہی صحابہ کرام نے باہم کہا، ہمیں یہ زیب نہیں دیتا کہ آقا ومولیٰ اکی زوجہ مطہرہ کے رشتہ داروں کو قید میں رکھیں۔ چنانچہ ان کے قبیلے کے سو سے زائد قیدیوں کو رہا کر دیاگیا۔
سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے ازواجِ مطہرات میں سیدہ جویریہ رضی اﷲ عنہا سے زیادہ اپنی قوم کے لیے خیر وبرکت والی کوئی اورنہیں دیکھی۔
آپ ہی کا ایک اور ارشاد ہے کہ سیدہ جویریہ رضی اﷲ عنہا بڑی شیریں اور نہایت حسین وجمیل تھیں، جو کوئی ان کو دیکھتا وہ ان کو اپنے دل میں جگہ دینے پر مجبور ہو جاتا۔
آپ بڑی عبادت گزار اور ذاکرہ تھیں۔ آقا ومولیٰ اجب گھر تشریف لاتے تو آپ کو اکثر عبادت میں مشغول پاتے۔آپ سے سات احادیث مروی ہیں۔
آپ کا وصال ۶۵ سال کی عمر میں ۵۰ ھ میں ہوا۔
9۔ اُمُ المؤمنین سیدہ اُمِ حبیبہ رضی اﷲ عنہا:
آپ حضرت ابوسفیان ص کی صاحبزادی ، حضرت امیر معاویہص کی سگی بہن اور حضرت عثمانص کی پھوپھی زاد بہن ہیں۔آپ ابتدا ہی میں اسلام لائیں اور حبشہ کی جانب ہجرتِ ثانیہ کی۔ آپ کا پہلا شوہر عبیداللہ بن جحش مرتد ہو کر نصرانی ہو گیا اور حبشہ میں فوت ہوا۔اورآپ اسلام پرمضبوطی سے قائم رہیں۔
آپ فرماتی ہیں،’’ میں نے ایک خواب میں دیکھا کہ ایک شخص مجھے ’’یَا اُم المؤمنین ‘‘ کہہ رہا ہے۔میں نے اس سے یہ تعبیر لی کہ رسول کریم ﷺ مجھ سے نکاح فرمائیں گے‘‘۔ چنانچہ حضور ﷺ نے عمرو بن امیہ ضمری صکو نجاشی کے پاس بھیجا کہ وہ حضرت اُم حبیبہرضی اﷲ عنہا کو آپ کے لیے نکاح کا پیغام دیں اور نکاح کردیں۔ یہ پیغام ملنے پر آپ بہت خوش ہوئیں اور آپ نے خالد بن سعیدبن العاص ص کو اپنا وکیل بنایا۔ نجاشی نے آپ کے نکاح کاخطبہ پڑھا اور سب شرکاء کو کھانا کھلا یا۔
حضرت ابوسفیان ص قبولِ اسلام سے پہلے ایک مرتبہ مدینہ منورہ آئے تو آپ سے ملنے آئے۔جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کے بستر پر بیٹھنا چاہا تو آپ نے وہ بستر لپیٹ دیا اوراپنے والد سے کہا، یہ بستر طاہر ومطہر ہے اور تم نجاستِ شرک سے آلودہ ہو اس لیے اس پر نہیں بیٹھ سکتے۔ یہ آپ کی آقا ومولیٰا سے محبت کی دلیل ہے۔
آپ نے اپنے وصال سے قبل سیدہ عائشہرضی اﷲ عنہا اور سیدہ اُم سلمہرضی اﷲ عنہا سے کہا، مجھے اُن امور میں معاف کر دو جو ایک شوہر کی بیویوں کے درمیان ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا، رب تعالیٰ تمہیں معاف کرے، ہم نے بھی معاف کیا۔آپ نے کہا، اللہ تعالیٰ تمہیں خوش رکھے، تم نے مجھے خوش کردیا۔
آپ پاکیزہ ذات، حمیدہ صفات، جواد وسخی اور عالی ہمت خاتون تھیں۔ اسلام کی خاطر طویل سفر کی صعوبت اور تنگی و غربت کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔آپ آقا ومولیٰ ا کے ارشادات پر پابندی سے عمل پیرا ہوتیں۔ آپ سے پینسٹھ (۶۵)احادیث مروی ہیں۔۴۴ ھ میں مدینہ منورہ میں آپ کا وصال ہوا۔
10۔ اُمُ المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حئی رضی اﷲ عنہا:
آپ بنی اسرائیل سے ،قبیلہ بنو نضیر سے ہیں۔ان کا شوہر کنانہ غزوۂ خیبر میں قتل ہوا اور یہ اسیرانِ جنگ کے ساتھ قبضے میں آئیں ۔ حضور ﷺ نے ان سے فرمایا،اے صفیہ! تمہارے باپ نے میرے ساتھ ہمیشہ دشمنی و عداوت رکھی یہاں تک کہ وہ قتل ہو گیا۔ انہوں نے عرض کی، اللہ تعالیٰ کسی بندے کے گناہ کے بدلے کسی دوسرے کو نہیں پکڑتا۔ حضور ﷺ نے انہیں اختیار دیا کہ چاہیں تو آزاد ہو کر اپنی قوم سے مل جائیں یا اسلام لاکر حضور ﷺ کے نکاح میں آجائیں۔ انہوں نے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ !
Page 81 of 134

