Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 80 of 134
پہلے آپ حضور ﷺ کے آزاد کردہ حضرت زید بن حارثہ ص کی زوجیت میں تھیں۔ انہوں نے طلاق دے دی تو عدت کے بعد حضور ﷺ نے انہی کے ذریعہ آپ کو پیغام بھیجا۔حضرت زیدص کہتے ہیں ،جب میں زینب کے پاس گیا تو وہ میری آنکھوں میں ایسی بزرگ معلوم ہوئیں کہ میں ان کی طرف نظر نہ اٹھا سکا۔ آپ نے کہا، میں اس وقت تک کوئی جواب نہیں دوں گی جب تک اپنے رب سے مشورہ نہ کر لوں۔
پھر آپ مصلے پر گئیں اور دو رکعت پڑھ کر سجدے میں دعا کی، الہٰی! تیرے نبی نے مجھے پیغام بھیجا ہے اگر میں ان کے لائق ہوں تو مجھے ان کی زوجیت میں دیدے۔ اسی وقت آپ کی دعا قبول ہوئی اور یہ آیت نازل ہوئی،
’’پھر جب زید کی غرض اس سے نکل گئی تو ہم نے وہ تمہارے نکاح میں دے دی کہ مسلمانوں پر کچھ حرج نہ رہے ان کے لے پالکوں (منہ بولے بیٹوں) کی بیبیوں میں، جب ان سے ان کا کام ختم ہو جائے‘‘۔ ()
اس وحی کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا، کون ہے جو زینب کے پاس جائے اور یہ بشارت دے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے میری زوجیت میں دے دیا ہے۔حضور ﷺ کی خادمہ سلمیٰ رضی اﷲ عنہا دوڑیں اور یہ خوشخبری سنائی۔ اس پر آپ نے اپنے زیورات اتار کر اس خادمہ کو دیدیے اور سجدۂ شکر ادا کیا اور نذر مانی کہ دوماہ کے روزے رکھوں گی۔
آپ دیگر ازواج کے سامنے اس بات پرفخر کیا کرتیں کہ تمہارا نکاح حضور ﷺ سے تمہارے والدین نے کیا ہے اور میرا نکاح اللہ تعالیٰ نے کیا ہے اور اس کے گواہ جبریل ہیں۔آپ ہی کی وجہ سے حجاب کا حکم نازل ہوا۔
حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا، تم میں سے مجھ سے پہلے وہ ملے گی جس کے ہاتھ لمبے ہیں۔اس پر ہم اپنے ہاتھ ناپنے لگیں۔(جسمانی طور پرسیدہ سودہ رضی اﷲ عنہاکے ہاتھ زیادہ لمبے تھے لیکن جب سیدہ زینب بنت جحش رضی اﷲ عنہا کا وصال پہلے ہوا تو معلوم ہوا کہ لمبے ہاتھوں سے مراد زیادہ صدقہ دینا ہے لہٰذا) سب سے لمبے ہاتھ سیدہ زینب رضی اﷲ عنہا کے تھے کیونکہ وہ اپنے ہاتھوں سے کام کاج کیا کرتیں اور صدقہ وخیرات زیادہ کرتیں۔ ()
سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت زینب رضی اﷲ عنہاسے زیادہ کسی عورت کو بہت زیادہ نیک اعمال کرنے والی، زیادہ صدقہ وخیرات کرنے والی، صلہ رحمی کرنے والی اور اپنے نفس کو عبادت میں مشغول رکھنے والی نہ دیکھا۔آپ سے گیارہ احادیث مروی ہیں۔ آپ کا وصال ۵۳ برس کی عمر میں ۲۰ ھ میں ہوا۔
8۔ اُمُ المؤمنین سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اﷲ عنہا:
آپ کا اصل نام بھی بِرہ تھا جو حضور ﷺ نے تبدیل فرما کر جویریہ رکھا۔ آپ کا پہلا نکاح آپ کے عم زاد سے ہوا تھا۔ آپ کے شوہر اور والد دونوں اسلام کے سخت دشمن تھے۔ آپ کے والد قبیلہ بنو مصطلق کے سردار تھے۔ انہوں نے مدینہ پر حملہ کی تیاری شروع کی تو حضور کو خبر ہو گئی۔اسلامی فوج مدینہ سے روانہ ہوئی اور شعبان ۵ ھ میں مریسیع میں مختصر لڑائی کے بعد فتح ہوئی۔
فتح کے بعد حضور ﷺ ایک جگہ تشریف فرما تھے کہ حضرت جویریہ رضی اﷲ عنہا آئیں اور عرض کی، یارسول اللہ ﷺ ! میں مسلمان ہو کر حاضر ہوئی ہوں۔ میں اس قبیلہ کے سردار حارث کی بیٹی ہوں، اب قیدی کے طور پر ثابت بن قیس ص کے حصہ میں آگئی ہوں۔ وہ اس پر راضی ہیں کہ اتنے مال کے عوض مجھے چھوڑ دیں گے لیکن میں اس قدر مال ادا نہیں کر سکتی لہٰذا آپ میری مدد فرمائیں۔آپ نے فرمایا، میں وہ رقم ادا کروں گا اور تمہارے ساتھ اس سے بھی بہتر سلوک کروں گا۔ عرض کی، اس سے بہتر کیا ہوگا؟ فرمایا، تمہیں اپنی زوجیت کا شرف بخشوں گا۔ اس پرآپ خوش ہو گئیں۔
Share:
keyboard_arrow_up