Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 79 of 134
5۔ اُمُ المؤمنین سیدہ زینب بنت خزیمہ رضی اﷲ عنہا:
سیدہ زینب بنت خزیمہرضی اﷲ عنہا قبیلہ بنو عامر سے تعلق رکھتی تھیں۔ نہایت عبادت گزار اور سخی دل خاتون تھیں۔ زمانۂ جاہلیت میں مساکین پر بیحد شفقت کرنے اور انہیں کھانا کھلانے کے باعث لوگ آپ کو اُمُ المساکین کہتے تھے۔ آپ کا پہلا نکاح حضور ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی حضرت عبداللہ بن جحشص سے ہوا جو غزوۂ اُحد میں شہید ہوگئے تھے۔مشہور ہے کہ انہوں نے جنگ سے پہلے یہ دعا مانگی:
’’اے خالق ومالک ! مجھے ایسا مدمقابل عطا کر جو نہایت بہادر اور غضبناک ہو، میں تیری راہ میں لڑتا ہوا مارا جاؤں اور وہ میرے ہونٹ، ناک اور کان کاٹ ڈالے پھر جب میں تیرے پاس آؤں اور تو پوچھے، اے عبداللہ ! تیرے ہونٹ، ناک، کان کیوں کاٹے گئے تو میں عرض کروں، اے اللہ تیرے اور تیرے رسول کے لیے‘‘۔
ان کی یہ دعا قبول ہوئی اور انہیں غیب سے شہادت کی بشارت ہوئی۔وہ اس قدر بے جگری سے لڑے کہ ان کی تلوار ٹوٹ گئی۔ احمدِ مختار انے انہیں کھجور کی چھڑی عطا فرمائی جو ان کے ہاتھ میں تلوار بن گئی اور اس سے لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔
اسی سال حضور ﷺ نے سیدہ زینب بنت خزیمہرضی اﷲ عنہا سے نکاح کیا۔ آپ بہت کم مدت حضور کی خدمت میں حیات رہیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہاکے بعد آپ دوسری زوجہ مبارکہ ہیں جن کا حضور ﷺ کی حیاتِ ظاہری میں وصال ہوا۔امہاتُ المؤمنین میں صرف آپ کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ رسول کریم ﷺ نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن فرمایا۔ماہ ربیع الثانی ۴ ھ میں آپ کا وصال ہوا۔
6۔ اُمُ المؤمنین سیدہ اُمِ سلمہ رضی اﷲ عنہا:
آپ کا اصل نام ہند اور کنیت اُمِ سلمہ ہے۔ آپ کا پہلا نکاح حضرت ابوسلمہ ص سے ہوا جو حضور ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔آپ نے دونوں مرتبہ حبشہ کی طرف ہجرت کی، پھر حبشہ سے مدینہ آئیں۔ آپ پہلی صحابیہ ہیں جنہوں نے مدینہ ہجرت فرمائی۔
آپ نے نبی کریم ﷺ سے سن رکھا تھا کہ جس مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچے وہ یہ دعا مانگے، اَللّٰہُمَّ اٰجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِنْہَا۔’’اے اللہ! اس مصیبت میں مجھے اجر عطا فرما اور مجھے اس سے بہتربدل عطا فرما‘‘۔اس دعا کے پڑھنے والے کو اللہ تعالیٰ ،جو نقصان ہوا، اس سے بہتر نعم البدل عطا فرمائے گا۔
آپ فرماتی ہیں،حضرت ابوسلمہ ص کی وفات کے بعد میں اس دعا کو پڑھتی اور اپنے دل میں کہتی، ابوسلمہ سے بہتر مسلمانوں میں کون ہو سکتا ہے۔لیکن حضور ﷺ کے ارشاد کی تعمیل میں یہ دعاپڑھتی رہی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ابوسلمہ صسے بہتر شوہر یعنی نبی کریم ﷺ عطا فرمائے۔
آقا ومولیٰ اسے محبت کا یہ عالم تھا کہ آپ نے حضور ﷺ کے چند موئے مبارک چاندی کی ڈبیا میں محفوظ کیے ہوئے تھے۔صحابہ کرام میں سے جب کوئی بیمار ہوتا تو وہ ایک پیالہ پانی لے کر آتے،آپ اس پانی میں حضور ﷺ کے موئے مبارک ڈبو دیتیں۔ ان کی برکت سے مریض کو شفا ہوجاتی۔ ()
آپ صاحبِ فتاویٰ صحابیات میں سے ہیں۔علم وفضل کے اعتبار سے امہاتُ المؤمنین میں سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا کے بعد آپ کا درجہ ہے۔ آپ سے تین سو اٹھتر (۳۷۸) احادیث مروی ہیں۔ کثیر صحابیات اور تابعین نے آپ سے استفادہ کیا۔
آپ نے چوراسی سال عمر پائی اور سب امہاتُ المؤمنین کے آخر میں امام حسینص کی شہادت کے بعد ۶۲ ھ میں وصال فرمایا۔
7۔ اُمُ المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اﷲ عنہا:
آپ نبی کریم ﷺ کی پھوپھی زاد ہیں۔آپ کا نام پہلے بِرّہ تھا، حضور ﷺ نے تبدیل فرما کر زینب رکھا۔آپ پہلے اسلام لانے اور ہجرت کرنے والی خواتین میں سے ہیں۔
Share:
keyboard_arrow_up