سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا سے حضرت اسماء رضی اﷲ عنہاکا ہار گم ہو گیا تو حضور ﷺ نے اسے تلاش کرنے کے لیے بعض صحابہ کو بھیجا۔پھر نماز کا وقت آگیا تو پانی نہ ملنے کی وجہ سے انہوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی۔ جب بارگاہِ نبوی میں یہ معاملہ عرض کیا تو رب تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل فرمائی۔ اس پر حضرت اُسید بن حضیرص نے کہا، اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے، آپ پر جب بھی کوئی مصیبت نازل ہوئی تو رب تعالیٰ نے آپ کو اس سے نجات دی اور مسلمانوں کے لیے اس میں برکت رکھ دی۔()
حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہاسے روایت ہے کہ رسول اﷲا نے فرمایا : اے عائشہ! یہ جبرئیل ہیں جو تمہیں سلام کہتے ہیں۔ میں نے کہا، وعلیہ السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ پھر کہا، میرے آقا! آپ وہ کچھ دیکھتے ہیں جو میں نہیں دیکھتی۔ ()
آپ کا ارشادہے، اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسی سات صفات عطا کی ہیں جو کسی اور کو نہیں ملیں:
(ا)فرشتہ میری تصویر لے کر نازل ہوا۔
(۲)حضور نے مجھ سے سات سال کی عمر میں نکاح کیا، نو سال کی عمر میں میری رخصتی ہوئی اور آپ کے نکاح میں صرف میں کنواری تھی۔
(۳)میرے بستر میں حضور پر وحی نازل ہوتی تھی۔
(۴)میں سب سے زیادہ حضور کو محبوب تھی اور میں اس کی بیٹی ہوں جو حضور کو سب سے زیادہ محبوب تھا۔
(۵)میری وجہ سے قرآن میں ان امور میں آیات نازل ہوئیں جن میں امت ہلاک ہو رہی تھی (مثلاً تیمم اور حدقذف کے مسائل)۔
(۶)میرے سوا کسی زوجہ مطہرہ نے جبریل کو نہ دیکھا۔
(۷) میرے حجرے میں حضور کا وصال ہوا، اس وقت میرے اور فرشتے کے سوا کوئی آپ کے قریب نہ تھا۔ ()
آپ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ کی برأت اور طہارت میں قرآن مجید کی آیات نازل ہوئیں۔ آپ سے دوہزار دوسو حدیثیں مروی ہیں ۔۵۸ ھ میں آپ کا وصال ہوا۔
4۔ اُمُ المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا:
سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہاسیدنا عمر فاروق صکی صاحبزادی ہیں۔ جب حضرت عمرص اسلام لائے تو انہیں ایام میں آپ بھی اسلام لائیں۔ پہلے حضرت خنیسص کی زوجیت میں تھیں جو اصحابِ بدر میں سے تھے۔
ان کے انتقال کے بعدحضرت عمرص نے حضرت عثمان ص کو ان سے نکاح کے لیے کہا، ا نہوں نے کہا، میں ابھی نکاح نہیں کرنا چاہتا۔پھر آپ نے حضرت ابوبکرص کو نکاح کی پیشکش کی تو وہ خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔ اس پرحضرت عمر ص نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سب حالات عرض کیے۔ حضور ﷺ نے فرمایا، حفصہ کی شادی اس سے ہو گی جو عثمان سے بہتر ہے اور عثمان کی شادی اس سے ہو گی جو حفصہ سے بہتر ہے۔ چنانچہ چند دن بعد سیدہ حفصہ کو نبی کریم ﷺ نے نکاح کے لیے قبول فرمالیا اور اپنی صاحبزادی سیدہ اُمِ کلثوم کا نکاح حضرت عثمان ص سے کر دیا۔
اس کے بعد سیدنا ابوبکرص سیدنا عمرص سے ملے اور فرمایا، تم نے مجھ سے حفصہ کے نکاح کی خواہش ظاہر کی تو میں اس لیے خاموش رہا کہ میں جانتا تھا ، حضور ﷺ نے حفصہ سے نکاح کے متعلق فرمایا ہے اور میں ان کی بات قبل از وقت نہیں بتاناچاہتا تھا۔
ایک مرتبہ حضرت جبریل ںنے بارگاہِ نبوی میں سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہاکے متعلق عرض کی، وہ راتوں کو بہت عبادت کرنے والی اور روزے رکھنے والی ہیں اور جنت میں بھی آپ کی زوجہ ہیں۔
علم وفضل کے اعتبار سے بھی آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے۔آپ سے ساٹھ حدیثیں مروی ہیں۔کثیر صحابیہ اور تابعی خواتین آپ کے حلقۂ تلامذہ میں داخل ہیں۔سیدنا ابوبکرص نے قرآن کریم کا جو نسخہ تیارکرایا تھا وہ سیدنا عمرص کی شہادت کے بعد آپ ہی کی تحویل میں رہا۔۴۵ ھ میں آپ کا وصال ہوا۔
Page 78 of 134

