Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 77 of 134
ان حوالوں سے معلوم ہوا کہ سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا کی عمر اس وقت آٹھ نو سال تو ہوگی اسی لیے سیدنا ابوبکرص آپ کی شادی کرنے پر آمادہ تھے۔ بخاری کی مذکورہ حدیث سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی عمر آٹھ نو سال ہوگی ،انی لجاریۃ(میں نوعمر لڑکی تھی) کے الفاظ سے یہی اندازہ ہوتا ہے۔ بخاری ہی کی ایک روایت اور ملاحظہ کیجیے۔
عروہ بن زبیر صسے روایت ہے کہ سیدہ عائشہرضی اﷲ عنہانے فرمایا،’’ جب میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے والدین کو دین کی آغوش میں دیکھا۔کوئی دن ایسا نہ گزرتا جب حضور ﷺ ہمارے گھر صبح وشام تشریف نہ لاتے ہوں۔ جب مسلمان آزمائشوں میں مبتلا ہوئے تو ابوبکرص حبشہ ہجرت کے ارادے سے نکلے‘‘۔
بچے کس عمر میں ہوش سنبھالتے ہیں؟ کم از کم چار پانچ سال عمر تو لازمی ہے۔ نبوت کے پانچویں سال ہجرتِ حبشہ نیز نبوت کے تیرھویں سال مدینہ ہجرت کا واقعہ ہوا۔ گویا ہجرت حبشہ سے بھی کئی سال پہلے سیدہ عائشہرضی اﷲ عنہا چار پانچ سال کی تھیں تو لامحالہ ہجرتِ حبشہ کے وقت سال ۵ نبوی میں آپ کی عمر آٹھ نو سال ہی ہوگی جیسا کہ پہلے مذکور ہوا اور ہجرتِ مدینہ کے وقت سولہ سترہ سال ہوگی۔
سیرت ابن ہشام میں السابقون الاولون کے عنوان سے پہلے اسلام لانے والوں کی جو فہرست تحریر ہے اس میں بیسویں نمبر پر سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا کا اسم گرامی موجود ہے۔ یعنی نبوت کے پہلے سال آپ اسلام لائیں اس وقت کم ازکم آپ کی عمر چار پانچ سال تو ضرور ہوگی کہ اسلام لانے کے لیے باہوش ہونا ضروری ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا کی نو سال میں رخصتی والی جس روایت کی بناء پر مستشرقین اوراسلام دشمن آقا ومولیٰا پر اعتراض کرتے ہیں ، وہ روایت مذکورہ روایات کے متعارض اور درایت کے بھی خلاف ہے کہ نو سال کی بچیوں کی رخصتی نہیں کی جاتی۔ ان دلائل کی بناء پر ایک خیال یہ ہے کہ ۲ ھ میں رخصتی کے وقت سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا کی عمر کم وبیش سترہ اٹھارہ سال ہوگی۔
بہرحال سیدہ عائشہرضی اﷲ عنہا کی عمر سے قطع نظر یہ ضرور ثابت ہے کہ نکاح سے قبل حضور ﷺ کو آپ خواب میں دکھا دی گئی تھیں اور یہ بتا دیا گیا تھا کہ یہ آپ کی زوجہ ہونگی۔
سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آقا ومولیٰ انے فرمایا، تم مسلسل تین راتیں مجھے خواب میں دکھائی گئیں۔ایک فرشتہ ریشمی کپڑے پر تمہاری تصویر لے کر آیا اور کہا، یہ آپ کی زوجہ ہیں،ان کا چہرہ دیکھے۔ میں نے وہ کپڑا کھولا تو وہ تم تھیں۔ ()
رسول کریم ﷺکی رضا جوئی کے لیے لوگ اس دن تحفے بھیجتے تھے جس دن آپ کی باری ہوتی تھی۔ ازواج مطہرات نے عرض کی، حضور ﷺ لوگوں کو حکم دیں کہ وہ ہدیے پیش کیا کریں خواہ حضور کسی زوجہ کے گھر ہوں۔ آپ نے فرمایا، مجھے عائشہ کے بارے میں ایذا نہ دو۔ بلاشبہ مجھے کسی زوجہ کے بستر میں وحی نہیں آتی سوائے عائشہ کے۔
ایک مرتبہ حضور ﷺ نے سیدہ فاطمہرضی اﷲ عنہا سے فرمایا، اے بیٹی! کیا تم اس سے محبت نہیں کرتیں جس سے میں محبت کرتا ہوں؟سیدہ نے کہا، ہاں کیوں نہیں۔ آپ نے فرمایا، پھر تم عائشہ سے محبت رکھو۔ ()
رسول کریم ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ، عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر۔ ()
حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺمرضُ الوصال میں پوچھا کرتے کہ کل میں کہاں ہوں گا؟ کل میں کہاں ہو ں گا؟ یعنی مراد یہ تھی کہ حضرت عائشہ کی باری کب آئے گی۔اس پر ازواجِ مطہرات نے آپ کو اجازت دے دی کہ آپ جہاں چاہیں جلوہ افروز رہیں۔چنانچہ آپ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہاکے حجرۂ اقدس میں رہے یہاں تک کہ ان کے پاس ہی وصال فرمایا۔ ()
Share:
keyboard_arrow_up