Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 76 of 134
حضر ت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں، مجھے نبی کریم ﷺ کی کسی زوجہ پر اتنا رشک نہیں آتا جتنا حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا پر، حالانکہ میں نے اُنہیں دیکھا نہیں ہے لیکن آقا ومولیٰ ا اکثر ان کا ذکر فرماتے رہتے ہیں۔ ()
حضرت علی صسے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ، اپنے زمانے کی عورتوں میں بہترین مریم بنت عمرانعلیہا السلام تھیں اور اپنے زمانے کی عورتوں میں بہترین خدیجہ بنت خویلدرضی اللہ عنہا ہیں۔ ()
حضرت انس صسے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ ا نے فرمایا، تمام جہان کی عورتوں میں سے مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمدا اور فرعون کی بیوی آسیہ کی فضیلت جاننا کافی ہے۔ رضی اللہ عنہن اجمعین ()
حضرت ابن عباس صسے روایت ہے کہ احمدِ مختار ا نے فرمایا، اہلِ جنت کی تمام عورتوں میں سے افضل ترین چار ہیں۔خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمدا ، فرعون کی بیوی آسیہ اور مریم بنت عمران۔رضی اللہ عنہن اجمعین ()
2۔ اُم المؤمنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا:
سیدہ سودہ رضی اﷲ عنہاقبیلہ قریش کے ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ بعثتِ نبوی کے اوائل میں اسلام لائیں اور اپنے شوہر کے ہمراہ حبشہ ہجرت کی۔آپ جب حبشہ سے واپس مکہ مکرمہ آئیں تو خواب دیکھا کہ نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے ہیں اور قدمِ اقدس ان کی گردن پر رکھا ہے۔آپ نے یہ خواب اپنے شوہر سے بیان کیا تو انہوں نے کہا، اگر تم سچ کہتی ہو تو پھر تعبیر یہ ہے کہ میرا ا نتقال جلد ہوگا اور میرے بعد حضور ﷺ تمہیں چاہیں گے۔ چنانچہ اسی طرح ہوا اور حضور ﷺ نے سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہاکے وصال کے بعد آپ سے نکاح فرمایا۔
سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ’’ میں نے کسی عورت کو حسد سے خالی نہیں دیکھا سوائے حضرت سود ہ کے‘‘۔سخاوت وایثار میں بھی آپ نمایاں مقام رکھتی تھیں۔جب آپ پر بڑھاپے نے غلبہ کیا تو آپ نے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے آپ سے کسی چیز کی خواہش نہیں ہے ۔ میری تمنا صرف یہ ہے کہ کل قیامت میں میرا حشر آپ کی ازواجِ مطہرات میں ہو، اس لیے میں اپنی باری کا دن عائشہ کو سونپتی ہوں۔حضور ﷺ نے آپ کی خواہش منظور فرما لی۔آپ سے پانچ احادیث مروی ہیں۔
3۔ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا:
آپ کا نام عائشہ اور لقب حمیرا اور صدیقہ ہیں۔سیدنا ابوبکر صدیق صکی صاحبزادی ہیں۔ بچپن ہی سے ذہین اور دلیر تھیں۔آپ غزوہ اُحد میں مشک اٹھا کر زخمیوں کو پانی پلاتیں۔غزوۂ خندق میں خیمہ سے باہر نکل کر جنگ کا نقشہ دیکھا کرتیں۔
سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں ، جب نبی کریم ﷺ نے ان سے نکاح فرمایا تو وہ چھ سال کی تھیں اور ان کی رخصتی ہوئی تو وہ نو سال کی تھیں۔ ()
اس پر بعض مستشرقین نے نوسالہ لڑکی کو بیوی بنانے کے حوالے سے اعتراض کیا جس کے جواب میں بعض علماء نے تحقیق کے بعد مذکورہ روایت کو بعض دیگر روایات کے متعارض قرار دیا۔ان علماء کی تحقیق کا خلاصہ حسب ذیل ہے:
یوسف بن ماہکص کہتے ہیں کہ اُم المؤمنین عائشہ رضی اﷲ عنہانے فرمایا، جب یہ آیت (سورۃ القمر کی آیت۴۶) حضور ﷺ پر مکہ میں نازل ہوئی تو ان دنوں مَیں ایک نوعمر لڑکی تھی اور کھیلا کرتی تھی۔()
مفسرین کرام کے مطابق یہ سورت سال۵ نبوی میں نازل ہوئی۔اسی سال سیدنا ابوبکر ص جبیر بن مطعم کے گھر تشریف لے گئے جن سے سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا کی پہلے منگنی ہو چکی تھی، تاکہ ان کے گھر والوں کو ان سے نکاح پر راضی کیا جائے۔وہ راضی نہ ہوئے اس پر یہ منگنی ختم ہو گئی۔()
Share:
keyboard_arrow_up