Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 75 of 134
اس آیت مقدسہ میں رب تعالیٰ نے ازواجِ مطہرات پر ایک خاص نعمت کا ذکر فرمایا ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں،
اے نبی کی بیویو! رب تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد رکھو کہ اس نے تمہیں ایسے گھروں میں آباد کیا جہاں اللہ تعالیٰ کی آیتیں اور حکمت پڑھی جاتی ہے اور اس انعام پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کروکہ اس نے تمہیں اپنے لطف وکرم سے نوازا۔نیز رب تعالیٰ تمہارے متعلق پوری طرح باخبر ہے کیونکہ اس نے اپنے محبوب رسول اکی زوجیت کا شرف تمہیں عطا کیا ہے۔ حکمت سے مراد سنت ہے۔()
اس آیت کریمہ میں رب تعالیٰ نے امہاتُ المؤمنین سلام اللہ علیہن کو قرآن وسنت کے علوم یاد کرنے کی تلقین بھی فرمائی کیونکہ یہ خلوت گاہِ نبوت کی رازدار تھیں۔حضور کے گھر کے احوال واطوار کو ان سے بہتر کون بیان کرسکتا تھا۔ ازواجِ مطہرات نے اس حکم پر ایسا عمل کیا کہ وہ لوگوں کی بہترین راہنما اور معلمات بن گئیں اور بعض نے تو علومِ قرآن،روایتِ حدیث اورفقہ میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
خصوصاً اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکے تلامذۂ حدیث کی تعداددوسو بیان ہوئی ہے جبکہ بکثرت صحابہ کرام آپ سے دینی مسائل میں استفادہ کرتے تھے۔ صاحبِ فتاویٰ صحابیات میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے علاوہ امہاتُ المؤمنین میں سے حضرت اُمِ سلمہ، حضرت اُمِ حبیبہ اور حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے نام بھی مشہور ہیں۔
10۔ وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰئِکَۃُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ الله الصْطَفٰکِ وَطَھَّرَکِ وَالصْطَفٰکِ عَلٰی نِسَاءِ الْعٰلَمِیْنَ ۔ ()
’’ اور جب فرشتوں نے کہا، اے مریم! بیشک اللہ نے تجھے چُن لیا اور خوب ستھرا کیااور آج سارے جہاں کی عورتوں سے تجھے پسند کیا ‘‘۔
اس آیت مبارکہ میں حضرت مریم علیہا السلام کی فضیلت اور ان کا اُس وقت میں سارے جہان کی عورتوں سے افضل ہونا بیان ہوا ہے۔ اس کا سبب کثرتِ عبادت اور عفت و پاکیزگی کے علاوہ ایک نبی سے نسبت کا ہونا ہے یعنی آپ حضرت عیسیٰں کی والدہ ہیں۔اسی طرح ازواجِ مطہرات کو دیگر جہان کی عورتوں پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب رسول اسے زوجیت کی نسبت رکھتی ہیں۔
اب امہاتُ المؤمنین سلام اللہ علیہنکے مختصر احوال پیش کیے جا رہے ہیں۔
1 ۔ اُم المؤمنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا:
رسول کریم ﷺنے سب سے پہلا نکاح پچیس سال کی عمر مبارک میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہاسے فرمایا جبکہ ان کی عمر چالیس سال تھی اور وہ قریش کی ایک بیوہ خاتون تھیں۔ قریش کے بڑے بڑے سرداروں نے انہیں نکاح کے پیغام بھیجے لیکن انہوں نے سب ٹھکرا دیے اور نبی کریم ﷺ کے لیے انہوں نے خود نکاح کی خواہش ظاہر کی۔
سیدہ خدیجہ رضی ا للہ عنہا وہ پہلی عورت ہیں جنہوں نے حضور ﷺ کی نبوت کی تصدیق فرمائی۔ آپ نے اپنا تمام مال حضور کی رضا کے لیے خرچ کیا۔ آقا ومولیٰ اکی تمام اولاد آپ ہی سے پیدا ہوئی سوائے حضرت ابراہیمصکے جو سیدہ ماریہ قبطیہ رضی ا للہ عنہا سے پیدا ہوئے۔حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ مجھے خدیجہ کی محبت عطا کی گئی ہے۔
حضور ﷺ کو آپ سے اس قدر محبت تھی کہ آپ کی حیات مبارکہ میں حضورنے دوسری شادی نہیں فرمائی۔آپ کا وصال بعثت کے دسویں سال ماہ رمضان میں ہوا۔ آپ کی فضیلت میں یہ بات ہی کافی ہے کہ آپ سیدہ فاطمہ رضی ا للہ عنہا کی والدہ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ صسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حضرت جبرئیل ں حاضر ہوکر عرض گزار ہوئے، یا رسول اﷲ ﷺ ! برتن میں سالن اور کھانا لیکر خدیجہ آرہی ہیں ۔ جب آپ کی بارگاہ میں حاضر ہو جائیں تو اُنہیں اُن کے رب کا اور میرا سلام کہیے گا اوراُنہیں جنت میں موتی کے محل کی بشارت دیجیے گا جس میں کوئی شوریا تکلیف نہیں ہے۔ ()
Share:
keyboard_arrow_up