انبیاء کو بھی اجل آنی ہے
مگر ایسی کہ فقط آنی ہے
پھر اُسی آن کے بعد اُن کی حیات
مثلِ سابق وہی جسمانی ہے
اُس کی ازواج کو جائز ہے نکاح
اُس کا ترکہ بٹے جو فانی ہے
روح تو سب کی ہے زندہ اُن کا
جسمِ پُرنور بھی روحانی ہے
7۔ تُرْجِیۡ مَنۡ تَشَآءُ مِنْہُنَّ وَتُــٔۡوِیۡۤ اِلَیۡکَ مَنۡ تَشَآءُ ؕ وَمَنِ ابْتَغَیۡتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکَ ؕ ذٰلِکَ اَدْنٰۤی اَنۡ تَقَرَّ اَعْیُنُہُنَّ وَلَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیۡنَ بِمَاۤ اٰتَیۡتَہُنَّ کُلُّہُنَّ ؕ۔ ()
’’(آپ کو اختیار ہے کہ) پیچھے ہٹاؤ ان میں سے جسے چاہو اور اپنے پاس جگہ دو جسے چاہو۔ اور جسے تم نے کنارے(یعنی دور) کر دیا تھااُسے تمہارا جی چاہے تو اس میں بھی تم پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ امراس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور غم نہ کریں، اورتم انہیں جو کچھ عطا فرماؤ اس پر وہ سب کی سب راضی رہیں ‘‘۔
رب تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنی بیویوں کے ساتھ عدل و مساوات کا حکم دیا ہے لیکن اس آیت کریمہ کے ذریعے اپنے محبوب رسول ا کو اس حکم سے مستثنیٰ فرما دیا۔اس کے باوجود آقا ومولیٰ ا اپنی ازواجِ مطہرات سے عدل ومساوات کا سلوک فرماتے رہے۔ یہ اختیار عطا فرمانے کا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ ازواجِ مطہرات آقا ومولیٰ ا سے راضی رہیں اور یہ سمجھ لیں کہ جب حضور پر کوئی پابندی نہیں رہی تو اب آقاکریم جسے چاہیں جتنا وقت عنایت فرمائیں، انہیں کسی قسم کے اعتراض کا حق نہیں رہا۔
اُن کے لیے یہی غنیمت اور رب تعالیٰ کی نعمت ہے کہ انہیں محبوبِ کبریا اکی زوجیت میں ہونے کا شرف حاصل ہے۔ ’’ اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُھُنَّ ‘‘ کے الفاظ سے ثابت ہوتا ہے کہ رب تعالیٰ کو ازواجِ مطہرات کی خوشی ملحوظ ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اُن عورتوں پر غیرت کھاتی تھی جنہوں نے اپنی جان آقا ومولیٰ اکے لیے ہبہ کر دی تھی۔ میں نے عرض کی، کیا عورت اپنی جان ہبہ کر سکتی ہے؟ اس پر مذکورہ آیت نازل ہوئی تو میں نے بارگاہِ نبوی میں عرض کی، میرے آقا! میں دیکھتی ہوں کہ آپ کا رب آپ کی خواہش کو پورا کرنے میں جلدی فرماتا ہے۔ ()
8۔ لاَ یَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنْ م بَعْدُ وَلَا اَنْ تَبَدَّلَ بِھِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ ۔()
’’ان کے بعد اور عورتیں تمہیں حلال نہیں اور نہ یہ کہ ان کے عوض اور بیبیاں بد لو اگرچہ تمہیں ان کا حسن بھائے مگر کنیز تمہارے ہاتھ کا مال، اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے‘‘۔
سورۃ الاحزاب کی آیت ۲۸ اور ۲۹ میں مذکور ہواکہ ازواجِ مطہرات کو یہ اجازت دی گئی تھی کہ وہ چاہیں تو فقر وفاقہ اور تنگی کے ساتھ کاشانۂ نبوت میں رہیں اور چاہیں تو الگ ہو جائیں، تو سب ازواجِ مطہرات نے دنیاوی آسائشوں کو ٹھکرا کر سرکارِ دوعالم کا قرب پسند کیا۔ ان کے اس ایثار کو پسند فرماکر رب کریم نے اپنے محبوب رسول ا سے فرمایاکہ اب کسی اور کو شرفِ زوجیت نہ بخشیں اور نہ ہی اِن میں سے کسی کو طلاق دیں۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے یہ ممانعت ختم کرتے ہوئے اس آیت کے حکم کو منسوخ فرما دیااور نکاح کی اجازت دے دی۔ لیکن پھر بھی سرکارِ دوعالم ا نے کوئی نکاح نہیں کیا تاکہ ازواجِ مطہرات پر آپ کا یہ احسان رہے ۔ ()
9۔وَاذْکُرْنَ مَایُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ الله وَالْحِکْمَۃِ اِنَّ الله کَانَ لَطِیْفاً خَبِیْرًا()
’’اور یاد کرو جو تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں اللہ کی آیتیں اور حکمت، بیشک اللہ ہر باریکی جانتا خبردار ہے‘‘۔
Page 74 of 134

