Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 73 of 134
2۔اَلنَّبِیُّ اَوْلیٰ بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ وَاَزْوَاجُہٗ اُمَّھٰتُھُمْ ۔ ()
’’یہ نبی مسلمانوں کا اُن کی جان سے زیادہ مالک ہے اور اِس کی بیبیاں اُن کی مائیں ہیں‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیتِ کریمہ میں رسول کریم ﷺ کے مالک و مختار ہونے کی صفت بیان فرما کر آپ کی ازواجِ مطہرات کوتمام ایمان والوں کی مائیں قرار دیا ہے، اسی لیے ازواجِ مطہرات کو امہاتُ المؤمنین یعنی ’’مومنوں کی مائیں‘‘ کہا جاتا ہے۔جس طرح ماں کا درجہ تمام عورتوں سے زیادہ ہوتا ہے، اسی طرح ازواجِ مطہرات تمام عورتوں سے اعلیٰ وافضل ہیں اور اُن کی تعظیم و تکریم سب مومنوں پر لازم ہے۔
3۔وَاِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الله وَرَسُوْلَہٗ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ فَاِنَّ الله اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْکُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا ۔ ()
’’اور اگر تم اللہ اور اُس کے رسول اور آخرت کا گھر چاھتی ہو، تو بیشک اللہ نے تمہاری نیکی والیوں کے لیے بڑا اجر تیار کر رکھا ہے ‘‘۔
اس آیت میں آقا ومولیٰ ا کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی برکت سے ازواجِ مطہرات کو اجر عظیم کی بشارت دی گئی ہے۔چونکہ تمام ازواجِ مطہرات نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ا کی خاطر دنیا اور اس کی لذتوں اورآسائشوں کو ٹھکرا دیا اور اللہ و رسول ا کی محبت کو تمام دنیا پر ترجیح دی اس لیے وہ اس بشارت کی مستحق ہو گئیں جو اس آیت میں مذکور ہے۔ پس ثابت ہوا کہ تمام ازواجِ مطہرات جنتی ہیں۔
4۔وَمَنْ یَّقْنُتْ مِنْکُنَّ لِله وَرَسُوْلِہٖ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِھَا اَجْرَھَا مَرَّتَیْنِ وَاَعْتَدْنَا لَھَا رِزْقًا کَرِیْمًا۔ ()
’’اور جو تم میں فرمانبردار رہے اللہ اور رسول کی اور اچھا کام کرے،ہم اسے اوروں سے دونا ثواب دیں گے اور ہم نے اس کے لیے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے‘‘۔
رسول کریم ﷺکی اطاعت و فرمانبرداری کرنے پر رب تعالیٰ نے ازواجِ مطہرات کے لیے اجرِ عظیم کو دوگنا کرنے کی خوشخبری دی اور عزت والا رزق دینے کا اعلان بھی فرما دیا۔ازواجِ مطہرات کے لیے دُگنے اجر کی وجہ یہ ہے کہ اُن کے عمل کی دو جہتیں ہیں۔اول:اللہ اور رسول کی اطاعت، دوم:رسول کریم ﷺ کی رضا جوئی۔()
5۔ اِنَّمَا یُرِیْدُ الله لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا
’’اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کر کے خوب ستھرا کر دے ‘‘۔ ()
سورۃ الاحزاب کی اس سے سابقہ آیات میں رب کریم عزوجل نے ازواجِ مطہرات کی فضیلت و عظمت بیان فرما کر انہیں پرہیزگاری کی تلقین فرمائی اور اس آیت میں ان کی پاکیزگی کو بیان فرمایا۔گویا جن مقدس خواتین کے سروں پر زوجیتِ مصطفی علیہِ التحیۃُ والثناء کا مبارک تاج سجانا تھا، رب تعالیٰ نے انہیں طہارت و پاکیزگی کا پیکر بنا کر کاشانۂ نبوت کی زینت بنا دیا۔ اس آیت کے حوالے سے تفصیلی گفتگو پہلے ہو چکی ہے۔
6 ۔وَمَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ الله وَلَا اَنْ تَنْکِحُوْا اَزْوَاجَہٗ مِنْ م بَعْدِہٖ اَبَدًا ۔ ()
’’اور تمہیں (حق) نہیں پہنچتا کہ رسولُ اللہ کو ایذا دو، اور نہ یہ کہ ان کے بعد ان کی بیبیوں سے نکاح کرو‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے ازواجِ مطہرات کو مومنوں کی مائیں قرار دیا ہے اس لیے آقا ومولیٰ ا کے ظاہری وصال کے بعد کوئی ان سے نکاح نہیں کر سکتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ آقا ومولیٰ ا کو روضۂ اقدس میں حقیقی جسمانی حیات حاصل ہے اس لیے بھی آپ کی ازواج دوسرا نکاح نہیں کر سکتیں۔ حیاتِ انبیاء کرام کے عقیدے پر تفصیلی دلائل فقیر کی کتاب ’’مزاراتِ اولیاء اور توسل‘‘ میں ملاحظہ فرمائیں۔ قرآن وحدیث کے مضامین کی امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللہنے کیا خوب ترجمانی فرمائی ہے:
Share:
keyboard_arrow_up