106۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کر کے قریش کو پریشانی میں مبتلا کر دیا اور وہ کہنے لگے کہ حضرت اسامہ بن زیدص کے سوا نبی کریم ﷺ سے اُس کی سفارش کی جرأت کون کر سکتا ہے کیونکہ رسول کریم ﷺ کو ان سے محبت ہے۔ ()
107۔ حضرت عبداللہ بن عمر صنے ایک شخص کو دیکھا کہ مسجد نبوی کے گوشے میں کپڑے پھیلا رہا ہے۔ تو آپ نے فرمایا، دیکھو یہ کون ہے؟ کسی نے کہا، اے ابوعبدالرحمن! کیا آپ اسے نہیں پہچانتے؟ یہ تو محمد بن اسامہص ہے۔یہ سن کر حضرت ابن عمرص نے اپنا سر جھکا لیا اور دونوں ہاتھوں سے زمین کریدنے لگے پھر فرمایا، اگر رسول کریم ﷺاسے دیکھتے تو ضرور اس سے محبت کرتے۔ ()
108۔ حضرت عمر ص نے حضرت اسامہ صکے لیے تین ہزار پانچ سو اور حضرت عبداﷲ بن عمرص کے لیے تین ہزار وظیفہ مقرر فرمایا ۔ حضرت ا بن عمرص اپنے والد ماجد کی خدمت میں عرض گزار ہوئے کہ آپ نے اسامہ کو کس وجہ سے ترجیح دی جبکہ خدا کی قسم! وہ کسی موقع پر مجھ سے سبقت نہیں لے جا سکے؟ فرمایا ،
چونکہ حضرت زید ص رسولُ اﷲ کو تمہارے والد سے زیادہ پیارے تھے اور خود اسامہ تمہاری نسبت رسول کریم ﷺ کو زیادہ محبوب تھے پس میں نے رسولُ اﷲ اکی محبت کو اپنی محبت پر ترجیح دی ہے۔ ()
109۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے نبی کریم ﷺ اسامہ کی ناک صاف کرنے لگے۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا عرض گزار ہوئیں ، یارسول اللہ ﷺ ! آپ چھوڑیں، میں صاف کردیتی ہوں ۔ ارشاد فرمایا،اے عائشہ ! اس سے محبت رکھو کیونکہ میں اس سے محبت رکھتا ہوں۔ ()
110۔ حضرت ابوموسیٰ صفرماتے ہیں کہ میں اور میرا بھائی یمن سے آئے تو ہم حضرت عبداللہ بن مسعود ص اور ان کی والدہ کو رسول کریم ﷺکے گھر کثرت سے آنے جانے اور آپ کے ساتھ رہنے کی وجہ سے یہ سمجھتے رہے کہ یہ رسولُ اللہ ا کے اہلِ بیت ہیں۔ ()
اہلبیتِ اطہار میں سے سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین ثاور بعض دیگر اہلبیت کرام کے فضائل و مناقب میں 151 احادیث پیش کرنے کے بعد اب ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کا ذکر کرتے ہیں۔
ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن
رسول کریم ﷺ کو دنیا سے جو چیزیں محبوب وپسندیدہ تھیں انہی میں سے ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن تھیں۔حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ صسے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺنے فرمایا، میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میں اہلِ جنت کے سوا کسی سے نکاح نہ کروں تو اللہ تعالیٰ نے میری دعا کو قبول فرما لیا۔()
حضور ااپنی ازواج مطہرات سے خود بھی حسنِ سلوک فرماتے تھے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جانا آپ کو محبوب تھا۔سیدہ اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے آقا ومولیٰ اکو اپنی ازواجِ مطہرات سے فرماتے ہوئے سنا، میرے بعد تم پر دل کھول کر خرچ کرنے والا سچا نیکوکار ہو گا۔ ()
اب ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کی شان میں چند آیات ملاحظہ فرمائیں۔
1۔یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ۔()
’’اے نبی کی بیبیو! تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو‘‘۔
اللہ تعالیٰ بے مثل ہے، اُس کا قرآن بے مثل ہے، اُس کا رسول ا بے مثل ہے اور اُس کے رسول ا کی ازواج بھی بے مثل ہیں۔ اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوا کہ ازواجِ مطہرات عام عورتوں کی طرح نہیں ہیں بلکہ اُن سے افضل اور بے مثل ہیں۔
صدرُ الافاضل رحمہ اللہ فرماتے ہیں،’’تمہارا مرتبہ سب سے زیادہ ہے اور تمہارا اَجر سب سے بڑھ کر ہے، جہان کی عورتوں میں کوئی تمہاری ہمسر نہیں‘‘۔ ()
Page 72 of 134

